ہائی کورٹ نے تو آئینہ دکھا دیا، لیکن دیکھے گا کون؟

ڈاکٹر کفیل کے سلسلہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کا تبصرہ اوراس سے پہلے تبلیغی جماعت کے سلسلہ میںبامبے ہائی کورٹ کا تبصرہ انصاف دشمنوں کیلئے سبق ہے

 

ڈاکٹر یامین انصاری ۔۔۔۔ صدائے دل

 ملک میں جس وقت انصاف دم توڑتا نظر آ رہا ہے، آئینی اداروںپر جب سوالیہ نشان لگ رہے ہیں، عدلیہ ، مقننہ ، جمہوری اداروں اور میڈیا کا کردار تقریباً بدل چکا ہے، ایسے میں کبھی کبھی یہاں سے تازہ ہوا کے جھونکے آجانے سے امید کی کرن روشن ہو جاتی ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کے اس دور میں اگر انصاف کی بات ہو، قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو،  تو یہ یقیناً ملک اور  جمہوریت کی بقا کے لئے خوش آئند ہے۔ پچھلے دنوں بابری مسجد کے سلسلہ میں جس طرح کا ’فیصلہ‘ سنایا گیا، اس نے انصافچاہنے والوں کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھینچ دیں۔اس کے بعد دہلی میں فسادات اور اس کے بعد ہونے والی یکطرفہ گرفتاریوں نے  اس پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے اور تحریک چلانے والوں کو بھی دہلی فساد میں ملوث قرار دے دیا گیا۔ کچھ کو گرفتار کر لیا گیا، کچھ کو ہراساں کیا گیا اور کچھ پر اب بھی گرفتاری اور ان کے ساتھ زیادتی کی تلوار لٹک رہیہے۔  ابھی یہ سلسلہ جاری ہیتھا کہ کورونا نامی وائرس کے ساتھ فرقہ واریت کا وائرس بہت تیزی سے ملک میں پھیلنے لگا۔ اس وائرس کا سب سے بڑاشکار تبلیغی جماعت ہوئی، اس وائرس نے بری طرح جماعت کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ نہ صرف فرقہ پرست اور شر پسند عناصر نے ان کو نشانہ بنایا، بلکہ سرکاری سطح پر تبلیغی جماعت کا نام لے کر کورونا کے اعداد و شمار پیش کئے جانے لگے۔ اس میں دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت بھی شامل تھی۔ پھر تبلیغی جماعت کے نام پر پورے ملک میں، خاص طور بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں مسلمانوں کو سر عام نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جانے لگا۔ ان سے خرید و فروخت نہ کرنے اور ان سے تعلق منقطع کر دینے کے بینر پوسٹر کھلے عام چسپاں کئے جانے لگے۔  یعنی ایک بار پھر انصاف کی امید دم توڑتی نظر آئی۔ حکومتوں کی سطح پر اس سلسلہ میں ذرہ برابر بھی کوئی ایسی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے ہلکی سی امید بھی باقی رہے۔ بلکہ کچھ جگہوں پر تو سرکاری سطح پر بہت سوچ سمجھ کر اور باقاعدہ فرقہ   بندی کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال اتر پردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت ہے۔سی اے اے، این آر سی مخالف احتجاج سے لے کر کورونا وائرس کے نام پر جو کارروائیاں کی گئیں، وہ سب کے سامنے ہے۔

اب الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل کے سلسلہ میں   جس طرح کا تبصرہ کیا ہے، وہ اس بات کا غماز ہے کہ یو پی حکومت نے ڈاکٹر کفیل یا ان جیسوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کی ہے۔  الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے اور انھیں رہا کیا جانا چاہئے۔ واضح ہو کہ حکومت نے انہیں شہریت ترمیمی  قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج میںتقریر کرنے پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا تھا۔ ابھی حال ہی میںاین ایس اے کے تحت ان کی جیل کی میعاد میں ایک بار پھر توسیع کی گئی تھی۔ حکومت کے اس فیصلے کو ایک عرصے سے چیلنج کیا جارہا تھا۔ ڈاکٹر کفیل خان کی سزا کے خلاف ملک و بیرون ملک مختلف سطحوں پر سماجی کارکنان آواز اٹھا رہے تھے۔ہائی کورٹ کا تبصرہ یو پی حکومت کو آئینہ دکھاتا ہے، اگر وہ دیکھنا چاہے تو۔ہائی کورٹ نے کہا: ’’پوری تقریر کو پڑھنے پر پہلی نظر میں نفرت یا تشدد کو ہوا  دینے کی کوشش نہیں لگتی ہے۔ اس میں علی گڑھ میں نقض امن کرنے کی دھمکی بھی نہیں لگتی ہے۔‘‘ عدالت نے کہا: ’’ایسا لگتا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ نے تقریر سے کچھ جملوں کا انتخابی طور پر مشاہدہ کیا اور اسی کا ذکر  کیا تھا ، جو اس کی اصل منشا کو نظرانداز کرتا ہے۔‘‘ گزشتہ ماہ۱۰؍ اگست کو الہ آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر کفیل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران اتر پردیش حکومت نے کہا تھا ،’’فروری ۲۰۲۰ء میں ڈاکٹر کفیل پر علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے این ایس اے  لگانے کی سفارش کی تھی اور این ایس اے کی مدت میں تین تین ماہ کی توسیع کی جاتی  رہی ہے۔ اب ریاستی حکومت نے محسوس کیا ہے کہ ملک  کی سلامتی کے لئے دوبارہ ایسا کرنا ضروری ہوگیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر کفیل کو امسال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلباء کے اجتماع میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں فروری میں ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ گزشتہ سال۱۳؍ دسمبر کو دائر پہلی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر خان نے یونیورسٹی میں پرامن ماحول اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس جلسہ میں مشہور سماجی مفکر یوگیندر یادو بھی موجود تھے اور انہوں نے باربار یہ کہا کہ ڈاکٹر کفیل نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا، جو ملک کی سلامتی ، سالمیت اور آئین کے خلاف ہو۔ اس سب کے بعد بھی یوپی حکومت نے ڈاکٹر کفیل پرقومی سلامتی ایکٹ لگا دیا اور اب تک اس کی معیاد میں دو بار توسیع بھی کر دی۔ ایسا لگتا ہے کہ یوگی حکومت کی  ڈاکٹر کفیل سے ذاتی پُر خاش ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ در اصل یوگی آدتیہ ناتھ کے آبائی ضلع گورکھپور میں آکسیجن کی کمی کا شکار ہونے والے بچوں کا کسی بھی قیمت پر علاج کرنے والے ڈاکٹر کفیل اترپردیش حکومت کی نظر میں اس ملک کی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گئے۔حالانکہ ڈاکٹر کفیل پر گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں۲۰۱۷ءمیں لاپرواہی ، بدعنوانی میں ملوث ہونے سمیت متعدد الزامات عائد کر کےحکومت نے جیل بھیج دیا تھا،لیکن بعد میں خود ہی سرکاری رپورٹ میں ڈاکٹر کفیل کو بے قصورپایا گیا اور حکومت نے انہیں کلین چٹ دے دی۔اور اب الہ آباد ہائی کورٹ نے انھیں فوراً رہا کرنے کا حکم دے کر ایک بار پھر یوگی حکومت کو جھٹکا دیا ہے۔

اسی طرح گزشتہ دنوں جب بامبے ہائی کورٹ نےتبلیغی جماعت کے سلسلہ میں تبصرہ کیا تو اسے بھی قانون کی بالادستی سے تعبیر کیا گیا اور حکومتوں کی منشا پر بھی سوال اٹھے۔ ہائی کورٹ نے میڈیا کے رویے پر بھی تنقید کی۔ عدالت نے کہا کہ ان غیر ملکیوں کے خلاف عملی طور پر ظلم و ستم ہوا ہے۔جب ایک وبائی بیماری یا کوئی آفت آتی ہے تو ایک سیاسی حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ افراد غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی سے توبہ کریں اور اس طرح کے اقدام سے ہونے والے نقصان کی اصلاح کیلئے مثبت قدم اٹھائیں ۔بامبے ہائی کورٹ نے کل ۲۹؍ غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا۔ میڈیا کی جانب سے تبلیغی جماعت میں شرکت کرنے والے غیر ملکی شہریوں اور ادارے کی شبیہ خراب کرنے پر جسٹس نلواڑے نے میڈیا کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرکز دہلی آنے والے غیر ملکیوں کے خلاف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں بہت بڑا پروپیگنڈا ہوا تھا اور ان کی ایسی شبیہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہندوستان میں کووڈ۔۱۹؍ پھیلانے کے یہ غیر ملکی ذمہ دار ہیں ۔ان غیر ملکیوں کے خلاف عملی طور پر ظلم و ستم ہوا ہے۔‘‘ 

بہر حال، جب دہلی فسادات کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر نے جب بی جے پی لیڈران کو کٹہرے میں کھڑا کیا تو راتوں رات ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔اس کے بعد انصاف پسند لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے  خدشات اور تحفظات گھر کرنے لگے تھے۔ لیکن حال ہی میں بامبے ہائی کورٹ اور اب الہ آباد ہائی کورٹ کے تبصروں نے نہ صرف حکومتوں کو آئینہ دکھایا ہے، بلکہ انصاف کی امید کو بھی برقرار رکھا ہے۔ اس سے یہ  بھی ثابت ہوا ہے کہ سرکاری سطح پر مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ ہندوستان کی جمہوری اقدارو روایات کو برقرار رکھنا ہے تو کم از کم حکومتوں کو اپنی آنکھوں سے فرقہ پرستی کا چشمہ اتار کر پھینکنا ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ فاضل عدالتیں(بامبے ہائی کورٹ اور الہ آباد ہائی کورٹ کے تبصروں کی روشنی میں) حکومتوں کو جوابدہ بنائیں اور قصوروارںکوقانون کے دائرے میں لائیں۔ 

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

0 comments

Leave a Reply