ڈاکٹر اے پی اے عبدالکلام محلہ لائبریری میں منایاگیا یومِ اساتذہ

ڈاکٹررادھاکرشنن کے ساتھ،ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام،مہاتماجیوتی باپھلے،ساوتری بائی،فاطمہ شیخ،سرسید احمد خان کوبھی یاد کیاگیا۔


اورنگ آبا5/ ستمبر : سابق صدر جمہوریہ اور ملک کے عظیم استاذ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کو آج ان کی یومِِ پیدائش پر جو یومِ اساتذہ کے طور پر منایاجاتاہے مریم مرزا محلہ محلہ لائبریری کے تحت بھارت رتن سابق صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام محلہ لائبریری کے ممبر بچوں نے آج تقریر،تحریر اور مضمون خوانیکر یومِ اساتذہ منایا۔ریڈاینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام یہ پروگرام منعقد کیاگیاتھا۔

مرزا مریم جمیلہ نے پروگرام کے ابتداء آج کی دن کی اہمیت اور کیوں مناتے ہے اس پرتفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہمارے ملک میں ہر سال 5/ ستمبرکو ’یومِ اساتذہ منایاجاتاہے، ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن ایک عظیم استاذکے ساتھ وہ ایک عظیم اسکالر،فلاسفراور ہمارے ملک کے صدر تھے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ 1965سے ڈاکٹر سروپلی کے ساگردوں کی جانب سے شروع ہوا تھا۔ کویڈ 19کے سبب گزشتہ دوسال سے تمام اسکول بندہے اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیاکہ ریڈاینڈلیڈ فاؤنڈیشن کے تحت جاری 16لائبریریوں میں یومِ اساتذہ منایاجائے اس لیے ہم نے لائبریری کے ممبر بچوں کے لیے تقریری،تحریری اور مضمون خوانی کا مقابلہ رکھاتھاجس میں بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پروگرام میں موجود سرپرستوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے مشن مریم مرزا محلہ محلہ لائبریری کا تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ سال رواں کے شروعات 8/جنوری کو اورنگ آباد شہرمیں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام محلہ لائبریری کے نام سے پہلی لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔۔

محلہ لائبریریاں ایسے علاقوں محلوں میں قائم کی جارہی ہیں جہاں غریب،مزدور پیشہ طبقہ زیادہ رہتا ہے جہاں کے بچوں کو درسی کتابوں کے علاوہ غیر درسی کتابیں پڑھنے اور دیکھنے کو بہت کم ملتی ہیں انہوں سرپرستوں سے درخواست کی کہ وہ پابندی سے اپنے بچوں کو لائبریریوں میں کتابیں لینے کے بھیجے اور خود بھی گھروں میں مطالعہ کریں۔ جلسہ کی صدارت امان اللہ موتی والا ہائی اسکول کے صدر مدرس خان جمیل احمد نے فرمائی۔انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں طلباء اور سرپرستوں کی توجہ مطالعہ کی طرف راغب کرتے ہوئے مریم مرزا کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ کس طرح مریم نے آٹھ ماہ قبل اپنے گھرسے شہرکی پہلی بچو ں کے لیے محلہ لائبریری شروع کی تھی جو آٹھ ماہ میں 16ہوگئی ہیں۔

 
تقریری،تحریری اور مضمون خوانی مقابلہ میں کامیاب ہونے والے بچوں کو نقد انعامات اور کتابوں سے نوازا گیا۔ یہ مقابلہ تین زبانوں میں منعقد کیے گئے تھے،اردو،مراٹھی اور انگریزی۔شافعہ کوثر نے اردو میں بہترین انداز میں تقریر کرتے ہوئے انعام اول حاصل کیا۔ انعام دوم دو بچوں کو دیاگیا خان صالحہ (مراٹھی)حریہ زرین(اردو)جبکہ انعام سوم مہک جاوید کوانگریزی میں بہترین مضمون پڑھنے پر دیاگیا۔انعام چہارم سپنا شیڑکے کو دیاگیا۔ پروگرام میں معاذ فیاض پٹھان،مزمل پٹھان اور شیخ توصیف شیخ امین نے ”مجھے دشمن کے بچوں کو بڑھانا ہے“کے عنوان بہترین نظم پیش کی انہیں بھی انعام سے نوازا گیا۔انعامات میں نقدرقم کے ساتھ ماہنامہ بچوں کی دنیا،سہ ماہی سائنس کی دنیا،مراٹھی ماہنامہ کشوراورروزنامہ انقلاب تعلیمی شمارہ کے علاو دیگر کتابیں دی گئیں۔ پروگرام کی نظامت مرزا مریم جمیلہ نے کی جبکہ پروگرام کو کامیاب بنانے اور بچوں کو تیار کرانے میں مرزانشاط ترنم محنت کی۔ شکریہ مرزا ابوالحسن علی نے ادا کیا۔ 

 

0 comments

Leave a Reply