وبائی کلاس روم کی علامتی نقاب کشائی نے تعلیم کی بحالی میں مدد کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا
یونیسیف اور شراکت داروں نے قومی یوم اطفال سے عالمی یوم اطفال تک بچوں کے حقوق کے ہفتہ کا آغاز کیا
نئی دہلی: 14 نومبر 2021 - 20 نومبر کو عالمی یوم اطفال تک چلنے والے پروگراموں کی سیریز میں آج بھارت میں یوم اطفال کے موقع پر یونیسیف انڈیا نے ساکیت نئی دہلی سلیکٹ سٹی واک میں آؤٹ ڈور ایمفی تھیٹر میں ایک علامتی "ایپیڈیمک کلاس روم" کا اہتمام کیا ۔
ان لاکھوں چھوٹے بچوں کی حالت زار کی طرف فوری توجہ مبذول کرانے کے لیے میزوں اور کرسیوں کی خالی قطاریں لگائی گئیں جو بچے وبا ئی بحران کی وجہ اسکول بند ہونے کے سبب ایک سال سے زیادہ وقت تک اسکول نہیں جا سکے اور نتیجتا تعلیم کے ہونے والے نقصان کا احساس کیا ۔
مسٹر یاسوماسا کیمورا، یونیسیف کے انڈیا نمائندے اور دو نوعمروں نے اسکول کی گھنٹی بجا کر وبائی امراض کے کلاس روم کی نقاب کشائی کی ۔ ممتاز ماہر تعلیم، وینیتا کول، پروفیسر ایمریٹس، ابتدائی بچپن کی تعلیم، امبیڈکر یونیورسٹی اس پروگرام کی کلیدی مقرر تھیں۔ مشہور اداکارہ یونیسیف کی برانڈ ایمبیسڈر محترمہ کرینہ کپور خان نے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور تدریسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کے لیے اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا ۔
وبائی امراض کی کلاسیں 14 نومبر (ہندوستان کے یوم اطفال) سے 20 نومبر 2021 (بچوں کے عالمی دن) تک ایک ہفتے کے لیے دکھائی جائیں گی۔
صحت کا بحران جو وبائی مرض کی وجہ سے شروع ہوا وہ اسکولوں کی بندش کے ساتھ تیزی سے تدریسی بحران میں بدل گیا ۔ اس سے نہ صرف تعلیم بلکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثرمرتب ہوا۔ آن لائن تعلیم ہی واحد ذریعہ بن گئی، جبکہ بہت سے بچے کنیکٹیویٹی مسائل کی وجہ سے پیچھے چھوٹ گئے ہیں ۔ 2020 میں چھ ریاستوں - آسام، بہار، مدھیہ پردیش، کیرالہ، گجرات اور اتر پردیش میں کیے گئے یونیسیف کے جائزے کے مطابق، 5-13 سال کی عمر کے بچوں کے 76 فیصد والدین اور 14-18 سال کی عمر کے 80 فیصد نوعمروں نے بتایا کہ پہلے اسکول جانے کے مقابلے میں تعلیم کا نقصان ہوا ہے ۔
"اس علامتی وبائی کلاس روم میں ہر خالی میز ان لاکھوں بچوں کے لیے وقف ہے جنہوں نے تدریس کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ، ہر وہ بچہ جو تعلیم سے محروم رہتا ہے اپنی نشوونما میں اور پیچھڑ جاتا ہے اورکئی بچے کبھی اسکول نہیں لوٹ پائیں گے ۔ یونیسیف انڈیا کے نمائندے مسٹر یاسوماسا کیمورا نے کہا، "بدقسمتی سے سب سے زیادہ پسماندہ گروہوں کے بچے اسکول بند ہونے کی سب سے بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور کئی تو پڑھنا اور لکھنا بھی بھول گئے ہیں۔ ایک پوری نسل کا مستقبل داؤ پر ہے۔ ہم والدین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسکول انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ مل کر اسکولوں کو محفوظ طریقے سے کھولنے اور تمام بچوں تک پہنچنے اور فائدہ پہونچانے کے لیے تعلیم کے بحالی پروگرام کی حمایت کریں۔ ہم میں سے ہر ایک کو بھارت میں بچوں کے لیےتعلیم کی بحالی اور مواقع کو بہتر بنانے میں کردار نبھانا ہے۔
پچھلے سال سے وبائی امراض کی لہروں کی وجہ سے بیشتر اسکول کئی بار بند اور دوبارہ کھولے گئے ۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 24.7 کروڑ بچے ایک سال سے زیادہ وقت تک اسکول نہیں جا سکے۔ اس دوران تقریباً 15 لاکھ اسکول اور 14 لاکھ ای سی ڈی/ آنگن واڑی مراکز بند رہے۔ لاکھوں بچے گرم پکے ہوئے مڈ ڈے میل سے بھی محروم رہ گئے ۔ بچے جتنے زیادہ وقت تک اسکول سے باہر رہتے ہیں، ان کے واپس آنے کے امکانات اتنا ہی کم ہوتے ہیں۔ اور ان کی شادی یا قبل ازوقت کام میں لگ جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سماجی جذباتی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے جس کے ساتھ بچے خاص طور پر چھوٹی کلاسوں، پری پرائمری اور پرائمری اسکول میں آئیں گے ۔ پروفیسر وینیتا کول نے کہا، "کئی بچوں ، خاص طور پر سب سے چھوٹے بچوں کا اسکول کوکوئی تجربہ نہیں ہوتا ہے اور انہیں نئے سرے سے شروع کرنے کے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دوسروں نے نہ صرف ان مہارتیں کھو دی ہیں جو انہوں نے سیکھی ہیں، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسکول کی تعلیم کے لیے اہم مزاج اور عادات کو بھی، جیسے کسی کام پر توجہ مرکوز کرنا، ضروری اوقات کے لیے میز پر بیٹھنا اور نئے لوگوں سے تعلق قائم کرنا۔ بچوں کو سیکھنے کے لیے مہارت سے متعلق کام دے کر، ضروری نہیں کہ نصابی کتابوں سے، بلکہ ان کے اپنے گھریلو تجربات سے، ہم بچوں کو جذباتی طور پر 'اسکول واپس آنے' میں اور جو کچھ سیکھ رہے ہیں اس کو پرلطف طریقے سے سمجھنے میں مدد کر سکتے َ" ۔
یونیسیف کی سفیر محترمہ کرینہ کپور خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، "ہر بچے کے لیے سیکھنا اور تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔ اب جب کہ پورے ملک میں بہت سے اسکول دوبارہ کھل رہے ہیں، ہمیں خوشی ہونی چاہیے کہ بچے دوبارہ واپس آگئے ہیں۔ کچھ سیکھ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ مستی کر رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ بچوں کو آن لائن تعلیم تک رسائی نہیں تھی ۔ اساتذہ، والدین اور بہت سے دوسرے لوگوں کی مدد سے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں ۔ پھر بھی ہو سکتا ہے کہ بچوں سے بہت کچھ چھوٹ گیا ہو جسے وہ پورا کرلیں گے اور یہ ضرور ہو گا، آئیے ہم سب مل کر انہیں محفوظ اور بے خوف ماحول فراہم کریں۔ جس سے انہیں تعلیم مدد ملے ۔ آئیے کوڈ کے متعلق مناسب رویہ پر عمل کرتے ہوئے جس میں ماسک پہننا صابن سے ہاتھ دھونا اورجسمانی دوری شامل ہے اپنے بچوں کو واپس اسکول بھیجنے کے اتھ شروع کریں ۔

0 comments