سيد قطب شہيد اور عربى سفارتكار – فاتح كون رہا ؟
عماره رضوان
جامعہ سينئير سيكنڈرى اسكول – نئى دہلى
" ايك دن سيدقطب نے مجھے فون كيا اور عليك سليك كے بعد فورا كہا كہ ميں فورى طور پر ان سے ملنے ان كے گهر پہونچ جاؤں اور بہت ہى جھجھكتے ہوئے كہا كہ مجھے پندره ، بيس جنيه ( مصرى كرنسى ) كى دوا كےلئے اشد ضرورت ہے ، كيا تم مجھے كچھ دنوں كے لئے بطور قرض دے سكتے ہو ، سيد قطب ان دنوں بيمار تهے ليكن ان كے پاس دوا تك خريدنے كے لئے پيسے نہيں تهے
ميں فوراً اپنے گهر كى طرف بهاگا اور جيب ميں مطلوبہ رقم ركهى اور سيد قطب كے گهر كى طرف چل پڑا جب ميں ان كے گهر پہونچا اور ڈائننگ روم ميں داخل ہوا تو كيا ديكهتا ہوں كہ سيد قطب اس كمر ے ميں كرسى پر بيٹهے ہيں اور ان كے پہلو ميں ايك ايسے ملك كا سفارتكار بهى ہے جوپٹرول كى دولت سے مالا مال ہے ، اس كے ہاتھ ميں ايك بريف كيس ہے جو نوٹوں سے بهرا ہوا ہے جس ميں كئى ہزار جنيه ضرور رہے ہوں گے
وه سفارتكار بارباربڑى لجاجت سےسيد قطب سے اصرار كررہاہے كہ وه اس بريف كيس كو لے ليں ، يہ ہمارى حكومت كى طرف سے ادنى ساتحفہ ہے ،ہميں آپ كى قدر ومنزلت كا ادراك ہے اور آپكى خدمات كا اعتراف بهى ، ہمارى خواہش ہے كہ اس كے ذريعے آپ زندگى كے دوسرے جھميلوں سے بے فكر ہو كر مكمل يكسوئى سے اپنے فكرى وادبى محاذ پر توجہ ديں – سيد قطب اس وقت ايك علمى وفكر ى واصلاحى مجلہ كونكالنے كے لئے سرگرداں تهے
ميں سيد قطب كو ديكهے جارہا تها جو اپنى كرسى پر دراز تهے ،چہرے سے مرض كا كرب صاف ظاہر تها ليكن پهر ميں كيا ديكهتا ہوں كہ سيد كے چہرے كا رنگ اس وقت غصہ سے متغير ہوگيا ہے اور سيد نے بڑى قوت او ر سختى سے اس سفارتكار كو مخاطب كيا ، " ميں اپنے ضمير اور فكر كا سودا كرنے والا نہيں ،تم اپنے پيسے اپنے بيگ ميں ڈال لو "
پهر سيد قطب ميرى طرف متوجہ ہوئے اور كہا - " كيا تم وه لے كرآئے ہو جو ميں نے تم سے طلب كيا تها "
ميں نے كہا - " ہاں ، اور ان كى طرف لفافہ بڑها ديا ، ميرى حالت تو بالكل غير تهى ، ميں تو كسى اور دنيا ميں تها – حيرت و استعجاب كى دنيا ميں
يہ منظر وه سفارتكا ر بهى ديكھ رہا تها ، جب اسے اس لفافہ كى حقيقت كا علم ہوا تو اس نے بهى دانتوں تلے انگلياں دبا ليں ، اور اسے پتہ چلا كہ سيد قطب تو بالكل فقير ہے ، اس كے پاس تو اپنے لئے دوا خريدنے كے بهى پيسے نہيں ہيں اس كے باوجود اس نے ہزاروں جنيه كو ٹهوكر ماردى اور اس كو لينے سے انكار كر ديا حالانكہ سيد كو اس مبلغ كى زيادہ ضرورت تهى
يہ تهے سيد قطب – جن كے پيچھے دنيا دوڑ كرآتى ہے اور وه اسے ٹھوكر مار ديتے ہيں
يہ تهے سيد قطب- جن كے آستانے پر شاہان سرجھكاتے تهے مگر وه ان كو خاطر ميں نہ لاتے تهے
يہ تهے سيد قطب – جنہوں نے زہد واستغناء كو اپنا وسيلہ حيات بنا لياتها اور حرص و طمع كو اپنے پاس پهٹكنے نہ ديا
اس واقعے كو بيان كيا ہے استاذ احمد عبد الغفور نے جو بيسويں صدى ميں سعودى عرب كے ايك بہت مشہور ومعروف شاعر ، اديب اور صحافى گزرے ہيں ، ملك فيصل- رحمه الله- سے بہت قريبى تعلقات تهے ، مشہور سعودى اخبار "عكاظ" كو آپ نے ہى جارى كيا تها ، صہيونيت اور ماسونيت پر آپ اتهارٹى كى حيثيت سے جانے جاتے تهے

0 comments