جس دن منوج شکلا نے اپنے گھر پر'منوج منتشر' نام کی تختی لگائی ' گھر میں سنا ٹا چھا گیا تھا

منوج بتاتے ہیں منوج شکلا سے نغمہ نگارمنوج 'منتشر' بننے کی کہانی اتنی تکلیف دہ ہوگی ایسا خوابوں میں بھی سوچا نہ تھا

 

اشرف علی بستوی ، نئی دہلی

  پہلے یہ چند باتیں

  یہ مضمون  نغمہ نگار 'منوج منتشر' کے ایک ویڈیو انٹرویو پر مبنی ہے.اسے یہاں پبلش کرنے کا اصل مقصد منوج کی زندگی کی جدوجہد کو منظر عام پر لانا ہے جو انہوں نے کی اور سبھی چیلنجوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ، انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ، یہ مضمون نئی نسل  کو ان کی ترقی کے سفر میں حوصلہ بنائے رکھنے کا حوصلہ دینے والا ان کے سفر کو آگے لے جانے میں  معاون ہو سکتا ہے، اگر کوئی ایک نوجوان بھی منوج کے جذ بہ جدوجہد کو اپنا کر کامیاب ہوتا ہے یہ ہمارے لیے باعث اطمینان ہوگا ۔ شکریہ

آپ نے جدوجہد کی درجنوں داستانیں پڑھی اور سنی ہوں گیں اور یوٹیوب پر دیکھا بھی ہوگا ، سبھوں کو مشکل دنوں کاسامنا کرنا پڑا شدید مالی مشکلات کا سامنا کیا ، فٹ پاتھ پر راتیں گزاریں  ،کئی کئی دنوں تک پارلے جی پرگزر کیا یہ باتیں لگ بھگ سبھی کی کہانی میں مشترک رہی ہے لیکن با لاخر ایک دن آیا کہ کامیاب ہونے والے کے عزم کے سامنے برے دنوں نے تھک ہار کر اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا ۔

Image may contain: 2 people, people sitting and indoor

معروف اینکر ریچا انیرودھ کے ساتھ  خصوصی انٹرویو میں محو گفتگو منوج منتشر 

شدید مالی مشکلات کا سامنا ، فٹ پاتھ پر سونا ،کئی کئی دنوں تک پارلے جی پرگزر بالی وڈ کے نغمہ نگار منوج  منتشر کے سامنے یہ سبھی مسائل منوج منتشر کے سامنے بھی کھڑے ہوئے لیکن منوج کے عزم مصمم کو متزلزل نہ کرسکے منوج نے بلند ہمتی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ، ترقی کا یہ امتحان  دوسروں سے کہیں زیادہ زیادہ سخت اور طویل کیسے تھا ، اس کا ذکرآگے چل کر اسی تحریر کے کسی حصے میں ضرور ملے گا  وہ  واقعہ آپ کو بے چین کر دے گا کہ ایک انسان کو ترقی کے لیے کیا کیا قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔ یہ سبق آموزکہانی ہےبالی وڈ کو کئی کامیاب نغمہ دینے والے درجنوں ایوارڈ پاچکے اترپردیش کے امیٹھی شہرسے تعلق رکھنے والے نغمہ نگار منوج 'منتشر' کی ۔  

 منوج  نے یہ ثابت کر دکھایا کہ  

قدم چوم لیتی ہے خود بڑھ کر منزل 

مسافر اگر اپنی ہمت نہ ہارے  

 

कलम का बाहुबली - Manoj Muntashir Dil Se (Part-1) - #ZindagiWithRicha

مسجد کے امام صاحب سے اردو پڑھنے کی ضد

ایک دن منوج اپنے والد کا سوٹ کیس کھول کر کچھ تلاش کر رہے تھے کہ انہیں  دیوان غالب ک ایک نسخہ ملا اسے سمجھ کر پڑھنے کی خواہش انہیں مسجد کے امام صاحب تک لے گئی ،امام صاحب سے اردو پڑھانے کی درخواست کی ،امام صاحب نے پنڈت جی کے خوف سے منوج کو سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیا ، منوج بار بار ضد کرتے اخر کار ایک دن مولوی صاحب نے وہ جگہ بتا ہی دی جہاں اردو کا قاعدہ ملتا تھا ۔  منوج قاعدہ  گھر لے آئے اور الماری میں رکھ دیا ،کئی دن گزر گیا قاعدے کا نمبر نہیں آیا پھرایک روز بارھویں کے امتحان سے فارغ  ہوکراردو پڑھنے میں لگ گئےاور ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں میں نے اردو سیکھ لی ۔

جس دن منوج شکلا  نے اپنے گھر پر 'منوج منتشر ' نام کی تختی لگائی ' گھر میں سنا ٹا چھا گیا 

کامیابی کا یہ سفر منوج کے لیے آسان نہ تھا والد جو پیشے سے پروہت تھے اپنے اکلوتے صاحبزادے منوج شکلا کو ڈاکٹربنانا چاہتے تھے لیکن منوج شکلا کو تو فلموں میں گانے لکھنے کی دھن سوار تھی اور بہت کم عمری میں ہی منوج کچھ کچھ کہنے لگ گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس کے طالب علم کو ادب میں دلچسپی بڑھی جارہی تھی ، اب انہوں نے باقاعدہ شاعری کرنی شروع کر دی تھی اور اپنا تخلص 'منتشر' منتخب کر لیا تھا ۔  بس یہیں سے ان کا امتحان شروع ہوگیا ۔

 

मनोज शुक्ला से 'मनोज मुंतशिर' बनने की कहानी - (Part 2) - #Zindagi_With_Richa

جس دن منوج شکلا  نے اپنے گھر پر 'منوج منتشر ' نام کی تختی لگائی ' گھر میں سنا ٹا چھا گیا۔'منتشر' دیکھتے ہی والد صاحب بہت افسردہ ہوگئے، اپنے اکلوتے صاحبزادے کے مستقبل کے لیے انہوں نے جو خواب دیکھے تھے وہ ان کی نظروں کے سامنے 'منتشر' پڑا تھا ۔ منوج بتاتے ہیں کہ تین دن تک گھر میں سناٹاچھایا رہا ، وہ  اپنی والدہ کو یقین دلاتے رہے کہ امی میں اب بھی داخلی اور خارجی طور پر وہی منوج شکلا ہی ہوں بس میں نے اپنا قلمی نام 'منتشر' رکھ لیا ہے یقین جانیں ، کچھ بھی نہیں بدلا ہوں ۔ معاملے کو سمجھنے کے بعد والدہ نے حالات کو سنبھلا تب جا کر پنڈت جی کے جان میں جان آئی ۔ غالبا وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹے نے مذہب تبدیل کرلیا ہے یا تبدیلی کی راہ پر گامزن ہے ۔

کالیج میں پہلا عشق کا ناکام ہونا اورمحبوبہ کا اپنے خطوط واپس لوٹا دینے کی ضد کرنا

کالیج میں پہلا عشق کا ناکام ہوجانا ،ؐ محبوبہ کا اپنے خطوط واپس لوٹا دینے کی ضد کرنا ،اس کرب سے گزرکر زندگی کو پٹری پرلانا اور پھروالدین کے مشورے سے  شادی کے لیے تیار ہونا اور پھر شادی سے پندرہ روز قبل اچانک لڑکی والوں کا یہ کہتے ہوئے شادی سے انکار کر دینا کہ ہم نے تو سمجھا تھاکہ لڑکا پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گا یہ توکہتا ہے کہ فلموں میں گانے لکھوں گا یہ شعرو شاعری ہمیں قطعی منظور نہیں ۔ منوج کی شادی ٹوٹنے کے بعد صدمے میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا جب منوج منتشر کو ہفتوں اپنی خبر نہیں رہی وہ گھر سے باہر بھی نہیں نکلتے تھے ۔ سماج سے تعلق ختم سا ہوگیا تھا ایسے مشکل دور میں منوج کو جینے کا حوصلہ دینے والی اکیلی نیلم تھیں جو بعد میں ان کی زندگی میں شریک حیات بن کر آئیں اورمنوج کا زندگی کی دھوپ چھاوں میں ہر لمحہ جم کر ساتھ دیا ۔

پے درپے زخموں سے منوج کا وجود پوری طرح 'منتشر'  ہوچکا تھا 

پے درپے زخموں سے منوج کا وجود پوری طرح 'منتشر'  ہوچکا تھا ۔ لیکن حواس اب بھی باقی تھے آنکھوں میں نغمہ نگار بننے کا خواب سجائےممبئی نگری آپہونچے۔ منوج منتشر کا اصل امتحان اب یہاں شروع ہوتا ہے ، منوج نے معروف اینکر 'ریچا انیرودھ' کے مشہور شو  'زندگی وتھ رچا' میں جو داستان سنائی ہے وہ ہر اس نوجوان کے لیے تاریک راہوں میں روشن چراغ کے مانند ہے جو اپنے خوابوں کی تکمیل کے سفر میں بھٹک جاتے ہیں یا آزمائشوں کی تاب نہ لاکرحوصلہ چھوڑ دیتے ہیں ۔

یہاں سے آزمائشوں کا لامتناہی دورشروع ہوا

 منوج منتشر کا باقاعدہ سفر 1999 سے شروع ہوتا ہے ، آزمائشوں کا ایک لامتناہی دور شروع ہوتا ہے۔ جب لوگ ان سے یہ کہتے کہ 'بھیا'  یہ ممبئی ہے یہاں تم جیسے بہت لوگ آتے ہیں ان میں سے کتنے کامیاب ہوتے ہیں؟ منوج  کہتے 'اے ممبئی میں تجھ سے کچھ لینے نہیں بلکہ تجھے کچھ دینے آیا ہوں ' منوج کو کامل یقین تھا کہ میں ضرور کامیاب ہوں گا ہاں دیر لگ سکتی ہے اس کے لیے تیار ہوں ۔

فٹ پاتھ کی زندگی کے اپنے مزے تھے 

 منوج بتاتے ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ فٹ پاتھ پر بھکاریوں اور ریہڑی والوں کے ساتھ گزارا منوج کی درجنوں شام انہی کے ساتھ گزری لیکن وہ کبھی بھوکے نہیں سوئے ۔ فٹ پاتھ پر زندگی مزے کی تھی ہر کوئی ان کو چاہنے لگا تھا رات کی تھکان اتارنے کے لیے وہ لوگ مجھ سے کویتائیں اور قصے سنتے اور خوش ہوتے ،شام کو میری خوب آوبھگت ہوتی ۔

دسترخوان سجا لیکن انہوں نے ہماری پلیٹ نہیں لگائی  

دن گزرتے رہے کہ اسی درمیان منوج کو کہیں کوئی کام ملا جس میں آمدنی ٹھیک ٹھاک ملنے کی امید تھی سوچا اب اہلیہ نیلم کو بھی ممبئی بلا لیا جائے ،نیز نیلم منتشر بھی ممبئی آپہونچیں خرچ بڑھ گیا اور اب یہ کام بھی جاتا رہا ، معاشی مسائل پاوں پسارنے لگے ،اب اس جوڑے کو کئی کئی روز صرف پارلے جی بسکٹ اور پانی پر اکتفا کرنا پڑتا دال کیسی ہوتی ہے روٹی کی خوشبو ملے ہفتوں بیت جاتے، اسی درمیان ایک روز بھوک سے نڈھال دونوں میاں بیوی نے مشورہ کیا کہ غوری گنج کے فلاں صاحب یہیں پاس میں رہتے ہیں آج شام کے کھانے کے وقت ان کےیہاں چلتے ہیں ،جب ایسے وقت پہونچیں گے تو کھانا تو مل ہی جائے گا ۔ منوج کا یہ آئیڈیا بالکل درست تھا یہ وہاں پہونچے کچھ دیر بعد کھانا لگا لیکن منوج اور ان کے اہلیہ کی پلیٹ نہیں لگی انہیں دسترخوان پر نہیں بلایا گیا بیچارے میاں بیوی بھوکے واپس اپنی کھولی پر آگئے ۔

چائے کے پاوچ میں سونے کا سکہ

 منوج منتشر چائے کے شوقین ٹھہرے ایک روزکا واقعہ بتاتے ہیں کہ کئی روز سے کچھ نہیں تھا جیب میں  بمشکل سات روپئے نکلے باہر نکلا 100 گرام دودھ اور چائے کا ایک چھوٹا سا پاوچ لیا گھر آگیا ، نیلم نے چائے بنانے کے لیے پاوچ کھولا تو اس میں سونے کا سکہ نکلا جسے دیکھ خوشی سے ہم نیم پاگل سے ہوگئے ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا ، خیر ہم ڈرتے ڈرتے بازارمیں سونار کے پاس پہونچے اسے دیا اس نے ہمیں1700 روپئے دیے ۔ اس دن ہم نے جو جشن منایا تھا ویسا جشن آج تک نہیں منایا ۔

 معروف گلوکارانوپ جلوٹا سے ملاقات

 منوج بتاتے ہیں کہ ہر وقت کام پانے کی دھن نے مجھے بےحال کردیا تھا ،ایک روز میں باندرہ میں تھا میرے پاس ایک ڈائریکٹری تھی جس میں اہم شخصیات کے نام و پتے تھے ، میں نے دیکھا یہاں آس پاس کون ہے 'انوپ جلوٹا' کا پتہ ملا اور میں پیدل نکل پڑا ان کے یہاں پہونچا کسی طرح مینیجر کو سمجھا بجھا کر ملنے کا وقت لے لیا بولا کہیے نا کہ میں امیٹھی سےآیا ہوں ۔ لیکن پھر مجھے اچانک خیال آیا ارے میں یہاں کہا ں آگیا یہ تو بھجن گلوکار ہیں میں تو فلمی گانے لکھتا ہوں بھجن توکبھی لکھا نہیں اب کیا کروں ، تب تک مجھے بلا لیا گیا ۔ خیر اندر پہونچا انہوں نے حال دریافت کیا پوچھا کیا لکھتے ہو ؟ بھجن لکھ سکتے ہو ،کچھ لکھو ایک ہاتھ میں چائے اوردوسرے میں قلم اس وقت کی حالت کو بیان نہیں کر سکتا کتنا ذہنی دباو تھا مجھ پرجو کچھ سمجھ آیا لکھا جب ان کے حوالے کیا تو انہوں کہا اچھا اور کچھ لکھو پھر لکھا مجھے اندر سے ڈر لگا تھا کہ اب مجھے کہیں گے نکلو یہاں سے ، لیکن قربان جاوں جلوٹا صاحب کی محبت پرکہا تمہارا اکاونٹ ہے میں ہکا بکا رہ گیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں کہنے لگے اگر نہیں ہے تو یہ چیک لو اورسیدھے بینک جاو اور کیش کرالو یہ 3000 ہزار روپئے کا چیک تھا سرپٹ بھاگتے ہوئے پاس کے بینک پہونچا پیسے لیے اب میں خوشی سے پاگل ہوچکا تھا۔  آج تک مجھے سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے مجھے کس بات کے پیسے دیے تھے ۔ اب جب بھی اس دن کو یاد دلاتے ہوئے جلوٹا جی سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے مجھے کس بات کے پیسے دیے تھے وہ مسکرا کر ٹال دیتے ہیں ۔ 

اس دن ہم دونوں بہت روئے تھے

 ایک دن مجھے ایک میٹنگ میں جانا تھا پرانے کپڑوں کی مارکیٹ سے ایک عدد سیکینڈ ہینڈ جوڑے اور جوتے کا انتظام کر لیا تھا ، ملنے والے صاحب کے دفتر سے وقت بھی مل گیا تھا۔ گھر سے جب نکلا تو اس دن بارش ذرا کچھ زیادہ ہی ہو رہی تھی  وقت پر پہونچنے کی جلدی میں بھیگتے ہوئے جیسے تیسے ان کے دفتر پہونچا گیٹ پر کھڑے گارڈ نے بری طرح ڈانٹ کر بھگا دیا،  میں کہتا رہا کہ میں نے وقت لیا ہے تھوڑی دیر کی ہی تو بات ہے مل لینے دیں لیکن اس نے آفس میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ اس دن میں اور نیلم ہم دونوں بہت روئے تھے ۔

خدا ایسی آزمائش کسی کی نہ کرے

 سنگھرش کے دنوں میں  ایسا برادن میں نے تصور میں بھی سوچا نہیں تھا۔  ہوا یہ کہ ایک روز فٹ پاتھ پر رہتے ہوئے یہ خیال آیا کہ اپنے یہاں کے ایک کنٹریکٹر یہی پاس میں تو رہتے ہیں ان کے پاس چل کر دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی جگہ سونے کی مل جائے۔ انہوں نے اپنی کھولی پر ایک جگہ بتا دی کہ یہیں سوجایا کرو میں اب فٹ پاتھ سے وہاں شفٹ ہو گیا ، وہ دیر رات تلک وقت ڈانس بارمیں گزارتے اور شراب نوشی کرکے گرتے پڑتے گھرپہونچتے ۔ ایک دن میں گہری نیند میں تھا رات کے قریب تین بج رہے ہوں گے کہ میرے چہرے پر گرم گرم محسوس ہوا اچانک اٹھا تو دیکھا وہی صاحب میرے اوپر پیشاب کر رہے تھے میں پریشان ہو گیا اور رونے لگ گیا کہ یا خدا یہ کیا ہورہا ہے ۔ اگلے دن طے کیا کہ اب اس شہر میں میرے لیے جگہ نہیں رہ گئی ہے، منوج نکل لو یہاں سے  یہ شہر مجھ پر پیشاب کر رہا ہے اس سے بڑی ذلت اور کیا ہوگی ۔ لیکن پھر ساتھ ہی اس فٹ پاتھ کا خیال آیا کہ نہیں وہ لوگ تو مجھے چاہتے ہیں میں ہی ان کاساتھ چھوڑ کر چلا گیا تھا پھر ارادہ بدلا اور فٹ پاتھ پر واپس بستر لگنے لگا ۔ 

ہم آپ تین لوگوں کے لیے 'شو' نہیں چلائیں گے

 جب کامیابی ملتے ملتے نتیجہ ناکامی بدل جا ئے اور پھر اچانک وہیں سے کامیابی کی پکار ہو ۔ کامیابی اور ناکامی سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے جب منوج منتشر کی پہلی فلم ریلیز ہوئی تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اپنے جگری دوست دیپک کو بلایا اہلیہ نیلم کو تیار کیا کہ اب ہم سب مل کر اپنی فلم دیکھیں گے ۔ سنیما ہال پہو نچے ٹکٹ لینے کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھے تو وہاں موجود شخص نے جھڑکی بھرے انداز میں کہا بھائی صاحب کنارے ہٹیں ہم ٹکٹ نہیں دے سکتے ہم آپ تین لوگوں کے لیے شو نہیں چلائیں گے۔

یہ سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا اس روز بہت مایوس ہوا تھا بڑی شرمندگی ہوئی تھی لیکن ایک دن وہ بھی آیا کہ اسی سنیما ہال  میں میری فلم ہفتوں تک چلی اس ہال میں اپنی فلم دیکھنے کی میری خواہش تب بھی پوری نہیں ہوئی کیونکہ ٹکٹ ہاوس فل چل رہے تھے ۔ بس تب میں اور اب میں فرق اس بات کا تھا کہ تب دیکھنے والے سنیماہال نہیں پہونچے اس لیے فلم نہیں چلی اور مجھے ٹکٹ نہیں ملا تھا ، ٹکٹ اب بھی نہیں ملا لیکن اس بار ہاوس فل کی وجہ سے مجھے ٹکٹ نہیں ملاتھا ۔

امیتابھ بچن کا سامنا اور ترقی کی راہیں کھلنا

 منوج کہتے ہیں کہ یوں تو میں بنیادی طور اپنا کریر نغمہ نگاری میں دیکھ رہا تھا لیکن ایک سینئر کے مشورے سے میں نے اسکرپٹ رائٹنگ بھی شروع کر دی تھی، ٹیلی اسکرپٹ ، اسکرین پلے لکھنے لگا تھا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ دیکھو گانے لکھو لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے لیے بھی لکھنا شروع کردو ابھی جو کام ملے کر لو ان کا یہ مشورہ بہت کام آیا یہ ٹی وی ہی ہے جس نے مجھے 15 برس تک سنبھال کر رکھا ۔ کون بنے گا کروڑ پتی کے لیے اسکرپٹ رائٹرکا انٹرویو تھا امیتابھ بچن صاحب خود لوگوں سے مل رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا کیاکیا کرتے ہو کیا لکھتے ہو بتاو میں 5 منٹ تک ان کے سامنے نان اسٹاپ بولتا رہا ۔ جب میں رکا تو انہوں نے کہا تمہاری بھاشا اچھی ہے۔

اب میری دنیا چند گھنٹوں میں بدل چکی تھی

 میں باہر آیا اوراب میری دنیا چند گھنٹوں میں بدل چکی تھی مجھے کمپنی نے جو کنٹریکٹ دستخط کرنے کے لیے دیا اسے دیکھ کر میں حیران تھا اب مجھے ہر روز 30 ہزار ملنے والے تھے روزانہ دو ایپیسوڈ ایک کا 15000 یہاں سے حالات تبدیل ہونے لگ گئے پھر تو بہت مواقع ملنے لگے اور خدا کا شکر ہے اب مواقع ہی مواقع ہیں اب تو ان میں سے منتخب کرنا پڑتاہے ۔  

منوج 'منتشر' کی روداد علامہ اقبال کے اس شعر کی ترجمانی کرتی ہے 

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

 

نوٹ : مضمون نگار ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں 

رابطہ

9891568632

ashrafbastavi@gmail.com

بشکریہ :  ریچا انیرودھ ، زندگی وتھ ریچا 


0 comments

Leave a Reply