چنار بک فیسٹیول پر سوشل میڈیا کی من گھڑت مہم، الزامات کی کوئی حقیقت نہیں/ این سی پی یو ایل

سری نگر، 9 اگست — (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) ایس کے آئی سی سی میں 2 سے 10 اگست تک منعقد ہونے والا "چنار بک فیسٹیول" نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اشتراک سے جاری ہے ، تاہم چند اردو حلقوں نے سوشل میڈیا پر اول روز سے ہی اس اشتراک کے حوالے سے الزامات لگانا شروع کر دیا تھا ،اب نیا معاملہ این سی پی یو ایل اور این بی ٹی کے اشتراک سے متعلق سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے ۔ ناقدین یہ کہتے ہی کہ اگر یہ اس اشتراک ہے تو این سی پی یو ایل کا لوگو کچھ بینرس سے غائب کیوں ہے ؟ ان الزامات کو این سی پی یو ایل انتظامیہ نے بے بنیاد بتاتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

ایشیا ٹائمز نے الزمات کی حقیقت جاننے کی کوشش کی اور یہ جاننا چاہا کہ معاملہ کیا ہے ؟

این سی پی یو ایل کے ذرائع نے واضح کیا کہ"  فیسٹیول میں اردو زبان و ادب سے متعلق تمام پروگرام قومی کونسل نے کیا  ، جن میں دونوں اداروں کے لوگو شامل تھے، کیونکہ فیسٹیول کے مرکزی آرگنائزر کے طور پر این بی ٹی کے وسائل کا استعمال ہو رہا تھا۔ تاہم، چند پروگرام این بی ٹی کے انفرادی دائرہ کار میں تھے، اس لیے ان پر قومی کونسل کا لوگو شامل نہیں کیا گیا ۔اس عمل کو کچھ افراد نے جان بوجھ کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے"۔

قومی کونسل نےکہا کہ" ادارے اشتراک کی طے شدہ حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں، مگر افسوس کہ کچھ لوگ بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا پر الزام تراشی کو اپنا شوق بنا بیٹھے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ علمی و ادبی ماحول کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہم تنقید کرنے والوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کسی کو اعتراض یا شکایت ہے تو وہ براہ راست متعلقہ اداروں سے رجوع کرے، نہ کہ سوشل میڈیا پر "افواہوں اور ذاتی بغض پر مبنی مہم چلائے"۔

 گویا اس واقعے سے ایک بار پھر یہ ثابت  ہوا کہ سوشل میڈیا کا الزام تراشی کلچر کس قدر زہریلا اور غیر ذمہ دارانہ ہو چکا ہے۔ "چنار بک فیسٹیول" جیسے بڑے اور مثبت ادبی ایونٹ میں این بی ٹی اور این سی پی یو ایل کا اشتراک زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک بہترین مثال تھا، لیکن کچھ لوگوں نے پہلے دن سے ہی اسے شک و شبہ کے گرداب میں دھکیلنے کی کوشش شروع کر دی۔

 لوگو کے نہ ہونے یا ہونے جیسے معمولی اور تکنیکی معاملے کو سنسنی خیز سازش میں بدل دینا محض بدنیتی نہیں بلکہ اہم اداروں کی توہین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پروگرام کے اپنے دائرہ کار اور تکنیکی تقاضے ہوتے ہیں، اور ان کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس کا لوگو کہاں ہو۔ سوشل میڈیا پر بغیر ثبوت کے الزام تراشی صرف اداروں کو کمزور نہیں کرتی بلکہ ایک زہر کی طرح ہمارے علمی و ادبی کلچر کو کھا رہی ہے۔

جو لوگ واقعی شفافیت چاہتے ہیں، انہیں ہمت کر کے براہ راست اداروں سے سوال کرنا چاہیے، نہ کہ  پیچھے بیٹھ کر بغض بھری مہم چلانی چاہیے۔ اگر ہم نے یہ روش نہ بدلی تو کل کوئی بھی مثبت کوشش محض چند سوشل میڈیا پوسٹس کے شور میں دفن ہو جائے گی، اور ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہوں گے۔

0 comments

Leave a Reply