سدھارتھ یونیورسٹی کپلوستومیں ایم اے اردومیں داخلہ جاری ، ابھی فارم بھریں

یونیورسٹی میں اردو شعبہ کا افتتاح ؛ اہل علم حلقے میں خوشی کی لہر، بیداری مہم چلانے کا عزم

 

سدھاررتھ نگر/ نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز نیوز بیورو) کل سے سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارموں پرایم اے اردو میں داخلہ کی ایک اپیل گردش کر رہی ہے  ۔  وہ اپیل یہ ہے " سدھارتھ یونیورسٹی کپلوستو، علیگڈھوا، سدھارتھ نگر، اتر پردیش میں شعبہ اردو کا افتتاح ہو چکا ہے۔ ایم اے اردو میں ابھی کچھ نشستیں باقی ہیں " ۔ 

اپیل کنندہ نوراللہ خان نے اردو حلقوں کو متوجہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  " اردو کلچر اور اپنی تہذیبی وراثت کے مد نظر طلبہ و طالبات کو راغب کریں ۔ اردو لکھیں ، پڑھیں ، پڑھائیں اور اردو سے محبت کا ثبوت دیں"۔ یقینا اردوزبان کے فروغ کے لیے کی گئی یہ اپیل قابل توجہ ہے ۔ 

 نوراللہ خان گریٹ انڈیا ویلفئر فاونڈیشن نئی دہلی کے چیئرمین و گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی سدھارتھ نگرکے ڈائریکٹر ہیں ۔ تعلیمی و سماجی سرگرمیوں میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ 

سوشل میڈیا پر یہ اپیل دیکھنے کے بعد ایشیا ٹائمز نے ضروری سمجھا کہ یونیورسٹی سے رابطہ کر کے تفصیلات معلوم کی جائیں ، بالاخر صدر شعبہ اردو ڈاکٹرعبدالحفیظ سے رابطہ ہوا ،انہوں نے ایشیا ٹائمز کو بتایا " یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ اسی سال قائم ہوا ہے ، ایم اے اردو میں پہلے بیچ میں داخلہ کا اعلان آیا ہے ۔

 ایم اے اردو میں کل 40 سیٹیں ہیں ، گریجویشن میں 50 فیصد نمبروں کے ساتھ سالانہ فیس محض 2565 روپئے ہے ، فارم بھرنے کی آخری تاریخ 25 اگست ہے ، لیکن ابھی تک درخواستیں بہت کم آئی ہیں ، جتنا جلد ممکن ہو اردو سے ایم اے کرنے کے خواہش مند فوری رجوع کریں "  

ڈاکٹر عبدالحفیظ نے مزید بتایا کہ گریجویشن میں اردو آنرس یا سبسڈری مضمون ہونا ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس داخلے سے شعبہ مضبوط ہوگا اور پھراردو میں پی ایچ ڈی جلد مل سکے گی ۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے ہماری کوشش ہوگی داخلہ کی تاریخوں میں مزید توسیع مل جائے ۔

خواہش مند طلبا ابھی رابطہ کریں 

9450115426

اس موقع پر ہم نے بات کی سوشل میڈیا پرداخلے کی اپیل چلانے والے گریٹ انڈیا ویلفیرکے چیئرمین نوراللہ خان سے اور یہ پوچھا کہ آپ کو یہ اپیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ انہوں نے کہا " یہ اہل علاقہ کے لیے بے حد خوشی کی بات ہے کہ یونیورسٹی میں اردو میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ قائم ہوا ہے ۔  اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ  شعبہ دن بدن ترقیات کے منازل طے کرے ، ذرا یاد کیجیے ! یہ علاقہ عظیم مجاہدی آزادی قاضی عدیل عباسی جیسے محبین اردو کا وطن ہے ، ہماری کوشش یہ ہوگی کہ اردو کے طلبا سبھی سیٹیں پر کریں "۔


ہم نے سدھارتھ نگرواطراف کے کچھ اور اہل علم حضرات سے بات کی اور یہ جاننا چاہا کہ وہ کیا کہتے ہیں ۔ 

محبان اردو ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹرمامون عبدالعزیز اسسٹنٹ پروفیسراندرپرستھ یونیورسٹی دہلی کہتے ہیں "  اردو کا شعبہ قائم ہونے سے سدھارتھ نگرو اطراف  کے اردو حلقوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا یہ ذریں موقع ہاتھ آیا ہے ،  اسے مظبوط کرنا ہم سب  کی ذمہ داری ہے ، ہم اس کے لیے  کام کریں گے ، بہت جلد یونیورسٹی  سے رابطہ کرکے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی ۔ 

سنت کبیر نگر کے معروف ادیب و سماجی کارکن وسیم خان نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا  " یہ خوشی کا موقع ہے کہ یونیورسٹی نے ایم اے اردو کو منظوری دی ہے ، لیکن یہ شعبہ تبھی پروان چڑھے گا جب یہاں اردو کے طلبا داخلہ لیں ،اس حوالے سے اعلیٰ تعلیم کے تئیں بیداری لانا ضروری ہے ۔ 

پیکس فاونڈیشن کے چیئرمین سلمان احمد نے کہا " شعبے کے قیام کے لیے مبارکباد ، اس سے علاقے کے اردو طلبا کو بڑی آسانی ہوئی ہے ، اب ہمارے طلبا مقامی سطح پر رہ کر اعلیٰ ڈگری حاصل کر سکیں گے "۔ 

عثمان سینٹر فارہیومن ڈیولپمینٹ سوسائٹی کے صدرعتیق احمد نے کہا " یقینا ہم سب کے لیے یہ بے حد مسرت آمیز خبر ہے ، تعلیمی ادارے اور شعبے طلبا سے چلتے ہیں ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ عوامی بیداری کی مہم چلائیں اور اپنے قریب حاصل اعلیٰ تعلیم کے اس موقع سے استفادہ کریں ۔ 

سیون اسکائی اکیڈمی بستی کے ڈائریکٹر سیف خان کہتے ہیں " ایم اے اردو کا شعبہ قائم ہونے پرہم  یونیورسٹی کے وائس چانسلرسمیت سبھی کے شکر گزار ہیں ۔ اہل علاقہ اس کی قدر کریں،اوراپنی یونیورسٹی کے داخلہ رجسٹر کو پرکرنے کاکام کریں "۔

تہنیتی پیغامات اور اپیل کے بعد کا مرحلہ کافی اہم ہے ،یہ اپیل مکمل طور پر تب کامیاب سمجھی جائے گی جب سبھی چالیس سیٹوں پر داخلے ہو جائیں گے ، اس سلسلے میں یونیورسٹی کو اپنے سطح سے بھی حکمت عملی ترتیب دینا چاہیے ۔ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کے علاوہ محبین اردو کی ایک اعزازی کمیٹی تشکیل دے جو شعبے سے رابطے میں رہے ،سال میں ایک بار کسی ادبی پروگرام کے حوالے سے سب ملیں اور شعبے میں طلبا کے داخلے کے لیے مفید مشورے بھی دیں اوراپنی کوشش بھی کریں ۔

0 comments

Leave a Reply