سرزمین دیوبند میں وقف پر قبضے کی شرمناک کہانی؛ اللہ کے گھر میں ڈاکہ ڈالنے پر بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی

 

دیوبند: علم وعرفان کے مرکزسرزمین دیوبند سے آنے والی یہ خبر یقینا آپ کو مایوس کرنے والی ہے ۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ  اللہ کے نام لیوا ہی اللہ کے گھر میں لوٹ مچائے ہوئے ہیں ۔ جنھیں اللہ کے گھر کی خدمت کا شرف حاصل تھا آج وہی اسے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ،اور ایک بڑا حصہ چٹ کرچکے ، ہم یہ تکلیف دہ خبر ایک ایسے وقت میں پہونچا رہے ہیں جب آپ کے نام و نشان کو مٹادینے کے درپر آمادہ شرپسند عناصر بابری مسجد ہتھیالینے کے بعد اب کرشن جنم  بھومی معاملہ عدالت میں لیکر پہونچےہیں ۔ لیکن یہاں تو معاملہ بالکل مختلف ہے یہاں اللہ کےنام لیوا ہی اللہ کے  گھرپر ستم اللہ ڈھارہے ہیں ۔


 کیا آپ کو معلوم ہے کہ وقف املاک کی شکل میں مسلمانان ہند 600,000 ایکڑ املاک کے مالک ہیں اور اس طرح اجتماعی طور پر ہندوستان کی امیر ترین قوم ہیں۔ تقریبا, 100 یا 200 سال پہلے ان املاک کی قیمت کا اندازہ 600 بلین روپئے لگایا گیا تھا۔ آج 2020  میں اس کی قیمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ مگر اس کے باوجود مسلمان غربت و افلاس کا شکار ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس ملی دولت کو تباہ کرنے والے غیر مسلم نہیں خود مسلمان ہیں۔

ہو سکتا ہے آپ یہ سمجھ رہے ہوں کہ ملت کی جس دولت پردن دہاڑے ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اس میں صرف غیر آباد زمین، مکانات اور شہروں میں قیمتی جگہوں پر دکانیں شامل ہیں۔ مگرمسلمانوں کی بے غیرتی اور ملی حمیت اب اس حد تک زوال پزیر ہے کہ اللہ کے گھر میں ڈاکہ ڈالنے پر بھی نہ کسی کے کان پر جوں رینگتی ہے اورنہ کسی کا

احساس ذمہ داری جاگتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دہی کا احساس ہو ختم ہوچکا ہے۔

 

 جو واقعہ ہم آپ کو سنانے جارہے ہیں وہ کسی دوردراز اور نامانوس جگہ کا نہیں بلکہ دینی خدمات کے لئے مشہور قصبے دیوبند کی ایک مسجد کا ہے۔ اگرآپ بھی ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن کی بے حسی اور بے غیرتی اس درجہ گرچکی کہ بڑی سے بڑی خبران پر بے اثر ثابت ہوتی ہے اور جو ان کا عمومی رد عمل یہ ہوتا ہے کہ ’یہ تو ہر ملی ادارے میں ہورہا ہے ہم کیا کرسکتے ہیں، تو آپ اس مسجد کی داستان سن کہ آپ صدمے میں آجائیں گے۔



دیوبند میں سولہویں صدی میں سکنررلودھی کی تعمیر کردہ مسجد قلعہ

یہ کہانی ہے محلہ قلعہ دیوبند میں سولہویں صدی میں سکنررلودھی کی تعمیر کردہ مسجد قلعہ کی۔ گزشتہ  جمعہ، یعنی 25 کو نمازیوں اور مسجد کے متولی کے درمیان تصادم کے بعد معاملہ اس حد تک پہنچا کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور ایک مصلی کے خلاف مارپیٹ کرنے کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج ہوگئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گشت کررہی ایک ویڈیو کلپ میں متولی کو ایک شخص کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے صاف طور پر سنا جا سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متولی کی طرح اس کے تین بیٹے بھی غندہ گردی کرتے ہیں اور باپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ اسی طرح متولی کی بیوی بھی نہایت چرب زبان خاتون ہیں۔ جمعہ کے روز بھی موصوفہ نے ایس ڈی ایم کے سامنے اتنی چرب زبانی کی کہ کسی کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

 

واضح رہے چند ماہ پہلے مسجد کے وضو خانے کی چھت زمین بوس ہوگئی تھی۔ مسجد کے اس حصے کے حالت کافی دنوں سے مخدوش تھی اوراس بات کا خدشہ ہر وقت لگا رہتا تھا کہ چھت کسی بھی وقت گرسکتی ہے اورکوئی نمازی اس کی زد میں آسکتا ہے۔ 

 

وضو خانے کی زمین بوس چھت 

 

تقریباً 35 سال قبل مسجد کے متولی واجد خان کی وفات کے بعد، مسجد کمیٹی کے ارکان، جو سب ایک ہی خاندان کے لوگوں پر مشتمل تھی، نے واجد خان کے بیٹے نفاست خان (عرف باشد خان) کو مسجد کا متولی بنادیا تھا۔ مگر مسجد کی دیکھ بھال کرنے کے بجائے باشد خان نے مسجد کی دکانوں کا کرایہ مسجد پربالکل نہیں لگایا۔

 

اس قدیم مسجد کی تقریباً 12 دکانیں ہیں جن کے کرائے سے مسجد کی خاطرخواہ آمدنی ہوتی ہے۔ مگر اس آمدنی کے باوجود مسجد کی دیکھ ریکھ، چھوٹی موٹی مرمت اوررنگ روغن کا تمام کام چندے سے ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً متولی ایک ایسا شخص ہے جس کا واحد ذریعہ معاش مسجد کی دکانوں کا کرایہ ہے۔ نہ یہ شخص نماز کا پابند ہے اورمسجد میں اتفاقاً ہی آتا ہے۔ 

مسجد کا متولی باشد خان 

یوپی وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق باشد کئی سال سے متولی نہیں ہے اس کے باوجود وہ اب بھی دکانوں کا کرایہ وصول کررہا ہے۔ 

کیونکہ متولی وضوخانہ خود تعمیر نہیں کروارہا ہے اس لئے کچھ مقامی لوگوں نے یہ کام کروانا شروع کردیا۔ مگر باشد نے ایس ڈی ایم کے یہاں پہنچ کر مرمت رکوانے کی درخواست دائر کردی۔ مصلیوں کا الزام ہے کہ باشد خان مطالبہ کررہا ہے کہ وضوخانے کی تعمیر نو پر جو خرچ آئے گا وہ اس کے حوالے کردیا جائے اور یہ کام وہ خود کروائے گا۔

باشد کے متولی بنے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے دیگر قدیم قصبوں اورشہروں کی طرح دیوبند کے محلے بھی ذات برادریوں کے اعتبار سے آباد ہیں۔ حالانکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ رحجان اب ختم ہوگیا ہے اورآبادیاں اب مخلوط ہیں مگر اکثریت پرانی برادریوں کی ہے اوراس بنیاد پر مساجد کی تولیت ان پرانی برادریوں میں سے کسی کے پاس ہوتی ہے۔ مسجد قلعہ کا متولی ہمیشہ پٹھان ہوتا ہے۔ دوسری برادریوں کے لوگ، جن کی اکثریت مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھتی ہے، مسجد کی خستہ حالی پر پریشان ہیں۔ مگر اس سلسلے میں کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔ باشد کی دھاندلی سے پٹھان برادری بھی خوش نہیں ہے مگر شاید رشتہ داری کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ ان کی بھاری اکثریت نے تو مسجد میں آنا بھی چھوڑدیا ہے جو یا تو گھروں پر نماز ادا کرتے ہیں یا دوسری مسجدوں میں جا کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔

ملی گزٹ کی کاپی 

2005  میں بھی کچھ لوگوں نے متولی کو ہٹانے کی کوشش کی تھی جس سے متعلق انگریزی جریدے ملی گزٹ

نے  Mutawalli loots Deoband mosque کے عنوان سے 1-15   فروری کے شمارے میں پورے ایک صفحے کی تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جو آن لائن اب بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں جو تفصیلات درج ہیں وہ مساجد، اوقاف اورمسلم اداروں میں موجود بددیانیتی اورپر مکمل تبصرہ ہے۔  مگرمتولی نفاست علی خان کو رشتہ داروں کی حمایت جاری رہی اور مسجد کمیٹی کے ارکان اللہ نے گھرمیں ڈاکہ پڑتے دیکھتے رہے۔ 

 

تعجب کی بات یہ ہے کہ باشد خان نے Masjid-e-Qila Deoband کے نام سے ایک فیس بک پیج لانج کر کے اعلان کیا ہوا ہے  کہ وہ مسجد کی مرمت کا کام اپنے بوتے پر کروائیں گے۔ فیس بک پر لکھا گیا ہے کہ، ’’مسجد قلعہ میں تقریباً پچاس ساٹھ سال سے آج تک کسی بھی طرح کا کوئی چندہ نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی ہم نے کسی کو چندہ لینے کی اجازت دی ہے ۔۔۔ لوگ میرے نام پر۔۔۔ جھوٹ بول کر چندہ بڑے پیمانے پر لا رہے ہیں۔‘‘

 

مقامی لوگ اس میسیج پرہنس رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کا کہنا ہے کہ یہ شخص تو مسجد میں بلب تک نہیں بدلواتا۔ اوراگر مسجد کے نام پرکبھی کسے نے کہیں سے رقم وصول کی ہے تو وہ یہ خود ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پریشان ہو کر مرمت کا کام کرواہی دیں گے اورکریڈٹ یہ خود لے لے گا اورمسجد کی دکانوں کا کرایہ کھاتا رہے گا۔

 نوٹ : یہ پوری خبر مع تصویر ہمیں سوشل میڈیا سے موصول ہوئی ہے ، خبر کا  صرف پہلا پیراگراف ایشیا ٹائمز نے تحریر کیا ہے  

1 comments

  • Saleem Ahmed usmani

    اللّہ ربّ کریم ایسے قابضین مساجد اور درگاہوں کے گدی نشینوں نیز ان جیسی بہت سی ا قاف کی جائیدادوں پر نظر رکھنے اور ہڑپ کرنے والوں کو ہدایت دے آمین ثمہ آمین .

Leave a Reply