دہلی کے اسکولوں میں اردو کی صورت حال پر سمینار
مسائل کا جائزہ لیتے وقت ہمیں مثبت رخ کا بھی ذکر کرنا چاہیے / پروفیسر خواجہ اکرام
نئی دہلی : (پریس ریلیز) مسائل کا جائزہ لیتے وقت مثبت رخ کا بھی ذکر کیا جانا چاہیے. صرف اردو زبان ہی نہیں ہندی اور دیگر زبانوں زبانوں کے ساتھ مسائل ہیں جو اس زبان کو برتنے والوں کی مجلسوں میں موضوع بحث ہوتے ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ مسائل کے حل پر یہاں سنجیدہ بحث ہو رہی ہے، مسائل کا حل اسی طرح نکالاجا سکتا ہے .
ان خیالات کا اظہار جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے مریم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام "دہلی کے اسکولوں میں اردو کی صورت حال " کے موضع پر منعقد سمینار میں کیا، پروفیسر خواجہ اکرام نے پروگرام کی صدارت کی ۔
انہوں نے کہا مزید کہا کہ یہ سمینار اپنے موضوع کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے، سبھی مقابلہ نگاروں نے دہلی میں اردو کی صورت حال اوراردو تدریس کے مسائل پر بات کی ہے ، اہم تجاویزشرکاء کی جانب سے بھی آئیں ۔ جہاں تک اردو کا روزگار سے تعلق کی بات ہے، میں کہنا چاہوں گا کہ اردو ہی کیوں صرف صرف ہندی جاننے سے بھی آپ کو مواقع نہیں ملیں گے ، بازار کو جس زبان کی ضرورت ہے اس سے خود کو وابستہ کرنا ہوگا ۔ ۔کلیدی خطبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے دیا ،انہوں نے دہلی میں اردو تدریس میں انتظامی کوتاہیوں کا کھل کر ذکر کیا ۔
سمینار میں ڈاکٹر زاہد احسن، ڈاکٹر فیضان شاہد، سمیت دیگر مقالوں نگاروں نے پر مغز مقالہ پیش کیا. پروگرام کے مہمان خصوصی تھے پدم شری پروفیسر اختر الواسع جو کسی ہنگامی مصروفیت کی وجہ سے شریک نا ہو سکے، سمینار کے ناظم زبیر خان سعیدی نے پروفیسراخترالاواسع کا پیغام پڑھ کر سنایا. پروگرام میں ڈاکٹر اشونی کمار ایسو سی ایٹ پروفیسر سوشل ورک ڈپار جامعہ ملیہ اسلامیہ بطور مہمان اعزازی شریک ہوئے، مہمان ذی وقار تھے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسر ایم ڈی ابو سامہ آئی آر ایس .
اس موقع پر ڈاکٹر زاہد احسن کی کتاب 'اردو شاعری میں حب الوطنی' کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا. پروگرام کی نظامت کے فرائض ایشیا ٹائمز کے اسپیشل کرسپانڈینٹ زبیر خان سعیدی نے انجام دیے اور اظہار تشکر مترجم و سماج کارکن خالد سہیل نے ادا کیا. پروگرام این سی پی یو ایل کے مالی تعاون سے کیا گیا. پروگرام کے کنوینر تھے جامعہ کے فیکلٹی آف ڈینٹسٹری کے ڈا کٹر صابر علی.

0 comments