سعودی عرب کے میڈیا منسٹری نے "گلوبل ہارمونی" کے عنوان سے ایک اہم اقدام کا آغاز کیا
گلوبل ہارمونی کا مقصد اسی فیسٹیول کے ذریعے مختلف قوموں اور مذاہب کے درمیان رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے
ریاض : (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) سعودی عرب کے میڈیا منسٹری نے "گلوبل ہارمونی" کے عنوان سے ایک اہم اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد مختلف ممالک اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا ہے۔ "گلوبل ہارمونی" کے ذریعے سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر مکالمے، ثقافتی تبادلے، اور رواداری کو بڑھاوا دے کر ایک پرامن عالمی ماحول کے قیام میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
السویدی فیسٹیول، جو کہ ریاض کے مشہور ثقافتی اور تفریحی میلوں میں سے ایک ہے، دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ سعودی ثقافت اور دیگر عالمی ثقافتوں سے روشناس ہو سکتے ہیں۔ "گلوبل ہارمونی" کا مقصد اسی فیسٹیول کے ذریعے مختلف قوموں اور مذاہب کے درمیان رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
اس مہم کے تحت سعودی وزارتِ میڈیا نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں، ثقافتی ماہرین، اور فنکاروں کو مدعو کیا تاکہ وہ اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کریں، اور ایک ایسی دنیا کے قیام میں مدد کریں جو امن، انصاف، اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
اکرم پی کے کیرل کے رہنے والے ہیں پچھلے 20 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، انہوں نے مملکت میں اپنے وقت پر غور کرتے ہوئے کہا: "یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم اور ترقی یافتہ سفر رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "ہمیں یہاں دوسرا گھر ملا ہے، جہاں ہمیشہ امن کا ماحول رہا ہے، اور یہاں کے لوگوں نے گرم جوشی نے ہمارا خیر مقدم کیا ہے۔"
پی کے نے حال ہی میں شروع کیے گئے گلوبل ہارمونی کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا "یہ ایک اہم قدم ہے جو ایک مربوط اور مضبوط معاشرہ کے قایام میں کلیدی رول نبھا رہا ہے اور سعودی عرب کی قیادت جدید اور دور اندیش ویژن کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ اقدام تارکین وطن کے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔
ثقافتی اختلافات کے باوجود، ہم سعودی معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس فیاض قوم کے ساتھ رہتے ہیں ۔ یہ حقیقی طور پر مشترکہ بقائے باہمی کے جذبے کو مجسم کرتا ہے اور دنیا بھر سے مقامی افراد اور تارکین وطن کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط کرتا ہے۔
ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنو سے آئے نفیس کہتے ہیں کہ سعودی زندگی کے مختلف شعبوں میں تارکین وطن کی مثبت شراکت کو تسلیم کرنا ہم سب کے لیے باعث اطمینان ہے۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جو ترقی کر رہی ہے اور جامعیت کو فروغ دے رہی ہے۔"
انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ اقدام معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے گا، ثقافتی آگاہی میں اضافہ کرے گا، ثقافتی سیاحت کو بڑھائے گا، اور سعودی عرب کی علاقائی رہنما کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا۔

0 comments