رامائين يا ارطغرل– كيا نئى نسل متاثر ہورہى ہے ؟
ارطغرل كى پذيرائى كا اندازه صرف اس سے لگايا جاسكتا ہے كہ پورى دنيا ميں تين ارب سے زائد لوگوں نے مختلف زبانوں ميں اس ڈرامے كو ديكها ہے

عماره رضوان – نئى دہلى
جب سے لاك ڈاؤن شروع ہوا ہے اور لوگ گهروں ميں مقيد ہوكر ره گئے ہيں ، تولوگوں نے اپنى اپنى دلچسپى كے لحاظ سے مصروفيات ڈهونڈھ لى ہيں ، بعض اسكولوں نے آن لائن كلاسز كے ذريعے طلبہ كو درسيات سے جوڑے ركهنے كى كوشش كى ہے مگر اكثر طلبہ اس سے آزادہيں اور وقت گزارى كے نت نئے طريقے نكال لئے ہيں . جن گهروں ميں والدين نے بامقصد زندگى كا درس ديا ہے انهوں نے اپنے بچوں كے لئے شب وروزكا پورا خاكہ بنا ركها ہے اور اور اس پر سختى سے عمل كرانے كى كوشش كرتے ہيں مگر جہاں يہ بيدارى نہيں پائى جاتى ، وہاں بچے اپنى من مرضى سے خود اپنادن بھر كا نصاب بنا ليتے ہيں
ايك طرف جہاں حكومتى سرپرستى ميں ہمارے وطن عزيز ميں زعفرانى تحريك اپنے عروج پرہے اور وه اس سلسلےميں اتنا جارحانہ رخ اختيار كئے ہوئے ہے كہ الأمان والحفيظ ، دوردرشن پر رامائن كى قسط وار رونمائى ہو رہى ہے اور بڑے نيوز چينل كے ذريعے اس كے پرموشن كا كا م ليا جارہا ہے ،مركزى وزراء بهى سوشل ميڈيا كے ذريعے اس كى تشہير كر رہے ہيں اور لوگوں كو اس بات پر مہميز كررہے ہيں كہ لوگ اپنى خاندان كے ساتھ رامائن كا مشاہده كريں اور لاك ڈاؤن ميں اپنا غم غلط كريں
انٹرنيٹ سروے كے ماہرين بتاتے ہيں كہ لاك ڈاؤن كے ان ايام ميں انٹرنيٹ كے استعمال ميں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ، صارفين كے بے تحاشہ استعمال كى وجہ سے انٹرنيٹ كى رفتار بهى سست روى كا شكار ہوئى ہے . اس ميں ايك اہم رول سيريلس اور ڈراموں كى طرف نئى نسل كے رجحان كا بهى ہے ، امت مسلمہ كى نئى نسل بهى اب اس سے اچهوتى نہيں رہى . اور اس كو ارطغرل ڈرامے كى شكل ميں ايك گوہر ناياب مل گيا ہے
ارطغرل كى پذيرائى كا اندازه صرف اس سے لگايا جاسكتا ہے كہ پورى دنيا ميں تين ارب سے زائد لوگوں نے مختلف زبانوں ميں اس ڈرامے كو ديكها ہے ، اس تاريخى ڈرامے كے پروڈيوسر تركى نژاد محمد بوزداغ نے بہت ہى موثر انداز ميں قبيلہ قائى كے سردار غازى ارطغرل بن سليمان شاه كے كارناموں كو فلمايا ہے جو عثمانى خلافت كے بانى سلطان عثمان اوّل كے والد ماجد ہيں ، يہ ڈرامہ پانچ سيزينس كے 150 حلقوں پر مشتمل ہے ، گرچہ يہ ڈراما اصلا ً تركى زبان ميں ہے مگر اس كے ترجمے بشمول عربى ،اردو - دنيا كے مختلف زنده زبانوں ميں كئے جا چكے ہيں .

يہ سيريز سب سے پہلے تركى كے نيم سركارى چينل ٹى آر ٹى پر پيش كئے گئے اور پانچوں سيزنز 10 دسمبر 2014 سے شروع ہوكر 29 مئى 2019 كو مكمل ہوئے خاص بات يہ رہى كہ ٹى آرٹى پر جب يہ ڈرامہ نشرہوا تو ہر حلقہ كے اختتام پر سورة الفتح كى تلاوت بهى نشر كى جاتى رہى . اب تك اس ڈرامے كے ذريعے پروڈيوسر نے ايك ارب ڈالر سے زائد كما ئے ہيں
يہ سيريل فنى لحاظ سے بہت اعلى مقام پر ہے اس كى قوت كا اندازه آپ اس بات سے لگا سكتے ہيں كہ جو شخص اس كے دور چار ايپيسوڈ ديكھ لے وه اس كا اسير ہو جاتا ہے اور ہفتہ بهر دوسرے ايپيسوڈ كا بے چينى سے انتظار كرتا رہتا ہے ، اس ڈرامے سے بہت سے مثبت پيغام بهى ملتے ہيں جيسے خودى ، خوددارى ، قربانى ، قومى حميت ، اجتماعى مصالح كے لئے سب كچھ قربان كرنے كا جذبہ وغيره ، جو نئى نسل ميں ان مثبت قدروں كے پروان چڑهانے كامحرك بنتے ہيں
اس تاريخى سيريل پر دنيا دو خيموں ميں بٹى ہوئى ہے ، ايك طرف سعودى عرب اور مصر نے اس پر پابندى عائد كر ركهى ہے تو دوسرى طرف پاكستان كے وزيراعظم عمران خان نے اسے پى ٹى وى پر نشر كرنے كى ہدايت جارى كرركهى ہے اور كويت اور وينزيلا كى حكومتوں نے ڈرامے كى پورى كاسٹنگ ٹيم كا والہانہ استقبال كيا ہے
مضمون نگار ، سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کی درجہ بارھویں کی طالبہ ہیں

0 comments