معیاری تعلیم سے ہی تبدیلی آئے گی/ڈاکٹر ایس وائی قریشی

وژن 2026 نے پروفیسر کے اے صدیق حسن میموریل پی جی اسکالر شپ تقسیم کی تقریب منعقد

 

نئی دہلی : (پریس ریلیز) کیا کبھی آپ نے سوچا سارے اچھے کام جنوب سے ہی کیوں شروع ہوتے ہیں اور ہم شمال والے پیچھے کیوں ہیں؟ اگر دہلی میں الشفا اسپتال بنتا ہے تو وہ بھی کیرل سے پروفیسر کے اے صدیق حسن آکر بناتے ہیں۔  تشویش ناک بات یہ ہے کہ آج خود مسلمان اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں اسلام کا پہلا حکم ہے پڑھو لیکن ہم  تعلیم سے دور ہیں اسلام عورتوں کو حق دیتا ہے لیکن مسلمان انہیں حق دینے کو تیار نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار سابق چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ہیومن ویلفیئر فاونڈیشن کے پروفیسر صدیق حسن میموریل اسکالر شپ تقسیم پروگرام میں کیا انہوں نے یہاں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا  یہ سچ ہے آپ کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے لیکن پھر بھی اگر آپ اچھے ہوں گے تو موقع ضرور ملے گا اور معیاری تعلیم ہی سے تبدیلی آئے گی ۔ شمالی ہند میں فرضی ڈگریوں کا چلن نسلوں کو تباہ کر رہا ہے.  مجھے خوشی ہے کہ ہیومن ویلفیر فاونڈیشن نے معیاری تعلیم کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ہیں ،جو نتجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں ۔"

ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے چیئرمین آئی اے ایس ،ریٹائرڈ ڈاکٹر سراج حسین نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا " اس وقت بچوں کا معیاری تعلیم  حاصل نہ کر پانا بڑا مسئلہ ہے.  میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تمام مشکلات کے باوجود حاصل کرنے میں لگ جائیں  ۔ جو لوگ گریجویشن یا پی جی میں ہیں سول سروسز کے بارے میں سوچیں، جو صحافت میں دلچسپی رکھنے والے ہیں وہ ابھی سے لکھنا شروع کردیں ، سچی  لگن سے ہی کامیابی ملے گی ۔ "

ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے ٹرسٹی ایچ عبدالرقیب نے پروفیسر کے اے  صدیق حسن میموریل خطبے میں کہا "  مجھے صدیق حسن صاحب کے ساتھ 5 دہائی تک کام کرنے کا موقع ملا ان کی ایک خصوصیت یہ تھی، کہ وہ نئے انداز سے سوچنا، نئی راہیں تلاشنا، نئے میدانوں میں نئی جہت میں کام کرنا ضروری سمجھتے تھے. شمال ہند کی غربت سے پریشان ہوکر اس کے خاتمے کے لیے  جنوبی ہند کے لوگوں کو متوجہ کیا۔ 

انہوں نے مزید کہا  پروفیسر صدیق حسن صلا حیتوں کے  قدر دان تھے ، انہیں ساتھ لینے میں ہمیشہ آگے رہتے ، ڈاکٹر سمیر فخرو، مادھیمم کے ایڈیٹر کے لیے رادھا کرشنن کا انتخاب ان کا ہی تھا ، مادھیمم  آج ایک عالمی اخبار ہے.   انہوں نے کیرلا میں  سالیڈرٹی مومنٹ قائم کیا  ، آئی آر ڈبلیو کی بنیاد ڈالی اور معاشرے کو فنون لطیفہ سے بھی جوڑا ،2006 میں ہیومن ویلفیر فاونڈیشن قائم کرنے کے بعد اس کے  درجنوں ذیلی ادارے قائم کیے ۔  پروفیسر صدیق حسن کا خواب تھا کہ ہم انسانوں کے لیے نفع بخش بنیں ہم لینے والے نہیں بلکہ  دینے والے بنیں۔  ہندوستان بے پناہ مواقع والا ملک ہے چیلنجز کے ساتھ  یہاں مواقع بھی خوب ہیں. 

ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے ٹرسٹی انجینئر عبدالجبار صدیقی نے اس موقع پر وژن 2026 کے آئندہ کے پروجیکٹوں کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا " آج سے 15 سال قبل  پروفیسر صدیق حسن کی قیادت میں پوری ٹیم نے کام کیا، ہم  نے بہت کچھ سیکھا ہے ہم جب قدم بڑھاتے ہیں تو سیکھتے ہیں یا جیتتے ہیں  ہمیں ہارنا نہیں آتا۔  ہمارے بچے ہر  یونیورسٹی کی رینک کی ٹاپ 50 میں ہوں ہم یہ کر سکتے ہیں  ۔  پروفیسر صدیق حسن نے جنوب کے وسائل کو شمال کی طرف موڑ دیا،  وہ کہتے تھے شمال بدلے گا تبھی بھارت بدلے گا ۔ انہون نے اس موقع پر دو اہم پروجیکٹوں کا اعلان کیا ۔

پہلا   'بیسٹ این جی او اور بیسٹ سوشل انجینئر ایوارڈ '  جو لوگ انسانی خدمت کے میدان میں اچھا کر رہے ہیں  ایسے این جی اوز یا فرد کو ایک ایوارڈ دیا جائے گا.اس کے لیے انتخاب اس طرح ہوگا کہ ' جنھوں نے گزشتہ  5 سال میں کچھ اہم کامیابی حاصل کی ہے انفرادی طور پر انہیں ایک لاکھ  روپئے اوراین جی اوز کو 5 لاکھ ایوارڈ دیا گیا جائے۔

دوسرا 'اکیڈمک پبلیکیشن'  کا پروجیکٹ ہے پروفیسرصدیق حسن صاحب نے جو کام کیا ہے ان پر آرٹیکل لکھوانے کا پروگرام بنایا  گیا ہے، تاکہ ان کی زندگی کے تجربات سے نئی نسل رہنمائی حاصل کر سکے ۔

 واضح ہوکہ پروفیسر کے اے صدیق حسن میموریل پی جی اسکالر شپ  کا یہ پہلا بیچ تھا جس میں پی جی کے  28  منتخب بچوں کو فی بچہ ایک سال کے لیے  30 ہزار کے چیک دیے گئے  ۔ ہیومن ویلفیر فاونڈیشن اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے اور اسکالرشپ پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے 'پروفیسر کے اے صدیق حسن 'میموریل پی جی اسکالر شپ شروع کیا ہے ۔  یہ اسکالر شپ  ہر سال کل ہند سطح پرہیومنٹیز کے پوسٹ گریجویشن کے  ہونہار طلبا کو دی جائے گی ۔

اس موقع پر ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے سی ای او ،پی کے نوفل  نے فاونڈیشن کی کار کردگی رپورٹ پیش کی ۔  ڈاکٹر رضوان رفیقی نے  خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ فاونڈیشن کے  ہیلتھ مینجر ڈاکٹر عارف ندوی  نے پروگرام کی نظامت کی  اور فاونڈیشن کے ایجوکیشن مینجر سلیم اللہ خان نے  تمام شرکا کا شکریہ اداکیا ، اس موقع کثیر تعداد میں معززین شہر نے شرکت کی ۔

 

 

 

0 comments

Leave a Reply