قاسم خورشید: ایک عہد کی کہانی
ٹی ایم ضیاء الحق
ادب کے افق پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنہیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ چراغ ہیں جو اپنی زندگی میں بھی روشنی بانٹتے ہیں اور رخصتی کے بعد بھی تاریکی کو پوری طرح چھا جانے نہیں دیتے۔ قاسم خورشید مرحوم انہی چراغوں میں سے ایک تھے۔ ان کا وجود ایک ایسے خواب کی مانند تھا جو جاگتی آنکھوں کو یقین دلا دیتا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں۔
یکم جولائی 1957 کو بہار کے قصبے کاکو (ضلع جہان آباد) میں ان کی پیدائش ہوئی۔ قسمت کا کھیل دیکھیے کہ صرف چار برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ماں کی گود ہی وہ واحد سائبان تھی جس کے سائے میں تین معصوم بچوں نے زندگی کے طوفان جھیلے۔ قاسم خورشید کے دو بھائی اس وقت ڈھائی سال اور چھ ماہ کے تھے۔ اس کمسنی میں یتیمی کا بوجھ اور بیوگی کا زخم ماں کے دل پر ثبت ہوا تو اس نے صبر و تحمل کو اپنی ڈھال بنا لیا۔ یہی ماں اپنے بچوں کے لیے امید کی آخری کرن بن گئی۔
دادا کے دور تک زمینداری کا ڈھانچہ کھڑا ضرور رہا مگر اب کھوکھلا ہو چکا تھا۔ عزت و شہرت کے سہارے سفید پوشی کا بھرم باقی رہا لیکن آنگن سے کبوتروں کی ہجرت نے اس بھرم کو بھی توڑ ڈالا۔ ایسے ماحول میں زندگی نے انہیں پٹنہ لا کھڑا کیا۔ صرف سات برس کی عمر میں خالہ زاد مظفر الجاوید کے زیر سایہ وہ پٹنہ کے تعلیمی و ادبی ماحول میں داخل ہوئے۔ مگر یہ داخلہ آسان نہ تھا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کی جستجو نے بچپن کو بہت جلد جوانی کے راستے پر ڈال دیا۔
رام موہن رائے سیمینری اسکول کی تعلیم کے دوران وہ گورنمنٹ اردو لائبریری میں اکثر بیٹھے نظر آتے۔ لائبریری کے ملازم حسن احمد نے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے اور کتابوں کی دنیا ان کے سامنے بچھا دی۔ یہی کتابیں آگے چل کر ان کی روح کی غذا بنیں۔ کبھی ہاف پینٹ میں ٹیو شن پڑھانے جانا اور ہم عمر لڑکیوں کی ہنسی کا سامنا کرنا، کبھی پرل موٹرز میں کام کرنا اور کبھی بس کے اسٹیل پرزوں کو پالش کرنا—یہ سب تجربے ان کی شخصیت کو صیقل کرتے گئے۔ جدوجہد ان کا دوسرا نام بن گئی۔
تعلیم کی منزلیں بھی انہوں نے مرحلہ وار طے کیں: آئی اے اورینٹل کالج سے، بی اے آنرز پٹنہ کالج سے، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی پٹنہ یونی ورسٹی سے۔ یہ سب صرف قابلیت یا ذہانت کی بدولت نہیں بلکہ عزم و حوصلے کے ساتھ ساتھ ماں کی دعاؤں اور مظفر الجاوید کی سرپرستی کا نتیجہ تھا۔
شاعری کی دنیا میں قدم طالب علمی کے زمانے میں ہی پڑ گیا تھا۔ پہلا شعلہ دو غزلوں کی صورت ہندی کے مشہور رسالے "پرگتی شیل سماج" میں بھڑکا۔ پھر کہانیاں، ڈرامے اور مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1977 میں ان کا پہلا افسانہ "روک دو" شائع ہوا اور رفتہ رفتہ ان کے تقریباً پچاس افسانے مختلف معیاری پرچوں میں چھپتے گئے۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تھکے ہوئے لوگ" زیر طبع رہا۔
افسانے کے ساتھ ڈراما نگاری میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے پہلی بار بہار میں اردو اسٹیج کو پریم چند کے ڈرامے "جیل" کے ذریعے متعارف کرایا۔ پھر "ایک اور ہندوستان"، "چوہے"، "بچوں کی عدالت"، "عیدگاہ"، "مشین"، "انگولا کی آواز" اور "کہرا" جیسے ڈرامے اسٹیج کیے گئے اور مقبول ہوئے۔ اِپٹا (IPTA) اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر انہوں نے نہ صرف بہار بلکہ ملک کے مختلف گوشوں میں اردو اسٹیج کی آبیاری کی۔
زندگی کے عملی سفر میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب آل انڈیا ریڈیو میں بطور عارضی اناؤنسر شامل ہوئے۔ یہاں شاہدہ وارثی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ان کے حوصلے بلند کیے۔ پھر یہ ملاقات زندگی بھر کے ساتھ میں بدل گئی۔ ماں کی قربانیاں اور شریکِ سفر کی رفاقت—یہ دونوں ستون ان کے وجود کو سہارا دیتے رہے۔
نوکری کی مصروفیت کے باوجود ادب ان کے لیے اوڑھنا بچھونا رہا۔ وہ ایجوکیشنل ٹیلی ویژن سنٹر بہار میں وڈیو پروڈیوسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، مگر ان کی اصل پہچان شاعر اور افسانہ نگار کی تھی۔ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی انہوں نے کہانیاں لکھیں اور ترجمے کیے۔ یہ دو زبانے ان کے لیے دو بازو تھیں جن سے انہوں نے ادبی آسمان میں پرواز کی۔
ان کی شاعری میں زندگی کا دکھ، خوابوں کی ٹوٹ پھوٹ، اور امید کی جھلک ایک ساتھ ملتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ روشنی عارضی ہے، مگر جب تک چراغ جل رہا ہے، اندھیرا پوری طرح حاوی نہیں ہو سکتا۔
مگر خوابوں کے اس شاعر کی آنکھیں آج صبح ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ پٹنہ کے سلطان گنج نوگھروا میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس جہانِ فانی کو چھوڑ گئے۔ کل صبح دس بجے شاہ ارزاں میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور شاہ گنج قبرستان میں تدفین ہوگی۔ یہ منظر صرف ایک شخص کی رخصتی کا نہیں ہوگا بلکہ ایک پورے عہد کے اختتام کا منظر ہوگا۔
ان کے جانے سے اردو اور ہندی دونوں کی ادبی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوا ہے، ایسا خلا جو آسانی سے پر نہیں ہو سکتا۔ ان کی جدوجہد کی کہانی، ان کی تخلیقی کاوشیں اور ان کی انسان دوستی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کا اصل سرمایہ عزم، محبت اور خدمتِ خلق ہے۔
قاسم خورشید کے افسانے عام آدمی کی آواز ہیں۔ ان کے ڈرامے سماج کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ان کی نظمیں خوابوں اور حقیقت کے درمیان پُل باندھتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ادب کو جیا بلکہ ادب کے ذریعے زندگی کو جینے کا ڈھنگ بھی سکھایا۔
ان کی تصانیف میں نمایاں ہیں:( پوسٹر (اردو کہانیاں) تھکن بولتی ہے (ہندی شاعری) دل تو ہے بنجارا (شعری مجموعہ) قانون ساز کاؤنسل میں اقلیت (سیاسی تجزیہ) متن اور مکالمہ (تخلیقی تنقید)ریت پر ٹھہری ہوئی شام (کہانیاں) کینوس پر چہرے (کہانیاں)ڈر سے آگے (ہندی کہانی) — صدر جمہوریہ ہند سے اجراء شدہ و انعام یافتہ تھار پر زندگی (ہندی کہانی) کوئی ہاتھ (ہندی کہانی) گُنجا کی نینی (ہندی کہانی) کشن پور کی مسجد (ہندی کہانی) تماشا (اُردو اسٹیج ڈرامے) ادبی منظر نامے پر گؤدان (تنقید) Waves (انگریزی کہانیاں) سنولائی دھوپ (کیف کی غزلیں) ٹوٹے ہوئے چہرے (طنز و مزاح)
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد صوبائی و قومی انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
وہ آج رخصت ہو گئے مگر ان کا خواب باقی ہے، ان کا لفظ باقی ہے، ان کی جدوجہد باقی ہے۔ روشنی شاید مدھم ہو جائے، مگر جب تک ان کی تخلیقات ہمارے درمیان ہیں، یہ روشنی کبھی مکمل طور پر بجھ نہیں سکتی۔
جیسا کہ انہوں نے خود کہا تھا: دے
پھر کہاں روشنی رہے گی یہاںہم جو خورشید خواب ہو جائیں

0 comments