پریس کلب آف انڈیا نے پی ٹی آئی کی حمایت کی۔
نئی دہلی : پریس کلب آف انڈیا نے صحافتی آزادی کے خلاف جاری حملہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ خاص طور پر پریس کلب آف انڈیا نے مشہور نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے خلاف جاری سازش کی کوشرمناک قرار دیاہے پریس ٹرسٹ آف انڈیا ملک کی مشہور ترین نیوز ایجنسی ہے اور یہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ہے ۔
پچھلے دنوں پی ٹی آئی نے چین کے سفیر سن ویڈنگ کا انٹر ویو شائع کیا جس میں چینی سفیر نے گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیا ن ہوئے خونی تصام کیلئے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔ اس واقعہ کے بعد پی ٹی آئی پر کچھ لوگوں نے دیش کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کردیا اورپرسار بھارتی نے پی ٹی آئی سے اپنا رشتہ ختم کرلیا ۔
پرسار بھارتی پی ٹی آئی کے اہم ترین سبسکرائبرس میں سے ایک تھے ۔ ماناجارہاہے کہ یہ سب ایک منصوبہ کے تحت کیاگیاہے اور بنیادی مقصد پی ٹی آئی کو کمزور کرناہے ۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا بھارت کی مشہورترین نیوز ایجنسی ہے ۔ ایمرجنسی کے زمانے میں جن پانچ نیوز ایجنسیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اس میں یو این آئی اور پی ٹی آئی کا نام بھی شامل تھا جسے جنتا حکومت کلدیپ نیرکی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے پینل کی سفارش کے بعد بحال کیا۔
اردو اخبارات یواین آئی کے سبسکرائبر ہیں تاہم کئی بڑے اردو اخبار پی ٹی آئی کے بھی مستقل سبسکرائب ہیں اور وہاں کی خبروں سے اردو اخبارکو بڑی مدد ملتی ہے ۔
پریس کلب آف انڈیا کے صدر اننت کے سہائے نے کہاہے کہ میڈیا کی آزادی ملک کی سلامتی اور جمہوریت کی کامیابی کیلئے ضروری ہے ۔ چین کے سفیر کے ساتھ انٹرویوکرنا ایک صحافی اور ایک جنسی کا بنیادی حق ہے ۔
اس کوحب الوطنی کے مسئلے سے جوڑنا سراسر غلط ہے اور اسے بنیادبناکر اتنی بڑی نیوز ایجنسی کے خلاف یہ مہم یقینی طور پر میڈیا کی آزادی پر قد غن لگانے کا منصوبہ ہے ۔
پریس کلب آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اننت بگیتکر نے کہاہے کہ پی ٹی آئی ایک معتدل اور مقبول نیوز ایجنسی ہے ، و ہ خبروں کو ہمیشہ خبر کے طور پر پیش کرتی ہے اور سچائی پر مبنی وہاں سے رپوٹ جاری کی جاتی ہے ۔ پی ٹی آئی پر دیش کے خلاف کام کرنے کا الزام سر اسر بے بنیاد اور غلط ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔

Mohammad Arif Iqbal
Being a journalist and member of PCI I support the views of PCI as stated regarding PTI.