مشرکانہ گیت کی مخالفت، توحید کی عملی تفہیم کا ذریعہ بنے: دہلی میں علماء کا اجتماع
ملت اسلامیہ ہند کو مایوسی سے نکالنا علماء کی ذمہ داری ہے / محی الدین شاکر
نئی دہلی : (پریس ریلیز ) اسلامی معاشرے کی تشکیل میں عقیدۂ توحید بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور مشرکانہ گیتوں و غیر اسلامی مظاہر کی مخالفت اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ محض ردِعمل کے بجائے توحید کی صحیح تفہیم کا ذریعہ بنے۔ یہ بات دہلی میں منعقدہ علماء و ائمہ کے ایک اجتماع میں کہی گئی۔یہ اجتماع “اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں علماء کا کردار” کے موضوع پر آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ اور مجلس العلماء دہلی کے اشتراک سے مرکز جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، جس میں تقریباً 100 علماء شریک ہوئے۔ صدارت محی الدین شاکر صدر، آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ علماء ملت کے لیے رہنما اور رول ماڈل ہیں اور موجودہ حالات میں امت کو مایوسی سے نکالنا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔
آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عارف ندوی نے افتتاحی خطاب میں مذاکرے کے مقاصد بیان کیے۔ مذاکرے میں متعدد علمائے کرام نے اتحادِ امت، مسلکی اختلافات سے اجتناب، خطبۂ جمعہ و نکاح کے ذریعے سماجی اصلاح اور فیملی کونسلنگ پر زور دیا۔
“معاشی استحکام: مواقع اور امکانات” کے موضوع پر ڈاکٹر محمد اسلم علیگ صدر رفاہ چیمبر آف کامرس نے خطاب کرتے ہوئے اسلامک فائنانس، تجارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
اختتام پر سلیم اللہ خان امیر حلقہ دہلی نے علماء سےجماعت اسلامی دہلی کے مختلف رہنمائی پلیٹ فارمز سے جڑنے کی اپیل کی۔

0 comments