صفاانسٹی ٹیوٹ کےزیراہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیر

پروفیسرمحمد نصیب،پروفیسرمحمدزبیر،معروف صحافی ڈاکٹرمحمد اشفاق،تعلیمی کائونسلرعذراجیلانی،اورپروفیسرمسعودعالم فلاحی کی تربیتی خطابات

لکھنو10اگست: میڈیا کی اہمیت اورافادیت سے زیادہ اس سے واقفیت اہم ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 21 ویں صدی میں انسانی دنیا کو جن مہارتوں کی ضرورت ہوگی ان میں ایک میڈیا (جرنلسٹ اسکل) بھی ہے۔ لہٰذا میڈیا سے دوری بنانے کے بجائے اس کو سمجھنے ، اپنانے اوراس کی اخلاقی و قانونی شرائط و پابندی کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں میڈیا مختلف شکلوںمیںموجود ہے۔ بس ضرورت اس  بات کی ہے کہ اس کے منفی کردار سے بچتے ہوئے مثبت استعمال کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار صفا انسٹی ٹیوٹ فارمیڈیالٹریسی اینڈ جرنلزم کے تحت ہوئے ایک روزہ ورکشاپ میں مقررین نے کیا۔خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرمسعودعالم فلاحی کی صدارت میںدارالقرآن شاہن پہیا کاکور ی میں اس ورکشاپ کاانعقادعمل میں آیا،جس میں چار درجن کے قریب خواہشمند طلبہ نے رجسٹریشن کے بعد شرکت کی۔ کئی نشستوں پر مشتمل ورکشاپ میںخواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی سے شعبہ ترسیل عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نصیب نے سورہ نباکے حوالے سے طلبہ کو تربیت دی۔ انٹگرل یونیورسٹی کے شعبہ ماس کام کے ڈاکٹر محمد زبیر نے کہاکہ میڈیا کا مطلب ہے اطلاعات فراہم کرینا، اب ہم کسی خبر کے لیے دوسرے دن اخبار کے منتظر نہیں رہتے بلکہ وہ باتیںچند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کو اب اپنی شناخت، صحیح بات پہنچانے اور آمدنی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے کہاکہ زندگی کے مسائل پیچیدگی کاشکار ہیں۔ منصوبہ بند طریقہ سے انسانی قدروں کو پامال کیا جارہا ہے۔ سوتی ہوئی انسانیت کا جگانے کے لیےہمیں وہ تمام ذرائع استعمال کرنا چاہئے ان میں میڈیا بھی ہے۔ سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہاکہ ہرشعبہ میں قوانین و حدود ہوتے ہیں میڈیا میں بھی لیکن دوسرے شعبوں کی مناسبت میڈیا کو کچھ آزادی ہوتی ہے۔ گلوبل باونڈری کے بانی صحافی سلیم آزاد نے طلبہ کو موبائل جرنلزم کے حوالے سےتربیت دیتے ہوئے انہیں ویڈیو گرافی، اس کی ایڈیٹنگ، کیپشن، تھمنیل،ٹیگ،ٹائٹل، ڈسکرپشن وغیرہ لکھنے اور انہیں لوڈ کرنے کے طریقہ بتائے۔کیئرئر کاونسلر عذرا جیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں احتیاط اور استعمال کی عملی مشق کرائی۔نوجوان عالم دین  مفتی منور سلطان نےمیڈیا کے تنقیدی شعور پر تفصیل سے روشنی ڈالی،اور ہرخبرکوپرکھنے کے بعدآگے بھیجنے کامزاج بنانے کی تاکید کی۔  مہمان اعزازی مولانا اصطفاء الحسن ندوی استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء نےقرآن و حدیث کے حوالے سے خبر کی تصدیق اور ترسیل کی نصیحت کی۔اسی طرح ڈاکٹرمونس نے طلبہ کو کمیونیکشن اسکلزکی جانب متوجہ کیا صدارت کررہے خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی کے سابق کارگزار وائس چانسلر ، لا فیکلٹی  کے ڈین پروفیسر مسعود عالم فلاحی نے میڈیا کی اہمیت اور دورحاضر میں میڈیا کی مختلف شکلوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ کی تربیت کی۔ اس سے قبل دارالقرآن شاہین کے روح رواں مولانا محمد مصطفیٰ مدنی ندوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا نیز اپنے تاثرا ت کا بھی اظہار کیا۔ صفاانسٹی ٹیوٹ کے پروگرام ڈائرکٹرمحمد غفران نسیم نے تمام نشستوں کی نظامت کرتے ہوئے صفاانسٹی کی سرگرمیوں سے واقف کرایا،ساتھ ہی مہمانوں کااستقبال کیا،اس ورکشاپ میں انسٹی ٹیو ٹ آف سوشل ہار مونی و اپ لفٹ منٹ کے بانی محمد خالد صاحب، جمشید قادری ندوی، ابرار عالم، قاری صدام حسین،عبدالرحیم ندوی،محمد ثاقب،خالدحلیم،مولاناہارون

0 comments

Leave a Reply