اجمیر: راجستھان میں آج 21 جون 2026 کو نیٹ (NEET) کا دوبارہ امتحان منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ریاست بھر میں 577 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ سخت سکیورٹی اور ضوابط کے درمیان ہونے والے اس امتحان کے دوران ایک بار پھر حجاب کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔
نو بھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راجستھان کے شہر اجمیر کے ایک امتحانی مرکز پر حجاب پہن کر آنے والی ایک طالبہ کو سکیورٹی جانچ کا حوالہ دیتے ہوئے امتحانی مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس پر طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ نے سخت احتجاج کیا۔ تاہم کچھ دیر تک جاری رہنے والی بحث و تکرار اور انتظامیہ سے بات چیت کے بعد مکمل تلاشی لے کر طالبہ کو آخرکار امتحانی مرکز میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
طالبہ کا الزام
یہ واقعہ اجمیر کے ساوتری اسکول امتحانی مرکز کا ہے، جہاں بیاور کی رہائشی امیدوار کلسوم امتحان دینے پہنچی تھیں۔ کلسوم کا الزام ہے کہ امتحانی مرکز پہنچنے کے بعد برقع پہننے کی وجہ سے انہیں داخلے سے روک دیا گیا، جس سے وہ شدید پریشان اور مایوس ہو گئیں۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ برقع ان کی مذہبی شناخت کا حصہ ہے اور وہ اسے اتار کر امتحان نہیں دے سکتیں۔
والد کا موقف
امتحانی مرکز کے باہر کافی دیر تک طالبہ، اس کے اہلِ خانہ اور انتظامی حکام کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہا۔ کلسوم کے والد نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں نیٹ امتحان میں شریک ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری بیٹی کو ایک دوسرے امتحانی مرکز پر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جبکہ یہاں ان کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
"میں تمام قواعد پر عمل کرنے کو تیار ہوں"
والد نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی تمام ضروری دستاویزات اور مقررہ ضوابط کے مطابق امتحانی مرکز پہنچی تھی، اس کے باوجود اسے روکا گیا۔ امتحان میں شریک طالبہ کلسوم نے کہا کہ وہ امتحان دینے آئی ہیں اور تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنی مذہبی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اجازت نہ ملتی تو ان کا امتحان چھوٹ جاتا، مگر وہ پھر بھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹتیں۔
0 comments