این سی پی یوایل کا پٹنہ سمینار : اگلا قدم اس عہد کو عملی جامہ پہنانے کا ہے

اس میں اردو کے چاہنے والے اپنا حصہ ڈالیں

اشرف علی بستوی 

(این سی پی یو ایل کے پٹنہ سمینار کا آنکھوں دیکھا حال) 


   اکیس اگست کی شام یہ سفر نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ تیجس راجدھانی شروع ہوا،  دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آنے والے تین دن اردو زبان کے حوالے سے کس قدر اہم ہونے والے ہیں۔

یہ موقع تھا 

پٹنہ کے باپو ٹاور میں این سی پی یو ایل کی جانب سے تین دن کا سیمینار بعنوان 

' اردو زبان کا مستقبل - وکست بھارت @2047 کے تناظر میں' 

شہر پٹنہ پہنچتے ہی ایک عجیب سی رونق محسوس ہوئی۔ سبزی باغ میں قیام رہا لیکن کھانے کی میز اور بازاروں میں سبزی نہیں نظر آ ئ
  22 اگست کی شام سیمینار کے مقام باپو ٹاور کیمپس میں قدم رکھتے ہی ایسا لگا جیسے اردو کے چاہنے والے ہر سمت سے یہاں کھنچے چلے آئے ہوں۔ ہال کے در دیوار کی خوشبو اور حاضرین کا جوش یہ سب مل کر ایک علمی دنیا بسا رہے تھے۔

May be an image of 1 person, studying and clarinet

افتتاحی اجلاس میں بیٹھے بیٹھے میں سمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے محققین اور اساتذہ کو دیکھ رہا تھا۔ ہر چہرے پر اردو کے لیے محبت اور فکر جھلک رہی تھی۔
 
افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی تھے ریاست کے گورنر عارف محمد خان، انہوں نے اس موقع پر نہات عالمانہ اور ناصحانہ خطاب کیا اور اردو حلقے کو ہندوستان اور ہندوستانی مزاج کے سانچے میں اردو کو ڈھالنے کی نصیحت کی. 
جبکہ معروف ماہر آئین فیضان مصطفیٰ نے ہندوستانی آئین کی روشنی میں خود احتسابی کی دعوت دی 

معروف فکشن نگار سید محمد اشرف کی گفتگو نے ادبی تخلیق کے لیے بحث کی نئی راہیں کھولیں 
جشن بہار کی بانی کامنا پرساد کی سحر انگیز گفتگو نے پورے ہال میں اردو کی خوشبو سے معطر کردیا.
 
 اگلے روز  صبح جب مقالات کا سلسلہ شروع ہوا تو یوں لگا جیسے خیالات کی ندیاں بہہ رہی ہوں۔ کسی نے تحقیق کے نئے پہلو اجاگر کیے، تو کسی نے نصاب اور زبان کی تدریس کے مسائل پر بات کی۔

میری باری آئی تو بطور مباحث کار مجھے ' اردو زبان اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی' کے موضوع پر پڑھے گئے ڈاکٹر عبدالحی اور ڈاکٹر مظہر حسنین کے مقالوں پر بات رکھنے کا موقع ملا۔ سامعین کی نگاہیں پوری توجہ سے میری طرف جمی تھیں۔ان کے تاثرات  
نے میرے دل کو مطمئن کیا اور یہ یقین ہوا کہ اردو کا درد اور شعور ابھی زندہ ہے۔ وہ لمحہ میرے لیے محض ایک گفتگو نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا اعلان تھا۔

سیمینار کے تین دن یوں گزرے جیسے پلک جھپکنے کی دیر ہو۔ ہر نشست کے بعد باہر نکلتے ہی راہداریوں میں علمی بحثیں جاری رہتیں، کبھی کسی کونے میں نوجوان اپنی رائے دیتے دکھائی دیتے، تو کبھی بزرگ اساتذہ اپنے تجربات بانٹتے نظر آتے۔ پٹنہ کی فضا گویا اردو کے ترانے گا رہی تھی۔

اختتامی اجلاس میں یہ بات شدت سے دہرائی گئی کہ ایسے سیمینار کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، مجھے لگا جیسے یہ سب کے دل کی آواز ہے۔
  کل شام دہلی واپسی کے سفر میں جب ٹرین کی کھڑکی سے شام کے دھندلکے کو دیکھ رہا تھا تو دل میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ یہ تین دن محض ایک سیمینار نہیں تھے، بلکہ اردو زبان اور تہذیب سے ایک نئی تجدیدِ عہد تھے۔

May be an image of 6 people, dais and text

اب اگلا قدم اس عہد کو عملی جامہ پہنانے کا ہے، اس میں اردو کے چاہنے والے اپنا حصہ ڈالیں تبھی یہ کہہ سکیں گے کہ @2047 میں جب ملک وکست بھارت کا جشن منا رہا ہوگا تو اس وقت اردو بھی اپنا رول ادا کر رہی ہوگی

اس سمینار کی کامیابی میں کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کی ضد کا بڑا دخل رہا، یہ ان کی صلاحیت ہی ہے کہ انہوں نے کومہ میں چلے گئے ادارے کو پھر سے متحرک کیا ، حاصل وسائل اور اختیارات میں مسلسل سرگرمیاں جاری رکھیں، ورنہ ایک وقت آگیا تھا کہ کافی چیزیں ٹھپ پڑ گئیں تھیں

اس کے لیے انہیں ایک بار ضرور مبارکباد دیجیے 

ہم توقع کرتے ہیں کہ 

اب تو ان کے پاس ایگزیکیٹیو بورڈ بھی ہے، اپنے مینڈیٹ کا گہرائی سے جائزہ لیں اور این سی پی یو ایل کو @2047 کے لیے پوری طور پر تیار کریں. 

وزارت کو اعتماد میں لیکر ڈیجیٹل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عملی تجاویز پاس کروائیں،

 اب تک کے ان کے پر فارمینس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں 

0 comments

Leave a Reply