این سی پی یو ایل : ساورکر پر کتاب سے میرا بائی تک ؛ ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟

اردو والوں کو یہ غیر معمولی واقعہ کیوں لگا ؟

نئی دہلی (ایشیا ٹائمز نیوز / اشرف علی بستوی ) کل این سی پی یو ایل کے فیس بک پیج پر پہونچا تو خلاف معمول ہندی کے ایک اخبار کا تراشہ شیئر کیا گیا ملا اورآگے بڑھا تو دی پرنٹ انگریزی کی ایک  لنک ملی جس میں بچوں کے لٹریچر پراسٹوری ہے ۔ اس کے علاوہ  کسی واٹس ایپ گروپ میں ٹائمز آف انڈیا میں شائع این سی پی یو ایل کے کتاب میلے پر اسٹوری پربھی نظر پڑی ۔ یہی سے یہ خیال گزرا کہ اس اسٹوری پر تو پہلا حق ہم اردو والوں کا تھا لیکن  یہ ہندی و انگریزی والے کیسے بازی مار لے گئے ، اردو اور این سی پی یو ایل میں ان کی دلچسپی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

May be an image of text

ٹائمزآف انڈیا کی رپورٹ 

تنازع کیا ہے اور کیوں ہے ؟  

 ہم سب جانتے ہیں کہ این سی پی یو ایل ملک کا  ایک ایسا قومی ادارہ ہے جو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے تین دہائی سے سرگرم ہے ، لیکن  وقفے وقفے سے اپنے بعض فیصلوں اور اشاعتی پالیسیوں کی وجہ سے اکثر تنازعوں میں گھر جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ساورکر پرسابق چیف انفارمیشن کمشنر اودئے ماہورکر کی کتاب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کے بعد سے اردو حلقوں میں ہلچل ہے۔ سوشل میڈیا پر ادارے کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا، بعض اسے ڈائریکٹر کی دور اندیشی گردانتے ہیں تو کچھ حلقے اسے "اردو کے تشخص" کے خلاف اقدام قرار دے رہے ہیں  ۔

May be an image of text

امر اجالا ہندی 


اردو والوں کو یہ غیر معمولی واقعہ کیوں لگا ؟  

ہندوستان میں اردو پڑھنے ، لکھنے اور بولنے والوں کی غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے اور مسلمان ساورکر کے فکر و فلسفے کو پسند نہیں کرتے ، یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جو ہنگامہ کا سبب بنا ۔ ساورکر پر کتاب شائع کرنا اردو طبقے کے لیے غیر متوقع تھا، لیکن یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ این سی پی یو ایل ایک سرکاری ادارہ ہے، جو اردو کو قومی سطح پر فروغ دینے کا ذمہ دار ہے، نہ کہ کسی مخصوص فکری یا مذہبی موقف کا نمائندہ اور ہر دور میں سرکار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے فکر و فلسفے کو فروغ ملا ہے تو اس لحاظ سے یہ معمول کی بات ہوئی ، لیکن یہ اردو والوں کے لیے غیر معمولی واقعہ لگا ۔
 ساورکر پر کتاب کی اشاعت کو محض نظریاتی بنیادوں پر متنازع بنانا اردو کے علمی دائرے کو غیر ضروری طور پر محدود کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کتاب کی اشاعت سے قبل ماہرین نے اس کے مواد کا تفصیلی جائزہ لیا اور اسے منظوری دی تھی ۔ اب اگر ساورکر پر شائع  ہو ئی اس کتاب کے مواد سے اعتراض ہے تو اس پر اسی انداز میں علمی جواب دیا جانا  مناسب  معلوم ہوتا ہے ۔ 


عملی سرگرمیوں اور کچھ مثبت  پہلو کا بھی ذکر ہو جائے 

تنازع کے باوجود اردو حلقوں کویہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈاکٹرشمس اقبال کی سربراہی میں این سی پی یو ایل نے کئی مثبت اقدامات کیے ہیں۔ کتاب کلچر کے فروغ، گرانٹ اِن ایڈ کی بند اسکیموں کی بحالی اور بچوں کے لیے ہندوستانی ثقافت کی نمائندہ اردو لٹریچر کی تیاری اس کے نمایاں کارناموں میں شامل ہیں۔ ادارے کی یہ کاوشیں اردو کے لیے ایک نئے تعلیمی اور ثقافتی امکان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

Jamia Millia Talimi Mela 2025| Foundation Day of Jamia #jamiamilliaislamia  #jmi #jmitalimimela - YouTube

اردو یہاں سے کیوں غیر حاضر رہی ؟ 

دلچسپ امر یہ ہے کہ این سی پی یو ایل اگلے ماہ 22 تا 30 نومبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو کتاب میلے کا اہتمام کر رہا ہے، لیکن اسی دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 105 ویں یومِ تاسیس پر منعقد ہونے والے تعلیمی میلے میں اردو کی غیر موجودگی ایک تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ میلے میں اردو پبلشر کے نام پر بمشکل ایک نام  ایم آر پبلیکیشن  نظر آتا ہے

یہ سوال  بہت اہم ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جو اردو ورثے کی امین مانی جاتی ہے، قومی کونسل کے اشتراک سے اردو کتاب میلے کو ممکن کیوں نہیں بنایا؟ کیا اردو اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی کمی بھی اردو کے فروغ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ؟ جبکہ این سی پی یو ایل  کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر مظر آصف ابھی کچھ ہی روز قبل ایک اسٹیج پر دیکھے گئے تھے ، چاہتے تو باہم اشتراک سے تعلیمی میلے میں ایک شاندار کتاب میلہ کرسکتے تھے ؟  

اردو کی کہانی دوسرے لکھ رہے ہیں

قابل غور بات یہ بھی ہے کہ حالیہ دنوں میں  دیکھا گیا ہے کہ انگریزی اور ہندی میڈیا ادارے، جیسے ٹیلی گراف، دی پرنٹ، ٹائمز آف انڈیا اور امر اجالا، این سی پی یو ایل کی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر کور کر رہے ہیں۔  بچوں کے لٹریچر میں بھارتی کلچر پر تبصرہ کیا جا رہا ہے تو کہیں اردو کتاب میلے کی پیشگی رپورٹ شائع ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کہانیوں کے کہنے کے اصل حقدار اردو والے کیوں پیچھے رہ گئے؟


 یہ  بیانیے کی  جنگ ہے   

یہ  اشارہ ہے اس بنیادی کمی کی طرف  ، باہمی رابطے اور فکری کشادگی کی کمی جو اردو کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ این سی پی یو ایل، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اردو اکیڈمیاں اور نجی ادارے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں۔ اردو کی اصل جنگ اب صرف زبان کی نہیں، بیانیے کی سطح پر ہے اور اس میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اردو ادارے ایک دوسرے کے حلیف بنیں، حریف نہیں ۔

May be an image of ‎text that says "‎राष्ट्रीय उरदू भाषा विकास परिषपद् قویکوملعکاےفورغخرونبان اردوزبان لباےفغ قومی_ن NATIONAL COUNCIL FOR PROMOTION OF URDU LANGUAGE Ministry Education Government India Savethe Date अलीगढ़ उर्द दूपुस्तक मेला على_گزه كحتاب اردو Aligarh میله UvduBookFair Book Fair UrduBo 22-30 NOVEMBER 2025 25830-22 TIME:11:00 AM ΤΟ 8:00 PM وقتاقن،ئےیسےراتہےہےنک داخلہسفت ENTRY ENTRYFREE FREE سینٹر كيشن كليرلايجو عیگٹرھہسلریویورسٹی،بلیگڑاھ ملگھ CULTURAL EDUCATION CENTRE Aligarh Muslim University, Aligarh‎"‎

0 comments

Leave a Reply