مسلمانوں کو تھنک ٹینکس کی ضرورت ہے!

عمیر انس

 

 

یونان کے سیاسی فلسفہ کو آج بھی نصابی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کیونکہ جمہوری طرز سیاست کے اولین خد و خال وہاں سے برآمد کیے گئے تھے، مارکسزم اپنی تمام ناکامیوں کے باوجود اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ ملکوں میں مزدوروں کے بنیادی حقوق اور دولت کی غریبوں میں تقسیم کو اس نے بنیادی ضرورت ثابت کیا.
آپ مغربی تہذیب سے لاکھ اعتراض کریں لیکن آپ کسی مغربی ملک کا ہی پاسپورٹ لینا پسند کریں گے کیونکہ ان ممالک میں لبرلزم آپکو اپنے ممالک کے سیاسی، معاشی، اور مذہبی تنازعات سے نجات دلاتا ہے، اسلام کے سخت ترین ناقدین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ انسانی مساوات اور عالمی اخوت کا سب سے بہتر تصور اسلام میں ہے. اپنی تمام ترقیات اور کامیابی کے باوجود دنیا میں سیاسی، سماجی، معاشرتی، اور ثقافتی معاملات پر سب سے زیادہ تحقیقی مضامین، تحقیقی مکالمے، تحقیقی مراکز اور ان پر پیسہ انسانی اور مالی وسائل خرچ کرنے والے ممالک میں پہلے مغربی ممالک ہیں، پھر غیر مغربی ممالک کے غیر مسلم معاشرے ہیں. ایک زمانہ وہ تھا کہ مسلم مفکرین یورپ کو نہ صرف اسلامی فلسفہ بلکہ خود یونانی فلسفہ سکھا رہے تھے

میں اپنی یونیورسٹی میں غیر مغربی بین الاقوامی تعلقات کے نظریات کا مضمون پڑھاتا ہوں اور ہر سیمسٹر کے آخر میں میں اپنے طلبہ کو بتاتا ہوں کہ مغربی نظریات میں بہت ساری کمیوں کے باوجود غیر مغربی دنیا کے پاس اسکے افکار کی ایسی تنقید موجود نہیں ہے کہ جس سے وہ مغربی افکار کو ہٹا کر اسے رکھ لیں اور دیگر نظریات ابھی مغربی افکار کے پر کشش اور قابل قبول ہونے کے معیار کو حاصل نہیں کر سکے ہیں. اس طویل تمہید کی وجہ یہ ہےکہ آج کے کالم میں میں اس تعجب کہ اظہار کرنا چاہتا تھا کہ گزشتہ ستر اسی سالوں سے ملت اسلامیہ بشمول مذہبی اور غیر مذہبی طبقات افکار اور نظریات بلکہ مجموعی طور پر سماج اور سیاست کہ موضوع پر مطالعہ کرنے میں سب سے پیچھے کیوں ہیں؟ عالمی سطح پر مسلم ممالک میں سماجی سیاسی موضوعات پر کام کرنے والے تحقیقی ادارے افسوسناک حد تک پسماندہ اور وسائل اور توجہ سے محروم ہیں. ہندوستان میں قریب دو ہزار چھوٹے بڑے تھنک ٹینکس ہیں۔ اکیلے سنگھ پریوار کے راست یا بالواسطہ مراکز کی تعداد کوئی دو سو ہوگی جنکے سالانہ بجٹ بیس کروڑ سے کم از کم پچیس لاکھ والے ہیں. مسلمانوں کے اشاعتی اداروں کی سبھی مطبوعات کی فہرست اپنے سامنے رکھیں تو بتائیں کہ انہوں نے ستر سالوں میں اپنی صفوں سے کتنے ماہر سماجیات، ماہر معاشیات، مورخین اور ماہر سماجیات کو پیده کیا ہے، کمیونسٹ پارٹی یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اسکے پاس سو سے زیادہ صرف ماہرِ معاشیات ہونگے.

آر ایس ایس دعویٰ کر سکتی ہے کہ اسکے پاس سو سے زائد مورخین ہیں جو جدید جامعات سے فارغ ہیں اور وہیں پڑھا رہے ہیں، ملک میں جمہوریت اور جمہوری نظام کی بہتری اور فروغ کے لیے بیشتر کتابیں غیر مسلم مفکرین لکھتے ہیں، ملک کے سبھی قابل احترام اخبارات میں ملکی مسائل پر ماہرین کی شائع ہونے والی آراء میں مسلمان ماہرین کہ حصہ کوئی دو فیصد سے بھی کم ہے، مسلمان کس کے سہارے اپنے ملک اور اپنی دنیا کو سمجھنے کا کام کر رہے ہیں؟ کیا اس ملک کی جمہوریت اور سیاسی نظام کا حصہ بننے کے لیے غور و فکر کی زمہ داری انہوں نے صرف غیر مسلم مفکرین کے سپرد کر رکھی ہے. یقیناً ان سے استفادہ کرنا اور سیکھنا بہت ضروری ہے لیکن کیا انہیں خود بھی نہیں وہی چیزیں سیکھ کر اپنی باتیں کہنا چاہیے بلکہ انکی مجلسوں میں پورے ملک کی فلاح کے منصوبے وہ خود بھی پیش کریں. یہ توقع غلط ہے کہ عرق ریزی غیر مسلم محققین اور ماہرین کریں اور اللہ ہمارے لیے کوئی شارٹ کٹ راستہ پیدا کر دیگا؟

تصور کریں اگر بیس کروڑ مسلمان ایک ملک ہوتے تو انکو کیا اس مہارت کی ضرورت نہیں پڑتی؟ کیا چار پانچ ہزار ماہرین سماجیات کی ضرورت نہیں ہوتی، ہزار دو ہزار ٹی وی چینلز، اخبارات، ویبسائٹس کی ضرورت نہیں پڑتی؟ کم از کم ایک ہزار ماہرین معاشیات کی ضرورت ہے اس ملت کو یہ سمجھنے کے لیے کہ اس ملک کی معیشت کو کیسے بہتر کیا جائے اور کیسے اس میں مسلمانوں کو بھی ایک مفید حصہ بنایا جائے.
کتنے ہیں آپ کے پاس؟ ہمیں اس جھوٹے تخیل سے بہر حال باہر آنا ہوگا کہ کوئی معجزاتی، کراماتی شخصیت اکیلے یہ سارے کام کر سکتی ہے. مسلمان علماء اور جدید تعلیم یافتہ حضرات اور سماجی کارکنان جو کر رہے ہیں وہ بیحد قابل تعریف ہے لیکن اتنی بڑی آبادی اور اتنے بڑے ملک کے سامنے انکی کوششیں فرسٹ ایڈ امداد سے زیادہ نہیں ہیں جنکا کام ہے کہ جائے حادثہ پر خطرے سے بچا کر اسپتال منتقل کرنا نہ کہ خود بیٹھ کر علاج کرنا. قیادت کا کام یہ ہےکہ وہ اپنے اداروں، مدرسوں، جامعات میں مضامین کی مہارت پیدا کرنے کا مستقل نظم کریں. اچھے اساتذہ اور اچھے طلبہ، تحقیق اور جستجو کی حوصلا افزائی، آداب تصنیف کی تربیت اور مکالمے کا سلیقہ اور اپنے خیالات کو ماہرین کے درمیان، فیصلہ ساز افراد اور افسران کے درمیان بہتر سے بہتر طریقے سے پیش کرنے کا سلیقہ سکھانے والے ایک نہیں بلکہ درجنوں اداروں کی ضرورت ہے.

ایسا نہیں ہےکہ ہمارے علماء، قیادت، اور نمائندگان اس اہم ضرورت کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ عرض کیا کہ انکی کوششیں بہت محدود بھی ہیں اور ابتدائی درجے کی ہیں. اور جیسا کہ اکثر مسلم مسائل کا معاملہ ہے منصوبہ بند سوچ اور مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق ایک طویل مدتی کوشش کے بجائے اکثر ایڈہاک، وقتی کوششوں سے کام چلایا جاتا ہے. مثال کے طور پر آپ دیکھیں گے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے بعد پہلی بار مسلمانوں کو اپنے سماجی معاشی پسماندگی کا حقیقی اندازہ ہوا لیکن اسکے بعد مسلمانوں کے اداروں اور تنظیموں کو لگا کہ شاید بس ایک رپورٹ کافی ہے اور اس پر مستقل غور و فکر کرنے کا کوئی نظم اپنے درمیان نہیں بنا سکے، نتیجہ یہ ہےکہ اپنی پسماندگی کے بارے میں ہمیں کسی حکومتی اور کسی غیر مسلم این جی او کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمیں ہمارے مسائل کے بارے میں بہتر معلومات دے سکے.
جو کچھ ادارے سرگرم ہیں بھی تو انکا طریقہ کار کافی ذاتی قسم کا ہے. دنیا پر اپنا اثر چھوڑنے والے علمی کاموں کو جن سخت مرحلوں سے گزارا جاتا ہے، علمی کاوشوں کو جتنے معیاروں پر پرکها جاتا ہے مسلمانوں کے تحقیقی ادارے بمشکل ہی اپنی تحقیقات ان اصولوں کے مطابق کرتے ہیں، اسکی ایک مثال ہماری یونیورسٹیوں کے اسلامی اسٹڈیز، عربی، فارسی، اردو، شعبوں کے تحقیقی مقالے اور تھیسس ہیں جنکے بارے میں آیے دن اخبارات اور رسالوں میں علمی سرقہ کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں

موجودہ دور میں مسلمانوں کا بالعموم اور ہندوستانی مسلمانوں کا خاص طور پر فکری اور علمی دنیا میں اثر اور کشش کیوں کم ہوتی جا رہی ہے. ہمارے درمیان یہ غلط فہمی عام ہو گئی ہے کہ فکری اور علمی دنیا میں سرگرم رہنا کسی خاص ضرورت کے تحت ہی ہونا چاہیے حالانکہ یہ ایک ایسا کام ہے جو ترقی کے اعلیٰ درجے پر پہنچ جانے کے بعد بھی کرتے رہنا چاہیے، ظاہر ہے کہ امریکہ کو مریخ پر مشن بھیجنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے اور نہ وہاں سے آنے والے نتائج ایسے حوصلا افزا ہیں کہ اس سے کوئی بڑی اُمید پیدا ہو، اسی بنیاد پر ایک پاکستانی افسر نے ایک بار کہا تھا کہ کیا ضرورت ہے کہ ہم خلائی مشن بھیجیں، لیکن وہ بھول گئے کہ کائنات کا مطالعہ کرنے کا مقصد صرف زندگی کے امکانات تلاش کرنا نہیں بلکہ فزکس، کیمسٹری جیسے دیگر علوم کے ہزاروں اصولوں کو ٹیسٹ کرنا اور ان سے نتائج نکالنا اور انکی بنیاد پر نئے استدلال پیدا کرنا وغیرہ جیسے ہزاروں مقاصد ہیں جو حاصل ہوتے ہیں، جو مسلمان یہ سمجھ کر سوشل سائنس، تاریخ، جیسے موضوعات کو بالکل توجہ نہیں دیتے انہیں محسوس کرنا چاہیے کہ سماجیات کا مسلسل مطالعہ ایک دو سال کا نہیں بلکہ سالوں میں نتائج دینے والا عمل ہے. استعماری نظام کے ساتھ آنے والے یورپی اسکالرز کو ہماری تاریخ، سیاسیات اور معیشت اور کلچر پر کام کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی لیکن انکی کوششوں نے آنے والی صدیوں میں مغربی تہذیب کے مقابلے میں مشرقی تہذیبوں کے پسماندہ ہونے کا استشراقیت کا مدرسہ فکر غالب کر دیا. ایک مغلوب اور شکست خوردہ معاشرہ بننے کے لیے اسکا غریب ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اسکی فکری تخلیق، علمی جستجو، اور اپنے معاشرے کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جانا ہے. سترویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مسلمان لٹریچر کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمان یورپ کی برق رفتار سماجی اور علمی تبدیلی سے بے خبر بھی تھے اور بے پرواہ بھی. شکر ہے کہ ہندوستانی مسلمان اس غلطی کو دہرانے کی بجائے زیادہ توجہ سے اپنے اطراف سے باخبر رہنے اور اس سے استفادہ کرنے اور اسکی کمزوریوں کو بھی درست کرنے کی فکر کر رہے ہیں. لیکن اس کوشش کی رفتار اتنی کم اور اسکا طریقہ اتنا غیر منظم اور غیر پروفیشنل ہے کہ مستقبل کے فکری اور علمی اُفق پر اور مستقبل سازی کے مرحلوں میں انکی موجودگی اور اثر بس برائے نام ہی رہنے والا ہے

مضمون نگار سنٹر فار اسٹڈیز آف پلورل سوسائٹیز، تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر ہیں. ان سے
www.cspsindia.org پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.

یہ مضمون ان کی فیس بک وال سے لیا گیا ہے 

0 comments

Leave a Reply