ہندوستان میں مسلمان ایک ہزار سال میں بھی ہندو آبادی سے زیادہ نہیں ہو سکتے/ ڈاکٹر ایس وائی قریشی

 

 نئی دہلی : دی سینٹر فار اسٹڈیز آف پلرال سوسائٹیز  نئی دہلی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک مذاکرے میں سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے مسلمانوں کی آبادی کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب کے حوالے بتایا کہ ہندوستان میں مسلمان ایک ہزار سال میں بھی ہندو آبادی سے زیادہ نہیں ہو سکتے، بد قسمتی سے بہت ساری ہندو تنظیمیں ملک میں پروپگنڈہ پھیلا رہی ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی کو جبرا نہیں روکا گیا تو ہندو اقلیت میں ہو جائیں گے اور مسلمان اس ملک پر اکثریت میں آجائیں گے، لیکن یہ خوف نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ انسانی آبادی میں اضافے کے تمام معروف سائنسی اصولوں کے خلاف ہے۔

May be an image of 4 people, people studying, newsroom and text

انھونے دہلی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر دینش سنگھ کے بنائے ہوئے ماڈل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبادی کو کنٹرول کرنے کے معاملے میں ہندو اور مسلمانوں کہ رویہ ایک جیسا ہے، دونوں مذاھب کے غریب خاندانوں میں۔ شرح پیدائش آگے ہے، دونوں ہی طبقے کے محض پچاس فیصد لوگ ہی آبادی کنٹرول میں عملی قدم اٹھاتے ہیں، اس لحاظ سے پچاس کروڑ ہندو اور دس کروڑ مسلمان کی شرح پیدائش پہلے کی طرح دو فیصد سے زیادہ ہے، اس لحاظ سے پچاس کروڑ ہندو آبادی میں جتنا اضافہ کرینگے مسلمان اتنا اضافہ سینکڑوں سالوں میں بھی کرتے ہے ہندو آبادی کے برابر نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو متوجہ کیا کہ اس موضوع پر مزید سنجیدہ تحقیقات کی ضرورت ہے اور نوجوان اسکالر اس موضوع پر مزید تحقیق کریں اور عوام کے سامنے دلائل اور شواھد کے مطابق غلط فہمی پھیلانے والے پروپگنڈے کا جواب دیں. اس موقع پر سابق سفیر کے پی فابیان نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ایک مسلمان یا کسی بھی مذہب کے ماننے والے شہری کا جمہوری سیاست کے ذریعے عوامی مقبولیت کے ساتھ وزیر اعظم ہونے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اس لیے مسلمانوں کی آبادی کبھی بھی ہندوں سے زیادہ نہیں ہونے کے باوجود۔بھی سیاسی طور پر وہ ملک کے برابر کے شہری ہیں۔

اس موقع پر ڈائریکٹر سی ایس پی ایس ڈاکٹر عمیر انس نے بتایا کہ اس ادارے کا مقصد ملک کے تمام سیاسی سماجی اور ثقافتی نقطہ ہائے نظر کے درمیان مشترکہ مفاد کے لیے مذاکرات کو فروغ دینا ہے، ملک کے سبھی شہریوں کو ملک کی بہتری کے لیے رائے دینا اور رائے رکھنا اور اختلاف کرنا اور اختلاف کا احترام کرنا جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، اسی مقصد سے اس ادارہ  نے دانشوروں اور محققین کے درمیان اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع کیا ہے، اس علمی مذاکرے میں سابق سفیر کے پی فابیان، پروفیسر ارویندر انصاری، پروفیسر نشاط قیصر سمیت متعدد ممتاز دانشورانِ نے شرکت کی، سی ایس پی ایس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عمیر انس نے مہمانوں كا استقبال کیا. ڈاکٹر شیبا ناز، ڈاکٹر جاوید وانی، ڈاکٹر عظیمہ سلیم نے شرکا کا استقبال کیا. 

0 comments

Leave a Reply