اتحاد بین المسلمین: ایک خواب ، جس کی تعبیر کسی کے پاس نہیں

حرف نیم کش

عظیم اختر 

یقین مانیے ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور اخبارات و رسائل پڑھ کر ملت کے مسائل میں دلچسپی لینی شروع کی ہے بس یہی سنتے چلے آرہے ہیںکہ آج مسلمانوں کی صفوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور باہمی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دینی جلسوںاور ملی کانفرنسوں میں فنِ خطابت کے جوہر دکھانے والے علمائے کرام اور مساجد کے منبروں سے عام مسلمانوں کو راہِ راست پر چلنے کی مسلسل تلقین کرنے والے ائمہ حضرات کی تقریروں اور قرآن و حدیث کے حوالوں سے مزین وعظوں کا خاتمہ بالخیر ہمیشہ اسی مفروضے پر ہی ہوتا ہے کہ دنیا کو اجتماعیت، باہمی اخوت، یگانگت اور اتحاد کا درس دینے اور زندگی کے ہر میدان میں اپنے وجود کا بھرپور احساس کرانے والی قوم آج بذاتِ خود ان اوصاف سے محروم ہو کر ایک ایسی بے وزن قوم بن کر رہ گئی ہے جس کی صفوں میں انتشار نے گہری جڑیں پکڑ لی ہیں اور اتحاد وہم آہنگی ماضی بعید کا حوالہ بن کر رہ گیا ہے۔

 

علمائے کرام کے آئے دن کے اس قسم کے بیانات اور فرمودات پڑھ کر شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ گویا اتحاد، اخوت اور ہم آہنگی کی جو دولت اس قوم کو قرآن و حدیث کی روشنی اور ایک مسلسل تاریخی عمل کے ذریعے ورثہ میں ملی تھی، اس قوم نے دنیوی جھمیلوں میں پھنس کر زندگی کے سفر میں کسی موڑ پر گنوا دی ہے اور ماضی بعید کا ایک خوب صورت حوالہ بن گیا ہے۔ ماضی بعید کا یہ خوب صورت اور سنہری حوالہ آج کے مسلمانوں کے مذہبی اور دینی ٹھیکیداروں کو ہمہ وقت بے چین اور بے کل کیے رکھتا ہے۔ لیکن ملت کی اس دولتِ گم گشتہ پر بے چینی کا اظہار کرنے اور لفظوں کی جادوگری کرتے ہوئے عام مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے والے ہمارے علمائے کرام اس بنیادی حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عوام الناس بھیڑوں کے اس گلّے کی مانند ہوتے ہیں جنھیں چرواہا جدھر چاہے ہنکا کر لے جائے اور گلہ کا گلہ سر جوڑے اس کے پیچھے چلتا ہے۔

 

ممکن ہے اسے سخن گسترانہ اظہارِ خیال پر محمول کیا جائے لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ ملت کی دینی رہنمائی کرنے والے علمائے کرام نے کلمہ گوو ¿ں کو بھیڑوں سے زیادہ کبھی کوئی اہمیت نہیں دی اور ایک چالاک گلہ بان کی طرح ہمیشہ اپنی صواب دید کے مطابق ہانکا جس کے ڈانڈے قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم کے سلسلے میں ماضی بعید کے نیک و صالح بزرگانِ دین کی مختلف النوع آراءسے جا ملتے ہیں۔ جن کو ان کے شاگردوں اور معتقدین نے جوشِ عقیدت میں ایسے مسالک کی شکل دے دی جن کا اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات میں کوئی گزر نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم کی الگ الگ شرح کرنے والے ان بزرگانِ دین کے خواب و خیال میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ آنے والے زمانے میں ان کی شرحیں اور آراءاللہ اور رسول کے نام پر مر مٹنے والے مسلمانوں کی راہیں نہ صرف الگ کر دیںگی بلکہ مساجد کو بھی الگ الگ کر دیںگی اور ایک ایسی کٹر پنتھی سوچ کو فروغ حاصل ہوگا جو اتحاد اور باہمی اخوت کو گھن کی طرح چاٹ جائے گی۔

 

ہمیں اس مسلکی کٹر پنتھی سوچ کا پہلا تجربہ آج سے پچاس پچپن برس پہلے جالندھر میں ہوا تھا جہاں اس وقت مسلمان نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہمیں ہمارے مسلم دوستوں نے بتایا کہ نکودر روڈ پر واقع ایک درگاہ میں سالانہ عرس ہو رہا ہے۔ ہم عرس کے شوق میں شام کو درگاہ پہنچے، درگاہ کے متولی اور عرس کے منتظم سے ملے۔ ہمارا نام سن کر بڑے تپاک اور محبت سے ملے۔ عشاءکی نماز کے بعد جب قوالیوںکا پروگرام شروع ہوا تو ہمیں اپنے قریب بٹھایا۔ قوال ابھی لَے اٹھا رہے تھے ا ور تال ملا رہے تھے کہ متولی صاحب نے کھسر پھسر کے انداز میں ہم سے ہمارے وطن کے بارے میں پوچھا تو ہم نے سیدھے سادے سبھاو  میں جواب دیا کہ حضرت ہم نے دہلی میں ہوش سنبھالا ہے لیکن ہمارے بڑوںکا تعلق دیوبند اور مظفر نگر سے ہے۔ ہمارا خیال تھا متولی صاحب جو سہارنپور سے تعلق رکھتے تھے ہمارا جواب سن کر گرم جوشی اور اپنائیت کا اظہار کریںگے ، لیکن موصوف نے ہمارا جواب سن کر بلند آواز سے لا حول ولا قوة پڑھی اور دوسرے ہی لمحے قوالی کے شوق میں جمع ہونے والے سامعین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ آپ وہاں بیٹھیں یہ جگہ آپ کے لیے نہیں ہے۔ مسلکی نفرت کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا۔ ایسا ہی دوسرا تجربہ ہمیں اوکھلا کے ذاکر نگر علاقے میں رہائش اختیار کرنے کے بعدہوا۔

 

اوکھلا کا یہ تمام علاقہ مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ ہے، جہاں ان گنت مساجد ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب ایک خانقاہ ہے جس میں جمعہ کے علاوہ باقاعدگی کے ساتھ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ ہم نے ایک دن امام صاحب سے پوچھا کہ وہ جمعہ کی نماز کہاں پڑھتے ہیں تو امام صاحب نے ذاکر نگر سے کافی دور واقع ایک مسجد کا نام لیا۔ ہم نے فاصلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا کہ حضرت یہاں کی جامع مسجد تو کافی قریب ہے، آپ اتنی دور کیوںجاتے ہیں تو موصوف نے یہ کہہ کر کہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ یہاں کی جامع مسجد ہمارے مسلک کی مسجد نہیں ہے، گویا با جماعت نماز ادا کرنے کے لیے اپنے ہی مسلک کی مسجد ہونا ضروری ہے۔

 

اوکھلامکمل طورپر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں چھوٹی بڑی خوشنما مساجد کی کمی نہیں، جن کے نام مسالک کی نہ صرف واضح انداز سے نشان دہی کرتے ہیں بلکہ نماز کی ادائیگی کے وقت ایک اللہ ، ایک رسول اور ایک قرآن میں یقین کامل رکھنے والے سیدھے سادے مسلمانوں کی راہیں جدا کر دیتے ہیں۔ ہم نے جب خانقاہ کے ان مولانا کے جواب کی روشنی میں یہاںکا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ یہ مسالک کی چھاپ بڑی گہری ہے اور یہ چھاپ سردی، گرمی اور برسات کی شدت میںبھی نمازیوں کو صرف اپنے ہی مسلک کی مسجدوں کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ جب مسلک کی شدت پسندی اسلام کے اس بنیادی رکن کی اجتماعی ادائیگی کرنے والوں کے درمیان خط تفریق کھیچ دے اور اس شدت پسندی کو اوڑھنا بچھونا بنا کر دوسرے مسلک کے ماننے والوں کو اسلام سے خارج کیا جانے لگے تو وہ اتحاد، اخوت اور ہم آہنگی جس کا اسلام داعی ہے بھلا کیسے اور کہاں پیدا ہو سکتی ہے۔

ہم اپنے آپ کو مسالک پر گفتگو کرنے کا اہل نہیں سمجھتے لیکن مسالک کا تھوڑا بہت مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم کرتے ہوئے ہمارے نیک صالح بزرگانِ دین نے نیک نیتی اور خلوص سے جن آرا کا اظہار کیا تھا ان کو جوشِ عقیدت میں مسلک کا روپ دے کر بعد کے زمانے کے مولویوں و اکابرین نے صرف اپنی مذہبی بالا دستی قائم کرنے اور اپنی صوابدید کے مطابق عام مسلمانوں کو بھیڑ، بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکا ہے، ہانک رہے ہیں اور نہ جانے کب تک یونہی ہانکتے رہیں گے اور ملی زندگی کے حاشیے پر کھڑا ہوا اتحاد اپنے بال نوچتا رہے گا۔یہی حال ہم ہندوستانی مسلمانوں کی عام سیاسی سماجی زندگی کا ہے جہاں اتحاد عنقا ہے۔ جب مذہبی اور دینی معاملات میںمسالک نے مسلمانوں کی راہیں جدا کر دی ہیں.

خالص دنیوی معاملات میں تو اس کا تصور بھی محال ہے۔ اگر پچھلے ستر پچہتر برسوں بالخصوص اسّی کی دہائی کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو یہ تلخ حقیقت منہ کھولے کھڑی ہوئی نظر آئے گی کہ ملت کا سربراہ کہلانے، بالا دستی اور اقتدار قائم کر کے دنیوی منفعتیں حاصل کرنے کے جذبوں نے ملت کے شہرہ ¿ آفاق تعلیمی اداروں اور ملت کی فلاح و بہبود کے جذبے سے قائم کی جانے والی سیاسی و سماجی تنظیموں کو سازشیں کر کے نقصان پہنچایا ہے اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے اس کی مثال ملک کے کسی بھی دوسرے مذہبی طبقے میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پائے گی۔ دیوبند کے دارالعلوم جیسے شہرہ ¿ آفاق تعلیمی ادارے پر قبضہ کی خواہشیں تو ایک طویل عرصے سے اکابرین کے دلوں میں کروٹیں لے رہی تھیں اور درپردہ اختلاف چل رہا تھا لیکن 1980ءمیں ایک فرد ِ واحد نے اکابرین کی ان خواہشوں کو عملی جامہ پہنا کر طاقت کے سہارے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور سو سالہ قدیمی درس گاہ کے حصے بخرے کر دیے اور ملی اتحاد کی دھجیاں اڑا دیں۔

 

دارالعلوم دیوبند شخصی خواہشوں کا پہلا شکار تھا اس کے بعد ان ہی دنیوی خواہشوں کے ہاتھوں ہندوستان کے مسلمانوں کی جمعیة العلمائے ہند جیسی مو قر اور نمائندہ تنظیم کا بکھراو  عمل میں آیا۔ اس زمانے میں جمعیة سے وابستہ تمام مخلص اور سنجیدہ اکابرین کو سازشیں رچ کر باہر کا رستہ دکھا دیا گیا۔ آج بہت کم احباب کا یاد ہوگا کہ جمعیة العلمائے ہند سے باہر کیے جانے والے کچھ مخلص اکابرین نے ملی جمعیة العلمائے ہند اور مرکزی جمعیة العلمائے ہند کی شکل میں مسلمانوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع رکھنے کی کوشش کی لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے تھک ہار کر بیٹھ گئے۔المیہ یہ ہے کہ دار العلوم دیوبند اور جمعیة العلمائے ہند کی اس توڑ پھوڑ میں کلمہ  حق کہنے کا درس دینے والے علمائے کرام کی اکثریت نے کلمہ  حق زبان پر لانے کی بجائے ان قوتوں کا ہی ساتھ دیا جنھوں نے مسلمانوں میں نفاق کا بیج بویا ہے اور ان قومی آوازوں کو اپنے خاندان کی جاگیر کا روپ دے دیا ہے۔

 

آج جمعیة العلمائے ہند مدنی خاندان کی جاگیر کے روپ میں چچا اور بھتیجے کے درمیان بٹی ہوئی ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کی دینی، سیاسی اور سماجی رہبری کے فرائض انجام دے رہی ہے، گویا اب ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کا پٹہ مدنی خاندان کے نام لکھا گیا ہے۔دیوبند کے دارالعلوم کے بعد سہارنپور کا دینی مدرسہ مظاہر العلوم خاصی شہرت کا حامل ہے جو اپنے تعلیمی معیار کے لحاظ سے ایک با وقار دینی مدرسہ سمجھا جاتا ہے، لیکن جب سے اختلافات نے یہاں پیر پسارے ہیں اس کی شہرت کو دھکا لگا ہے۔ مدرسہ کے انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے اختلافات، عدم اعتماد و اتحاد نے صالح بزرگوں کی اس نشانی کو بھی دو حصو ں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق دار العلوم دیوبند کی طرح سہارنپور کے مظاہر العلوم کو بھی مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔

 

جنوبی افریقہ کے مذہب پرست مسلمانوں کی وجہ سے یہاں پیسے کی فراوانی ہے۔ پیسے کی یہ فراوانی مدرسہ کے ذمہ داروں کے باہمی اعتماد اور اتحاد کو گھن کی طرح کھا گئی ہے اور اقتدار پر قبضہ کی دنیوی خواہش سے قرآن و حدیث اور آپس میں اتحاد قائم کرنے کا درس دینے والوں کو الگ الگ خیموں میں کھڑا کر دیا ہے، جہاں صرف دنیوی خواہشوں کا پہرہ ہے۔ یہی حال تبلیغی جماعت کا ہے، جہاں اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہشوں نے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کی تبلیغ کرنے والوں کو ایک دوسرے کا سر پھوڑنے پر اس طرح اکسایا کہ مرکز میں نہ صرف خوب سر پھٹول ہوئی، گریبان بھی پھٹے بلکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فائرنگ بھی ہوئی۔مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا پرچم اٹھانے اور ان کی سماجی فلاح و بہبود کے مقصد سے قائم کی جانے والی سیاسی جماعتوں کا حال بھی متذکرہ بالا دینی اداروں سے مختلف نہیں ہے، جن کے سفر شروع کرتے ہی ذمہ داروں میں اختلافات کے انکر پھوٹنے لگتے ہیں اور ریشہ دوانیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اتر پردیش میں مسلم مجلس اور بعد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ایسی ہی سیاسی پارٹیاں جو بڑے طمطراق سے وجود میں آئیں اور مسلمانوںنے انھیں اپنی سیاسی تمناو ¿ں کا آخری علاج سمجھا لیکن یہ سیاسی اور سماجی پارٹیاں تھوڑا سا سفر طے کر کے ذمہ داروں کے اختلافات اور عدم اعتماد کا شکار ہو گئیں۔

 

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ قائم ہوا جسے مسلمانوں نے الٰہ دین کا چراغ سمجھا اور شہر کے شہر ستاروں سے سجا لیے، لیکن ابھی بورڈ کا سفر شروع ہی ہوا تھاتو ذمہ داروں میں باہمی اعتماد اور اتحاد کی کمی کی وجہ سے شیعہ حضرات الگ ہو گئے اور آج مسلم پرسنل لا بورڈ اولڈ گولڈ کے چمکتے ہوئے جھومر کی طرح امتِ مسلمہ کے ماتھے پر سجا ہوا ذمہ داروں کے باہمی اختلافات اور اندرونی انتشار کا شکار ہے۔اس تجزیے کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو یہ تلخ حقیقت پہاڑ سا منہ کھول کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ اس ملت کے دینی ، سیاسی اور سماجی اکابرین اور طبقہ ¿ اشرافیہ میں ان اوصاف کا بذاتِ خود فقدان ہے جن کا اسلام داعی ہے۔ ان حالات میں عوام الناس سے باہمی اتحاد، ہم آہنگی اور اخوت کی توقع کرنا صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے۔ عوام تو بھیڑوں کی طرح سر جوڑ کر چرواہے کے پیچھے پیچھے چلتےہیں، بس ان کو اپنے پیچھے چلانے والا چاہیے جو آج امتِ مسلمہ میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔


 مضمون نگار سے دیے گئے نمبر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے 

M: 9810439067


3 comments

  • SABA

    Harf e neem kash ke ye tehreer sochney pr majboor kr deyte hai ke aakhir hum muntashir kyoun hain, us ke nev may maslak Ka maththa dala howa hai, to ummat ka ittehaade Shajar kaisay phaley phooley ga...bohat he sabaq aamoz aur aankhey khol dey ney waali tehreer hai...sochney waali baat ye hai ke jab ek Allah ek quraan aur ek nabi k maaney waaley ek nahe ho pa rahey hain to phir kon c baat pr ek ho sakein gey...mayre to aqal gum hai vo baat sochney say...kya aap bata saktey hain, in teen chezon k alava vo kon c cheez hogi jis pr ummat ek ho sakey...?.

  • SABA

    Harf e neem kash ke ye tehreer sochney pr majboor kr deyte hai ke aakhir hum muntashir kyoun hain, us ke nev may maslak Ka maththa dala howa hai, to ummat ka ittehaade Shajar kaisay phaley phooley ga...bohat he sabaq aamoz aur aankhey khol dey ney waali tehreer hai...sochney waali baat ye hai ke jab ek Allah ek quraan aur ek nabi k maaney waaley ek nahe ho pa rahey hain to phir kon c baat pr ek ho sakein gey...mayre to aqal gum hai vo baat sochney say...kya aap bata saktey hain, in teen chezon k alava vo kon c cheez hogi jis pr ummat ek ho sakey...?.

  • SABA

    Harf e neem kash ke ye tehreer sochney pr majboor kr deyte hai ke aakhir hum muntashir kyoun hain, us ke nev may maslak Ka maththa dala howa hai, to ummat ka ittehaade Shajar kaisay phaley phooley ga...bohat he sabaq aamoz aur aankhey khol dey ney waali tehreer hai...sochney waali baat ye hai ke jab ek Allah ek quraan aur ek nabi k maaney waaley ek nahe ho pa rahey hain to phir kon c baat pr ek ho sakein gey...mayre to aqal gum hai vo baat sochney say...kya aap bata saktey hain, in teen chezon k alava vo kon c cheez hogi jis pr ummat ek ho sakey...?.

Leave a Reply