ڈاکٹر عمر گوتم کی گرفتاری پر مسلم قائدین کا پھوٹا غصہ ؛ کہا عمر گوتم کا مسئلہ ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ، سبھی نے ایک دوسرے سے متحد ہونے کی اپیل کی

ڈاکٹر عمر گوتم کی گرفتاری پر مسلم قائدین کا پھوٹا غصہ ؛ کہا عمر گوتم کا مسئلہ ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ، سبھی نے ایک دوسرے سے متحد ہونے کی اپیل کی

نئی دہلی :  (ایشیا ٹائمز/ شاداب خان ) یو پی حکومت کٓے ذریعے متعدد الزامات کے تحت  اسلامک دعوۃ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر عمر گوتم اور ان کے رفیق مولانا جہیانگیر قاسمی کی گرفتاری پر مسلم معاشرے میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔  اس معاملے کو لیکر ایک لمبی خاموشی کے بعد آخر کار ملی تنظیموں نے بھی زبان کھولی ہے ۔ سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک خاص سازش کے تحت جان بوجھ کر حراساں کرنے کا عمل بتایا ہے ۔

 اس معاملے پر ملی گزٹ کے ایڈیر  دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان  اپنے بیان میں کہا ہے کہ " عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے بالکل خاموشی ہے !

عمر گوتم کا مسئلہ ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو دستور ہند کی دفعہ 25 کے مطابق اپنا کام کر رہے تھے جو لوگ ملت کے چودھری بنے ہوئے ہیں، بڑی بڑی تنظیمیں چلا رہے ہیں، روز اپنے کارناموں کی پریس ریلیز نکالتے ہیں اور اردو اخبارات میں محنت کرکے چھپواتے ہیں ،  ملت کے لئے کام کرنے کے نام پر بڑے بڑے چندے جمع کرتے ہیں، یہ سب  لوگ خاموش ہیں جیسے اس مسئلے کا ان سے  کوئی تعلق نہیں۔

جماعت اسلامی ہند نے بھی اپنے پریس بیان میں کہا ہے کہ جماعت گرفتاری پر شدید افسوس کا اظہار کرتی ہے اوراسے سراسر ناانصافی قرار دیتی  ہے  ، اس کی شدید مذمت کی ہے جماعت اسلامی  ہند کے  نائب صدر امیر محمد سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کی ناانصافیوں کے خلاف انصاف پسند لوگوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو بھی آواز اٹھانی چاہئے اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے اقدام کرنے چاہئے۔

دیر شام جمعیت علماء ہند محمود مدنی گروپ کی جانب سے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی گئ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے آج یہاں اپنے بیان میں کہا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر جس طرح عمر گوتم و دیگر کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسے جس طرح میڈیا پیش کررہا ہے، وہ قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔

  ان مسلم مذہبی رہنماؤں میں سے ایک، محمد عمر گوتم، خود ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 1984 میں انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔عمر گوتم ایک معروف مبلغ ہیں اور انٹرنیٹ پر ایسی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ اسلام کی تبلیغ کا کام کرتے نظر آتے ہیں، وہ اسلام قبول کرنے والے لوگوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔سنہ 2010 میں انھوں نے دارالحکومت نئی دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں اسلامی دعوۃ سینٹر کے نام سے ایک مرکز کی بنا ڈالی تھی جس کے ذریعہ وہ اسلام قبول کرنے والوں کی مدد کرتے تھے۔یوپی پولیس نے عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کو 20 جون کو گرفتار کیا۔ قبل ازیں ان سے تحویل میں پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔

معلوم ہو کہ اے ٹی ایس نے تعزیرات ہند کی دفعات 420، 120 بی، 153 اے، 153 بی، 295، 511 اور اتر پردیش کے مذہبی ممنوعہ آرڈیننس 2020 کے تحت لکھنؤ کے اے ٹی ایس تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اس میں عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کے علاوہ نامعلوم افراد کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

 

ڈاکٹر محمد عمر گوتم کا اصلی نام شیام پرتاپ سنگھ گوتم ہے۔ ان کی پیدائش سن 1962میں اتر پردیش میں فتح پور ضلع کے ایک راجپوت خاندان میں ہوئی۔ بیس برس کی عمر میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام محمد عمر گوتم رکھا۔ وہ گزشتہ تین دہائیوں سے جامعہ نگر کے بٹلا ہاؤس محلے میں قیام پذیر ہیں۔

جی بی پنت ایگری کلچر اینڈ ٹيکنالوجی یونیورسٹی سے زرعی سائنس میں گریجویٹ عمر گوتم نے اسلام قبول کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری حاصل کی اور کچھ عرصے کے لیے وہاں لکچرر بھی رہے۔ انہوں نے بعد میں اسلام کی تبليغ و اشاعت کو اپنا مقصد بنایا اور مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اپنے کام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انہوں نے اسلامک دعوۃ سینٹر کے نام سے ایک اور مرکز قائم کیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری ملی تنظیموں کاکام محض پریس ریلیز جاری کرنا اور تشویش کا اظہارکرنا رہ گیا ہے ، کسی بھی معاملے پر اردو اخبارات کے نام پریس ریلیز جاری کرکے مطمئن ہوجانا کیا پرئیشانی کا حل ہے ؟ یہ اور اس قسم کے سوالات اب بھی قائم ہیں ۔

0 comments

Leave a Reply