کیا مسلمانوں کے وقف بورڈز اور فلاحی ادارے گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے نقشِ قدم پر نہیں چل سکتے؟

کیا مسلمانوں کے وقف بورڈز اور فلاحی ادارے گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے نقشِ قدم پر نہیں چل سکتے؟

 

 

عظیم اختر

                چند دن قبل ہمارے کسی کرم فرما نے واٹس ایپ پر ہمیں ایک ویڈیو بھیجا ہے دیکھ کر ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے ملک میں چھوٹے بڑے تمام مذہبی طبقوںمیں غریبوں، مفلسوں اور نادار لوگوں کی مدد کرنا صرف ایک پُنیہ کا ہی کام سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام میں پُنیہ کے اس کام کو حکمِ خداوندی کا درجہ حاصل ہے اور مسلمانوں کو نماز، روزہ، حج اور زکوٰة جیسے فرائض کے ساتھ مفلوک الحال، غریب و نادار اور ضرورت مندوں کی دستگیری اور دلجوئی کا بھی باقاعدہ حکم دیا گیا ہے،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملی رہنماو


ںنے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو جس انداز سے پیش کیا اور جس شد و مد کے ساتھ اس حکم کی بجا آوری کی تلقین کی اس نے امت میں صرف پیشہ ور فقیروں اور گداگروں کا ایک طبقہ پیدا کیا ہے جو درگاہوں اور مساجد کے باہر، مسلمانوں کی بستیوں، محلوں اور بازاروں میں سال کے بارہ مہینے ہمہ وقت اللہ کے نام پر بھیک مانگتے ہوئے اللہ کے حکم اور مسلمانوں کے جذبہ


¿ ہمدردی کا استحصال کرتا ہوا نظر آتا ہے اور بے حسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ ہمارے علمائے کرام نے مسجدوں کے منبروں سے اور ملی جلسوںمیں عام مسلمانوں کو اللہ کے نام پر کھول کر غربا اور ضرورتمندوں کی مدد کرنے کی تلقین کرنے میںکبھی کوئی کمی نہیں چھوڑی،لیکن کبھی اپنے مواعظِ حسنہ میں اس شد و مد کے ساتھ ان احادیثِ نبوی کا تذکرہ کبھی نہیں کیا جن میں بھیک مانگنے اور گدا گری کو پیشے کے طورپر اپنانے والوں کی سخت وعید کی گئی ہے۔ نماز، روزہ اور زکوٰة جیسے اہم فرائض کی ادائیگی میں تساہل برتنے والوںکو سخت سزاو


¿ںکی نوید سنانے والے اکابرین اگر اس پہلو سے بھی روشنی ڈالتے تو ہمیں یقین ہے کہ مسلمانوں کی بستیوں، محلوں ، بازاروں، درگاہوں اور مساجد کے باہر پیشہ ور فقیروں کے یوںغول کے غول بھیک مانگتے ہوئے نظر نہ آتے اور وہManual Labour جو ملک و قوم کی تعمیر میں اہم رول ادا کر سکتی ہے اس طرح سڑکوں اور گلیوں میں ضائع نہ ہوتی۔

 

                وہ ویڈیو دہلی کے مشہور زمانہ گوردوارہ بنگلہ صاحب کے ایک کشادہ کمرے کا تھا جس کی درجنوں الماریوں میں ایلو پیتھک دوائیوں کے بند پیکٹ اور بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔کمرے کے وسط میں گورو نانک جی کے چند پیروکار کھڑے ہوئے تھے اور گوردوارے کا ایک ذمہ دار ویڈیو دیکھنے والوں کو بتا رہا تھا کہ دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے مشہور دواساز کمپنیوں کے تعاون سے یہ ڈسپینسری قائم کی ہے تاکہ غریب گربا اور معاشی طورپر کمزور طبقے کے مریضوں کو بازار مہنگی بکنے والی دوائیاں نہایت مناسب اور ارزاں قیمتوں پر فراہم کی جائیںگی۔

                اس حقیقت سے دنیا واقف ہے کہ دوائیوں کی لاگت اور کمپنیوں کی مقرر کردہ قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، جس کی اصل وجہ ہمارے ملک کے سرکاری دفتروں میں نیچے سے لے کر اوپر تک نذرانوں کی شکل میں رشوت خوری کا وہ چلن ہے جس سے ہر دوا ساز کمپنی کو گزرنا پڑتا ہے، تیل تلوں سے ہی نکلتا ہے اس لیے دواساز کمپنیاں خاصا مارجن رکھ کر ادویات کی قیمتیں مقرر کرتی ہیں، جس کا بوجھ غریب اور معاشی طورپر کمزور مریضوں پر پڑتا ہے۔ قیمتی دوائیوں کے سبب اکثر غریب مریض مناسب علاج بھی نہیں کرا پاتے جس کو معاشرہ کا المیہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ گودوارہ پربندھک کمیٹی کے با شعور ذمہ داروں نے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہوکر غریب اور متوسط درجے کے مریضوں کو مہنگی دوائیاں کم قیمت پر فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا جس کا ویڈیو دیکھ کر ہم صرف یہی سوچ رہے تھے کہ کیا دہلی وقف بورڈ یا اس شہر کے مسلمانوں کی کوئی اور فلاحی تنظیم گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرح خدمتِ خلق اور غریبوں اور ناداروں کی دستگیری کرنے کا وہ سفر شروع نہیں کر سکتی جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ مسلمانوں میں اجتماعی طورپر رفاعی اور فلاحی کام کرنے کا نہ شعور ہے اور نہ کوئی روایت، ورنہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر اجتماعی طورپر فلاحی اور رفاعی کام کرنے والے طبقات میں مسلمان یوں تہی دست اور الگ تھلگ نظر نہ آتا۔

                دہلی وقف بورڈ کی طرح گوردوارہ پربندھک کمیٹی بھی پارلیمانی ایکٹ کے تحت وجود میں آنے والی ایک این جی او ہے ، لیکن ان دونوں اداروں کی کارکردگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دہلی میں ڈی ڈی اے کے بعد سب سے زیادہ وقف لینڈ کا مالک دہلی وقف بورڈ مالی طورپر بحران کا شکار دہلی سرکار کا ایک ایسا بیمار ادارہ ہے جہاں ہر قسم کے کرپشن اور بد عنوانیوںکا بول بالا ہے۔ فلاحی اور رفاعی سرگرمیوںکا یہ عالم ہے کہ نادار اور مفلس بیواو


¿ں کے ماہانہ وظیفے اور بورڈ کے تحت مساجد میں امامت کے فرائض انجام دینے والے اماموں اور مو


¿ذنوں کا مشاہرہ کبھی وقت پر نہیں ملتا، ہاں وقف بورڈ کی فلاحی اور رفاعی سرگرمیوںکا ثبوت دینے کے لیے اگر کسی مصیبت زدہ یا اس کے لواحقین کی مالی مدد کی جاتی ہے تو دہلی کے چھوٹے بڑے اردو اخبارات میں چیئر مین صاحب کی تصویر کے ساتھ اس فلاحی کام کی تشہیر خوب کرائی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ فلاحی کاموں کے حوالے سے چیئر مین صاحب کی شخصیت اور فعالیت کا خوب ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے، اس کے بر عکس ہم نے اخبارات میں گودوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئر مین یا دوسرے ذمہ داروں کی فلاحی اور رفاعی سرگرمیوں کا آج تک یوں ڈھنڈورہ پیٹتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ دہلی کی عام سماجی زندگی میں گودوارہ پربندھک کمیٹی کی خاموش فعالیت کی تیرتی ہوئی پرچھائیاں دیکھی ہیں اور ایک ایسے ادارے کی سرگرمیوں کا وزن محسوس کیاہے جو سکھ مت میں یقین رکھنے والوں کی صرف دس بندہ مایا بھینٹ کی بدولت تعمیری سرگرمیوں کا کامیابی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

                دہلی میں مسلمانوں کے مقابلے میں سکھ ازم میں یقین رکھنے والوں کی آبادی کم ہے لیکن اس کے باوجود وہ تجارتی و کاروباری میدان میں فلاحی کام کو انجام دینے کے معاملے میں مسلمانوں سے بہت آگے ہیں، جس کا تمام تر کریڈٹ سکھ سماج کے افراد کی محنت ک، کام کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن کے ساتھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں کے خلوص کو بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے آج دہلیمیں ان کے اعلیٰ اور معیاری اسکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور خیراتی ڈسپینسریوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جس سے بلا تفریق مذہب و ملت خدا کی مخلوق فائدہ اٹھا رہی ہے، اس کے بر عکس یہ ایک المیہ ہی ہے یہاں کی عام سماجی زندگی میں مسلمان صرف مغلئی کھانوں کی لذت اور چٹخاروں کے حوالے سے ہی اپنی شناخت رکھتا ہے، مسلمانوں کی اس شناخت نے پُرانی دہلی کے مسلم محلوں اور علاقوں میں تقریباً ہر دوسری تیسری دکان کو مغلئی کھانوں کے ہوٹلوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں شام سے رات دیر گئے تک مغلئی کھانوں کے شوقین اور سرور میں ڈوبے ہوئے نو دولتیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور دہلی کی آج کی سماجی زندگی میں مسلمان تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کی بجائے صرف چٹ پٹی اور لذیذ بریانی، کباب، تکّے تیار کرنے کے حوالے سے ہی یاد رکھا جاتا ہے۔

                اسے قومی اور ملی سانحہ کے علاوہکوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا کہ دس بندہ مایا کی بھینٹ کی شکل یں عقیدتمندوں کے نذرانے وصول کرنے والی پربندھک کمیٹی نے تعلیمی، فلاحی اور رفاعی کاموںکا ایک جال بن دیا ہے، یہی حال اس شہر کے دوسرے مذہبی طبقوں کی فلاحی اور رفاعی کام کرنے والی تنظیموں کا ہے جن کی فعال سرگرمیوں کی چھاپ یہاں کی عام سماجی زندگی میںبھرپور انداز سے نظر آتی ہے، لیکن کیا المیہ ہے کہ احکامِ خداوندی کی اطاعت میں زکوٰة، و خیرات کے طورپر ہر سال کروڑوں روپیہ نکالنے اور غربا کی مدد کے نام پر ہر روز ہزاروں روپیہ بانٹنے والی اس قوم کا یہاں کی عام سماجی زندگی میں دور دور تک کوئی کنٹری بیوشن نظر نہیں آتا۔

                اجتماعی طورپر خدمتِ خلق اور فلاحی و رفاعی کام کرنے کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال کروڑہا روپیہ زکوٰة و خیرات کی شکل میں نکالنے والی اس قوم کا پیسہ مدارسِ دینیہ کے نام پر دکانیں کھولنے والے مولویوں کی جیب میں جا رہا ہے یا پھر پیشہ ور گدا گر اور بھیک مانگنے والا طبقہ پنپ رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا اس پیسے سے مفت کی فلاح و بہبود کے لیے وہ تعمیری کام نہیں کیے جا سکتے جس سے اس ملک میں اس کے وجود کا احساس ہو سکے اور مستقبل میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کی طرح کوئی دوسری سرکاری کمیٹی کی رپورٹ میں یہ فتویٰ صادر نہ کر دیا جائے کہ اب ہندوستان میں پستی، تنزلی اور انحطاط کی تمام حدیں پار کر چکا ہے اور ایک بے وزن کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا ہمارے دینی ، ملی اور سیاسی اکابرین اس پہلو سے بھی کبھی سوچنے کی زحمت گوارہ کریںگے۔؟

M: 9810439067


 

0 comments

Leave a Reply