عالمی کتاب میلہ 2025 میں مسلم دانشوران کونسل کا سیمینار: "سوشل میڈیا کے ذریعے امن کے فروغ" پر مباحثہ
یہ سیمینار پروفیسر ڈاکٹر ذکر الرحمٰن، بانی ڈائریکٹر انڈیا عرب کلچرل سینٹر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جب کہ معروف مقررین میں دینک بھاسکر کے ڈپٹی ایڈیٹر مکیش کوشک اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینٹر برائے مغربی ایشیائی مطالعات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ حمید شامل تھیں۔
سوشل میڈیا: چیلنجز اور مواقع
سیمینار میں مقررین نے سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی سطح پر مکالمے اور امن کے فروغ پر روشنی ڈالی۔ مکیش کوشک نے آن لائن پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے چیلنجز، جیسے کہ غلط معلومات، ڈیجیٹل منیپولیشن، اور عوامی رائے پر سوشل میڈیا کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ "سوشل میڈیا ایک زبردست طاقت رکھتا ہے جو سیاسی اور سماجی بیانیے کو تشکیل دے سکتا ہے، لہٰذا ذمہ دارانہ ڈیجیٹل سرگرمی نہایت ضروری ہے تاکہ انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔"
پروفیسر ثمینہ حمید نے مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال پر بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں وہ تعلیم، نیٹ ورکنگ اور سرگرمیوں کے ذریعے بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔"
بین المذاہب مکالمہ اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری
پروفیسر ڈاکٹر ذکر الرحمٰن نے اپنے خطاب میں تمام مذاہب کے بنیادی مشترکہ اقدار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "مذاہب کے مابین تصادم کی بجائے، باہمی افہام و تفہیم اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "سوشل میڈیا کو مثبت مکالمے کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے، تاکہ انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف ایک متبادل بیانیہ قائم کیا جا سکے۔"
مسلم دانشوران کونسل کا عالمی کتاب میلہ میں کردار
یہ مسلم دانشوران کونسل کی عالمی کتاب میلہ میں مسلسل تیسری شرکت ہے، جو اس کے فکری و ثقافتی مکالمے کے فروغ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ کونسل نے اس موقع پر "دستاویز برائے انسانی اخوت" پر بھی روشنی ڈالی، جو عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
نتائج اور سفارشات
سیمینار کے آخر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ:
سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کرتے ہوئے نفرت انگیزی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جائے۔
آن لائن مکالمے کے ذریعے مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری بیانیے کی جانب راغب کرنے کے لیے تعلیمی اور آگاہی مہم چلائی جائے۔
نتیجہ
عالمی کتاب میلہ 2025 میں مسلم دانشوران کونسل کا یہ سیمینار سوشل میڈیا کے ذریعے امن کے فروغ پر ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سوشل میڈیا کو دانشمندی اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ نوجوانوں کو مثبت سمت میں راغب کرنے اور عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

0 comments