مسلم دانشوران کونسل کی نئی دہلی میں منعقد بین الاقوامی کتاب میلہ میں خصوصی پویلین کے ساتھ شرکت

 

نئی دہلی : ’مسلم دانشوران کونسل‘ مؤرخہ ۱۰ سے 18 فروری تک نئی دہلی کتاب میلے میں مسلسل دوسری بار ایک خصوصی پویلین میں شرکت کر رہی ہے، یہ کتابی میلہ خطے میں زائرین کی تعداد کے لحاظ سے  بڑے میلوں میں سے ایک ہے۔ جس کا مقصد پیامِ امن کو فروغ دینا، مکالمے اور رواداری کی اقدار کو مستحکم کرنا اورمذہب وملت میں اختلافات کے قطعِ نظر لوگوں کے درمیان تعاون کے روابط پیدا کرنا ہے۔ چنانچہ کونسل اپنے  پویلین 5 مختلف زبانوں میں 220 سے زیادہ اشاعتیں پیش کرتا ہے ، یہ کتابیں اہم فکری موضوعات ومباحث پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا انتہا پسندی اور نفرت انگیز نظریات کو مسترد کرنا ہے۔

May be an image of 4 people, people studying, newsagent and text that says "T"

سالِ رواں کونسل کے ذریعہ ہندی، ملیالم اور اردو  ترجمہ کے ساتھ شائع ہونے والی  سولہ (۱۶) کتابیں بطورِ خاص اس عالمی کتابی میلہ کی زینت بننے والی ہیں۔ علاوہ ازیں مرحوم مصنف ڈاکٹر محمود حمدی زقزوق کی کتاب ’’مذہبی فکر اور عصری مسائل‘‘ نیز مسلم دانشوران کونسل کے سیکریٹری جنرل عزتِ مآب محمد عبدالسلام کی مایہ ناز تصنیف ’’امام، پوپ نیز مشکل راستہ: انسانی اخوت کی دستاویز کی پیدائش پر گواہ ہیں‘‘   بھی عربی وانگریزی نسخوں کے ساتھ ہندوستان کی تین دیگر قومی زبانوں (اردو، ہندی اور ملیالم) میں ترجمہ کے ساتھ شاملِ نمائش ہوں گی۔

بعینہ نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کتاب میلے میں ’مسلم دانشوران کونسل‘ کے پویلین میں تینوں ہندوستانی زبانوں (اردو، ہندی، ملیالم) میں چھ (6) مزید کتابیں پیش کی جارہی ہیں، جو کونسل کے چیئرمین  فضیلت مآب امام اکبر شیخ ِازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی تحریر کردہ ہیں۔ جن میں  اردو زبان میں ’’الازہر کا دہشت گردی کی سوچ سے مقابلہ‘‘ اور ’’الازہر اور مسلم اتحاد‘‘  ، ہندی اور اردو میں ’’جہاد کا مفہوم‘‘، اردو اور ملیالم میں ’’نوجوانوں سے خطاب‘‘، اردو میں ’’مشرق کے ساتھ تبادلۂ خیال پر ہمارا موقف‘‘ نیز ملیالم اور اردو میں ’’امن پر گفتگو‘‘ شامل ہیں۔

May be an image of 5 people, people studying and headscarf

’مسلم دانشوران کونسل‘ کا پویلین نمائش میں اپنی شرکت کے سبھی ایام  میں کئی ایک ثقافتی پروگراموں اور فکری سیمیناروں کا بھی  اہتمام کرتا ہے، جن میں ’’موجودہ دور میں انسانی اخوت کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے ایک سمپوزیم بھی شامل ہے، جس میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے مغربی ایشیا وخلیجی مسائل کی محققہ ڈاکٹر ثمینہ حمید، پارسی مذہب کی سربراہ آوا خولا لیکچر دیں گی نیز دہلی میں صحافیوں کی سنڈیکیٹ کے سیکرٹری جنرل سنجے کپور بھی اپنا قیمتی لیکچر پیش کریں گے۔ کونسل  ایک دوسرا سمپوزیم بعنوان “مذاہب کے درمیان بقائے باہم:  پُرامن زندگی کے حوالے سے چند جوابات‘‘ کے عنوان سے منعقد کرے گی، جس میں دہلی یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات پروفیسر ڈاکٹر آنند کمار اور بین المذاہب دوستی فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر انجینئر محمد سلیم احمد لیکچر دیں گے۔’’ مذاہب کے درمیان احترام‘‘ کے عنوان پر ایک تیسرا سیمنار ہوگا، جس میں راشٹریہ  سہارا اخبار وسہارا ٹی وی کے سابق چیف ایڈیٹر فیصل علی اور انسٹی ٹیوٹ آف ہارمونی اینڈ پیس کے بانی ڈائریکٹر فادر  ایم ڈی تھامس لیکچر پیش کریں گے۔ جب کہ  چوتھا سیمنار ’’دنیا ایک خاندان ہے اور سارے ہی مذاہب ہم آہنگی کا درس دیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوگا، جس میں ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسپال سنگھ اور نئی دہلی میں اسلامک اسٹڈیز  سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذکرالرحمن نیز انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر اور انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر پی۔آر کمار سوامی اپنے قیمتی لیکچرز پیش کریں گے۔

May be an image of 7 people and text

ہال نمبر 4 میں اپنے اسٹال نمبر H05 میں، ’مسلم دانشوران کونسل‘ نے اپنی حالیہ اشاعتوں کی ایک بڑی تعداد پیش کی ہے جو اس سال کے شروع میں شائع ہوئی تھیں اور قاہرہ کے بین الاقوامی کتاب میلے میں ان کی بہت مانگ تھی، جو کہ اسی مہینے کی چھ (۶) تاریخ کو اختتام پذیر ہوا ہے۔ ان میں سے کئی ایک کتابیں اکیڈمک وژن سیریز میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے ’’تشدد اور سلامتی کی صحیح سمجھ‘‘، ناصر البعزاتی کی ’’مسلم سوچ مغربی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد‘‘اسی طرح ’’عالمِ اسلام میں سلامتی تشخص کی تدبیر‘‘ اور ’’اندلس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے بیچ تعارف کے مدوجزر‘‘ علاوہ ازیں احیاء التراث کی سیریز بھی شامل ہیں جن میں شیخ الازہر، مسلم دانشوران کونسل کے صدر فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب کی دو کتابیں ’’قدیم منطق کی اسٹڈی پر تمہیدی گفتگو‘‘ اور ’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا‘‘، سلیمان خمیس کی کتاب ’’مفکر جاحظ کی حقیقت‘‘، سلیمان دنیا کی ’’دین اور عقل‘‘، محمد بن مصطفی الجزائری کی ’’خواتین کے حقوق سے متعلق فکرمندی‘‘ نیز غادہ عبدالجلیل الغنیمی کی ’’تکثیریت اور دوسرے کی قبولیت‘‘ جیسی کتابیں بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔

 جہاں تک بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں کے مقالات اور ان کے نتائج پر مبنی اشاعتوں کا تعلق ہے تو کونسل نے اس حوالے سے بھی کئی ایک بیش قیمتی تالیفات پیش کی ہیں۔ جن میں  ’’بین الاقوامی سمپوزیم کی روداد بعنوان: اسلام اور مغرب، تنوع اور انضمام‘‘،’’الازہر  بین الاقوامی کانفرنس برائے تائید یروشلم‘‘ اور ’’انسانی بقائے باہمی کے لیے مشرق اور مغرب کے درمیان مکالمہ‘‘ شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کونسل مسلسل دوسری بار نئی دہلی میں منعقد بین الاقوامی کتاب میلے کے ایک خصوصی پویلین میں شرکت کر رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال 2023 میں پہلی شرکت کو ہندوستانی معاشرے کے سارے ہی اکائیوں کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تھی، ہر ایک نے کونسل کی اشاعتوں اور اس کے زیر اہتمام  منعقد ہونے والے ثقافتی اور فکری تقریبات نیز دیگر سرگرمیوں کو سراہا تھا، جس سے کونسل کو زبردست  تحریک ملی اور اس میلے میں  دوبارہ  قدم رکھااور اپنی ثقافتی وفکری سرگرمیوں سے زائرین کو ایک بار پھر سے مستفید ہونے کا زریں موقع دیا ہے۔

0 comments

Leave a Reply