مسلم کونسل آف ایلڈرز ‘نے نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 میں تیسرا سیمینار منعقد کیا

علما ودانشوران نے بین اسلامی مکالمے اور انسانی اخوت کے جذبے کی اہمیت اجاگر کی

نئی دہلی :  (ایشیا ٹائمز ) مسلم کونسل آف ایلڈرز نے نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 میں اپنا تیسرا سیمینار ’’بین اسلامی مکالمہ — اہلِ قبلہ کے نام پکار کی روشنی میں ایک مطالعہ‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا۔ اس نشست میں’’اہلِ قبلہ کے نام پکار‘‘ کی روشنی میں آپسی  اتحاد، باہمی بقائے باہمی، اور مشترکہ انسانی اقدار کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سیمینار میں ممتاز مقررین نے شرکت کی، جن میں نامور مؤرخ اور مصنف پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان حبیب، جامعہ ہمدرد میں سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ اے۔

سکندر ، اور انڈیا عرب کلچرل سینٹر کے بانی وڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ذِکرُ الرحمٰن  شامل تھے۔گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر ذِکرُ الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ قبلہ کے نام پکار—جو مملکتِ بحرین سے جاری کی گیا ایک اہم انسانی منشور ہے—کا مقصد مسلم معاشرے کے اندر اتحاد کو فروغ دینا اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام دستاویزِ انسانی اخوت میں پیش کیے گئے اقدار سے گہری ہم آہنگی رکھتا ہے، بالخصوص بقائے باہمی، رحم دلی اور یکجہتی جیسے اصولوں کے حوالے سے۔ڈاکٹر  ذکر الرحمٰن نے واضح کیا کہ اسلام، دیگر تمام مذاہب کی طرح، اجتماعیت اور باہمی قربت کی دعوت دیتا ہے اور انتہاپسندی کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا گیا تاکہ وہ ’’ایک دوسرے کو پہچان سکیں‘‘—جس سے انسانی اخوت کی مرکزی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ثقافتی مراکز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ کس طرح مختلف فکری مکاتب کے درمیان فاصلے کم کرنے، اختلافات کو پاٹنے اور قومی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ اے۔

سکندر نے مسلسل مکالمے اور جامع و شمولیتی نصاب کے ذریعے بین اسلامی فہم کو گہرا کرنے میں تعلیمی اداروں کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات ایسے نہایت اہم مراکز ہیں جہاں مختلف ثقافتیں اور زاویۂ نظر باہم ملتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ میں باہمی قبولیت اور احترام کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ڈاکٹر سکندر نے ڈیجیٹل تعلیمی ماحول کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ یہ بین مذاہب اور اندرونِ مذہب مکالمے کے لیے محفوظ اور حوصلہ افزا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مدرسہ کے طلبہ کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اب وہ جدید تعلیم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، متعدد زبانیں سیکھ سکتے ہیں، اور عالمی سطح پر ہم آہنگی و انضمام کے لیے ضروری مہارتیں بھی سیکھ  سکتے ہیں۔اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان حبیب نے کہا کہ اہلِ قبلہ کے نام پکار اور دستاویزِ انسانی اخوت دونوں مسلم معاشروں کے اندر بقائے باہمی کو مضبوط بنانے اور اقوام کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے استدلال کیا کہ حقیقی اتحاد اسی وقت ممکن ہے جب لوگ ایک دوسرے کو محض مذہبی شناخت کے زاویے سے نہیں، بلکہ سب سے پہلے انسان کی حیثیت سے دیکھیں۔ڈاکٹر حبیب نے زور دیا کہ پل تعمیر کرنے کے لیے باہمی رابطہ، مشترکہ شرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ جگہ بانٹنے کی آمادگی ضروری ہے، خصوصاً اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے۔ انہوں نے گفتگو کا اختتام اس نکتے پر کیا کہ بقائے باہمی اور اخلاقی اقدار سے بھرپور زندگی گزارنا ایک ذاتی اقرار ہے، اور یہ کہ مذہب اپنی اصل میں تقسیم کا سبب نہیں ہونا چاہیے۔نئی دہلی عالمی کتاب میلے میں’ مسلم کونسل آف ایلڈرز‘ کی شرکت اس کے اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ علم اور ثقافت افہام و تفہیم کے فروغ، تقسیم اور انتشار کا مقابلہ کرنے، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، اور عالمی مسائل سے نمٹنے میں مذہبی اور فکری اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بنیادی ستون ہیں، نیز یہی عناصر معاشروں کے درمیان رابطے، مکالمے اور ابلاغ کے پل تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔یہ سیمینار نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 کے ضمن میں، بھارت منڈپم کے ہال نمبر 4 میں واقع کونسل کے پویلین H 06 میں منعقد کیے جانے والے سیمیناروں اور ثقافتی سرگرمیوں کی سلسلہ وار تقریبات  کے ضمن میں تیسرا پروگرام تھا۔

0 comments

Leave a Reply