اجین کی 14ویں صدی کی شاہی مسجد کے جزوی انہدام اور پولیس کارروائی کی IAMC نے شدید مذمت کی
نئی دہلی: انڈین امریکن مسلم کونسل (IAMC) نے مدھیہ پردیش کے اجین میں 14ویں صدی کی قدیم شاہی مسجد کے جزوی انہدام اور مسجد کے تحفظ کے لیے جمع ہونے والے مسلم باشندوں کے خلاف پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔
IAMC کے مطابق 28 ستمبر کو مسجد کے باہر جمع ہجوم پر پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حکومت پر تنقید کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے میں بھی بعض افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ مزید احتجاج کو روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے علاقے میں 2500 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔
انتظامیہ نے 2028 میں ہونے والے ایک بڑے ہندو تہوار سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت مسجد کے ایک حصے، جس میں نماز گاہ اور مینار بھی شامل ہیں، کو ہٹانے کے لیے نشان زد کیا تھا۔ مسجد کی کمیٹی اور مقامی مسلمانوں نے متبادل راستے کی تجویز پیش کی، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔
تین راتوں تک جاری رہنے والی نگرانی اور احتجاج کے بعد مقامی باشندوں نے مسجد کے نسبتاً چھوٹے حصے کو خود ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود بلڈوزر موقع پر پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں انہیں مسجد کے ایک حصے کو اپنے ہاتھوں سے منہدم کرنا پڑا۔
IAMC کے صدر محمد جواد نے کہا:
’’یہ ایک ایسے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے جس میں مسلم عبادت گاہیں، مذہبی ادارے اور تاریخی ورثے کے مقامات تجاوزات، ترقیاتی منصوبوں یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے نام پر مسلسل خطرات، انہدام اور ریاستی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی مقامات کی تباہی ’’نازی دور میں یہودی عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کی منظم تباہی کی دردناک یاد دلاتی ہے‘‘۔ ان کے مطابق تاریخ نے یہ دکھایا ہے کہ جب کوئی ریاست کسی برادری کی مذہبی اور ثقافتی موجودگی کو مٹانے کی اجازت دیتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
IAMC نے اجین کے واقعے کو ملک کے دیگر واقعات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پریاگ راج میں 2023 میں سڑک چوڑی کرنے کے لیے 16ویں صدی کی شاہی مسجد کو منہدم کیا گیا، جبکہ سنبھل میں 2024 میں مسجد سے متعلق تنازع کے دوران کم از کم چار مسلمانوں کی ہلاکت ہوئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلم مذہبی مقامات کو انہدامی کارروائیوں، سڑکوں کی توسیع، مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور ان کے قانونی تشخص سے متعلق تنازعات کا بڑھتا ہوا سامنا کرنا پڑا ہے۔ IAMC کے مطابق اتراکھنڈ میں سول سوسائٹی کی ایک مانیٹرنگ رپورٹ نے متعدد مسلم مذہبی عمارتوں کے انہدام کو دستاویزی شکل دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ریاست کی وسیع تر مہم سے ہزاروں مسلم مذہبی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
IAMC نے مدھیہ پردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کے مزید انہدام کو فوری طور پر روکا جائے، پولیس کارروائی کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور پُرامن احتجاج کے الزام میں گرفتار یا مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی ختم کی جائے۔
IAMC نے امریکی محکمہ خارجہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ ہند کے ساتھ اپنے روابط میں مسلم عبادت گاہوں اور مذہبی ورثے کے تحفظ کا مسئلہ اٹھائے۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کے مذہبی آزادی اور ثقافتی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں مسلم مذہبی اور تاریخی مقامات کو درپیش انہدام اور خطرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا جائزہ لیں۔
IAMC نے یونیسکو اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی ورثہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے انہدام کے بھارت کے مذہبی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں۔

0 comments