جمعیۃ علمائے ہند کے نام پر ممبر سازی اور یہ علاقائی صوبائی انتخابات
جمعیۃ علمائے ہند کے نامپر ممبر سازی اور یہ علاقائی صوبائی انتخاباتدینی مدارس کے اساتذہ اور ائمہ مساجد کیا یہ کھیل چچا کیے کھیل رہے ہیں بھتیجے کے لیے؟؟
حرف نیم کش
عظیم اختر
دہلی سے شائع ہونے والے اردو کے چھوٹے بڑے اخبارات میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتی ہوئی اور آخر میں موروثی جاگیر کی طرح ایک خاندار کے چچا بھتیجے کے درمیان بٹ جانے والی جمعیۃ العلمائے ہند جیسی قومی تنظیم اور ملی امانت کے نام پر دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کے چھوٹی بڑے شہروں اور مسلم محلوں کی مساجد میں ہونے والے انتخابت اور نتائج کی خبریں تواتر کے ساتھ پڑھتے تو نہ جانے کیوں ہمارے ذہن میں حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ کلبلانے لگتا کہ ”چہ دلاور است کہ دزدے بکف چراغ دارد“ یا پرانی دہلی کی گھنی آبادی کے محلہ قاسم جان کا وہ بڑا سا مکان ہماری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا جہاں عالمِ دین کہلائے جانے والے ایک فردِ واحد کی خود پرستی اور ریشہ دوانیوں کا شکار ہونے اور ٹوٹنے سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں کی واحد اور نمائندہ تنظیم جمعیۃالعلمائے کا مرکزتھا۔اس زمانے میں مولانا حفظ الرحمان صاحب مرحوم اس تنظیم کے جنرل سیکریٹری تھے۔
مولانا حفظ الرحمان مرحوم نہ صرف عالم ِدین تھے بلکہ برطانوی سامراج سے لوہا لینے اور آزادیِ وطن کا نعرہ بلند کرنے والے اس دور کے علمائے کرام کے ہراول دستے میں سے تھے۔عالمِ دین ہونے کے ساتھ وہ ایک قد آور سیاسی شخصیت کے مالک تھے اور صحیح معنوں میں دہلی اوراتر پردیش کے اہم سیاسی قائد تسلیم کیے جاتے تھے،شاید یہی وجہ تھی کہ دہلی کے ہر علاقے کے معزز اور سربرآوردہ مسلمان جمعیۃ سے وابستہ تھے اور جمعیۃکے کارکنان کا پورے شہر میں ایک نیٹ ورک پھیلا ہوا تھا۔مولانا حفظ الرحمان مرحوم اور ان کے رفقا ء روزانہ عشاء کی نماز کے بعد مرکزی دفتر میں بلا ناغہ تشریف لاتے۔ ہم نے اس زمانے میں جمعیۃکے دفتر میں شہر اور قرب و جوار کے شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں کا اکثر جمِ غفیر دیکھا جو اپنے مسائل کے حل کے لیے جمعیۃ کے دفتر کا رخ کیا کرتے تھے اور مولانا مرحوم اور ان کے رفقاء پریشان حال مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں نہایت ہی مدبرانہ اور مشفقانہ رول ادا کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ تقسیم وطن کے پرآشوب دور میں جب سرحد پار سے آنے والے ہجرت گزیدہ مہاجرین کی دلی میں آمد کے ساتھ یہاں قتل و غارتگری کا بازار گرم ہوا اور مسلمانو کی اکثریت اپنے مکانات اور دکانیں چھو ڑ کر مملکتِ خدا داد پاکستان کی طرف بھاگنے لگے اور محلے کے محلے مسلمانوں کے وجود سے خالی ہو گئے تھے اس وقت مولانا حفظ الرحمان اور جمعیۃ کے دوسرے اکابرین نے قرب و جوار کے بیروزگار اور ملازمتوں کے متلاشی مسلمانوں کو خاموس منصوبہ بندی کے تحت دہلی لا کر ان مکانوں اور مسلم محلوں میں آباد کرنے کا وہ کام کیا جس کا آج جمعیۃ کے نام پر اپنی دکانیں سجانے والے یہ مولوی حضرات تصور بھی نہیں کر سکتے۔یہ اس دور کی جمعیۃکے بے لوث اور سراپا مخلص ذمہ داروں کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پرانی دہلی کے ان علاقوں کا مسلم تشخص آج بھی باقی ہے ورنہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جامع مسجد کے قرب و جوار کے خالص مسلم محلے بھی پہاڑ گنج، قرول باغ وغیرہ کی طرح کبھی کے مسلم مُکت علاقے بن چکے ہوتے۔ہمارا خیال ہے کہ مولانا حفظ الرحمان مرحو م جیسی فعال، مخلص اور بے لوث شخصیت کے انتقال کے بعد مسلمانوں کی اس تنظیم کی باگ ڈور اگر ان جیسے ہی نیک خو،نیک طینت،مخلص اور بے لوث اکابرینِ ملت کے ہاتھوں میں رہتی تو جمعیۃکا وہ وقار اور دبدبہ آج بھی قائم رہتا۔اس زمانے میں نیک صالح اور ملت کا درد رکھنے والے اکابرین کی کمی نہیں تھی، لیکن یہ ایک ملی المیہ سے کم نہیں کہ خاندانی ماحول کی وجہ سے دار العلوم میں صرف دینی تعلیم پانے والے اور ائمہ مساجد میں شدت کے ساتھ در آئی شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کی وجہ سے عالمِ دین کہلائے جانے والے ایک فردِواحد کی خود پرستی، انانیت اور ریشہ دوانیوں سے ماضی قریب کے مسلمانوں کے عطیوں اور چندوں سے معرضِ وجود میں آنے والی اس ملی تنظیم پر شب خون مار کر سب سے پہلے مرکزی دفتر کو دہلی کے عام مسلمانوں کی پہنچ سے بہت دور آئی ٹی او کے قرب و جوار میں پہنچا دیا تاکہ عام مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے ارادتاً بھی جمعیۃکے دفتر تک نہ پہنچ سکے۔ یہ مسلمانوں کی قومی اور ملی تنظیم کو عام مسلمانوں کو دور کرنے کی سمت پہلا قدم تھا،اس کے بعد انانیت اور خود پسندی نے ریشہ دوانیاں کر کے اور سازشیں رچ کر اپنے وقت کے جید بزرگانِ دین کے باقی الاصالحات سمجھے جانے والے اکابرینِ جمعیۃکو حاشیے پر بٹھا دیا۔دینی اجتماع اور مساجد کے منبروں سے عام مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا کا درس دینے والوں نے منافرت اور توڑ پھوڑ کا وہ بازار گرم کیا جس کی مثال ہندوستانی مسلمانوں کی دینی اور ملی تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔قوم کے چندوں اور مالی تعاون سے معرضِ وجود میں آنے والے ادارے اور تنظیمیں دنیا کے ہر چھوٹے بڑے سماج میں ملک و قوم کی امانت کی حیثیت رکھتے ہیں اور امانت ہی سمجھی جاتی ہیں، لیکن جب فردِواحد کی انانیت اور خود پسندی نے اپنے ہی جیسے ’علمائے دین‘ کے ساتھ ان قومی وملی امانتوں پر بہ زورِبازو قبضہ کر کے امانت میں خیانت کا بد ترین مظاہرہ کیا تو عام مسلمان دنگ رہ گیا لیکن مدراسِ دینیہ میں صبح و شام قرآن و حدیث کا درس دینے، اصلاح معاشرہ کے حوالے سے لچھے دار تقریریں کرنے والے خطیبوں اور ہر جمعہ کو نماز سے قبل عام مسلمانوں کو احکاماتِ شرعیہ پر سختی سے چلنے اور عمل کرنے کی مسلسل تلقین کرنے والے ائمہ حضرات کی اکثریت نے جمعیۃ پر شب خون اور ۰۸۹۱ء میں مدرسہ دارالعلوم پر بہ زور بازو قبضہ کے سانحے سے لے کر آج تک شرعی نقطہئ نگاہ سے امانت میں کھلی خیانت اور فردِ واحد کی انانیت کی کھل کر کبھی مذمت نہیں کی۔یہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی ملی زندگی کا سب سے بڑا المیہ تھا کہ اس وقت شمالی ہندوستان بالخصوص دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ کی مساجد اور مدارس کے ذمہ دار حضرات کلمۃ الحق زبان پرلانے کی بجائے شخصیت پرستی کے اس متعفن سیلاب میں بہہ گئے جو ہماری ملی اور سماجی زندگی میں آج بھی اسی طرح بہہ رہا ہے۔یہ اسی سیلاب کا نتیجہ ہے کہ تبلیغی جماعت جیسی اللہ والوں کی تنظیم بھی شخصیت پرستی اور مسلط امیر جماعت کی خود پسندی کا شکار ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔تبلیغِ سلام کے جذبے سے سرشار کل تک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات پر چلنے اور باہمی اتحاد کا درس دینے والی شخصیت پرستی کی وجہ سے آج خود بد ترین نفاق کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں تبلیغی جماعت کا وہ احترام باقی نہیں رہا جو کل تک تھا۔یہی حال ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹ جانے والی آج کی اس جمعیۃالعلمائے ہند کا ہے جو گزشتہ صدی کے ساتویں دہائی تک ہر سطح پر ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ایسی مؤقر اور نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی جس کو قوم کا بھرپور اعتماد حاصل تھا اور آج چچا بھتیجے میں تقسیم ہونے کے بعد یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ جمعیۃ العلمائے ہند کہا ں ہے اور کون سی ہے جسے ماضی بعید کے نیک سیرت و صالح اور ملت کا درد رکھنے والے علمائے کرام نے ہندوستانی مسلمانوں کی دینی و دنیوی رہبری اور فلاح و بہبود کے لیے اس زمانے کے عام مسلمانوں کے دامے،درمے تعاون سے قائم کی تھی اور شمالی ہندوستان بالخصوص اتر پردیش، دہلی اور ہریانہ کے علاقوں کی مسلم بستیوں اور پٹیوں میں کارکنوں ور ہمدردوں کا ایک نیٹ ورک پھیلا دیا تھا،
لیکن آج وہی تنظیم عام کارکنوں اور ہمدردوں کے وجود سے تہی دامن ہو کر چند مخصوص علاقوں کے مدارسِ دینیہ کے شخصیت پرست استاذہ اور ائمہ مساجد کی ایک ایسی جماعت بن کر رہ گئی ہے جس کی ماضی کی تابناک ملی خدمات کے حوالے سے دو دکانیں کھلی ہوئی ہیں، ایک دکان میں صرف صدر کا سکہ چلتا ہے اور ناظمِ عمومی یا جنرل سکریٹری کا کوئی عہدہ نہیں ہے،دوسری دکان کے تمام تر مالکانہ حقوق صرف ناظمِ عمومی کو حاصل ہیں،اس دکان میں دنیا دکھاوے اور بھرم قائم کرنے کے لیے صدارت کے عہدے کا ایک طغرا بھی لگا ہے جس میں ناظم عمومی نے اپنے ایک بہت ہی قریبی عزیز اور مدرسہ دار العلوم کے ایک ذمہ دار کی تصویر سجا رکھی ہے تاکہ پرنالہ اپنے ہی رخ پر گرے اور دار العلوم پروراثت میں بہ زور بازو پایا ہوا قبضہ کسی
نہ کسی شکل میں خاندان میں ہی برقرا رہے۔اس پس منظر میں کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمعیۃ العلمائے ہند کے نام پر ایک ہی خاندان کی دو دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور الگ الگ اکائیوں کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ کے مسلم علاقوں کی مسجدوں میں مدارسِ دینیہ کے اساتذہ اور ائمہ حضرات نے جنگی پیمانے پر جمعیۃ العلمائے ہند کی ممبر سازی کابازار گرم کر رکھا ہے، خباری خبروں کے مطابق علاقائی اور صوبائی انتخاب ہو رہے ہیں، عہدوں کی تقسیم ہو رہی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو یہ علم ہی نہیں کہ جنگی پیمانے پر یہ ممبر سازی اور صوبائی و علاقائی انتخاب کے نام پر عہدوں کی تقسیم کا یہ کھیل کس کے ایماء پر کھیلا جا رہا ہے۔ کیا یہ اساتذہ حضرات اور ائمہ مساجد شخصیت پرستی اور جوشِ عقیدت میں چچا کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں یا بھتیجے سلمہٗ کے تاکہ جمعیۃالعلمائے ہند کا نشاۃ ثانیہ کبھی لوٹ کر واپس نہ آسکے!
:09810439067

0 comments