جواں ہو عزم تو منزل سلام کرتی ہے ؛ ملاقات ایک 'مہم جو' سے
نئی نسل میں بامقصد زندگی گزارنے کا جذبہ ابھارنا جس کا مشن ہے
تحریر: اشرف علی بستوی
یہ 'گریٹ انڈیا ویلفیر فاونڈیشن' کے رجسٹریشن کے کا غذات تھے،ایک نظر ڈالنے کے بعد میرے منھ سے نکلا آپ کے فاونڈیشن کو اپنے آبائی علاقے میں معیاری تعلیم کا کوئی ادارہ شروع کرنا چاہیے جو آگے چل کرایک کامیاب نمونہ بن سکے ،جہاں ایک عام آدمی بھی اپنے بچے کو پڑھا نے کا خواب دیکھ سکے ،انہوں نے کہا ایسا ہی ہوگا انشااللہ ۔ کچھ ہی روز بعد انہوں نے اپنے یہاں 'گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی' کے قیام کی خوشخبری دی.
اکتوبر2020 میں مجھے اکیڈمی دیکھنے کا اتفاق ہوا طبیعت خوش ہوگئی کہ وہ جو کہتے ہیں اسے مکمل کرنے کا جنون رکھتے ہیں ابھی انہیں سماجی خدمت میں بہت معرکے سر کرنے ہیں ۔ میں نے انہیں سراپا تحریک پایا ،خاص طور سے نئی نسل میں بامقصد زندگی گزارنے کا جذبہ ابھارنا ان کا مشن ہے.
وہ ملک کے تیزی سے بدلتے سماجی ، سیاسی منظر نامے میں مداراس اسلامیہ ہند کی اہمیت و افادیت کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے اس پر پورا خاکہ پیش کرتے ہیں اور مدارس کے انتظامیہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے درخواست گزار ہیں کہ نصاب میں کچھ عصری مضامین کو کیسے ساتھ لے سکتے ہیں اور مدارس کی اکنامی جو صرف اہل خیر حضرات کے صدقات و خیرات کے مرہون منت ہے اسے فیس وصول کرکے کیسے خودکفیل بنا سکتے ہیں , تعلیمی معیار کیسے بہتر کر سکتے ہیں اس کا پورا خاکہ مدارس اسلامیہ ہند کے زمہ داران کے سامنے مستقل پیش کررہے ہیں ۔
اللہ سے دعا ہے کہ انہیں حوصلہ دے ،اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔
کالم نگار ایشیا ٹائمز نئی دہلی کے چیف ایڈیٹر ہیں

0 comments