شاید یہ ٹوٹے پھوٹے جملے کچھ اور ٹوٹی ہمتوں کو جوڑنے کے کام آجائیں
ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا ایک خط ان کے صاحب زادے کے نام

راہ شوق کے ڈھابے اور چائے خانے
پیارے بیٹے فوزان
سلامتی ہو تم پر، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں؛
سدا خوش رہو، حقیقی کامیابیاں تمھارے قدم چومیں؛
مجھے احساس ہے کہ داخلہ لسٹ میں نام نہ آنے پر تمھیں صدمہ ہوا ہوگا، تمھارے سدا ہنستے مسکراتے چہرے پر غم کی کچھ پرچھائیاں آگئی ہوں گی، کیوں کہ تم نے اس کے لیے بہت محنت کی تھی۔ مجھے تمھاری محنت سے بہت خوشی ہوئی، لیکن داخلہ لسٹ میں نام نہ آنے پر ذرا بھی غم نہیں ہوا۔ کیوں کہ میں نے تمھارے لیے اپنے دل میں جو ارمان پالے ہیں، اور تم نے اپنے لیے جس عظیم سفر کا انتخاب کیا ہے، اس میں اس داخلے کا ہونا ضروری تو بالکل بھی نہیں ہے۔
پیارے بیٹے تم جس راہِ شوق کے مسافر ہو، اس میں ان داخلوں اور ڈگریوں کی حیثیت راستے کے ڈھابوں اور چائے خانوں سے زیادہ کی نہیں ہے۔ موقع ملا تو کچھ دیر کے لیے رک گئے، چائے پی، کھانا کھایا اور آگے بڑھ گئے۔ نہیں موقع ملا تو راستے کی کسی نہر پر رک کر پانی پیا، کسی پیڑ کی پتیاں توڑیں اور انھیں چباتے ہوئے سفر جاری رکھا۔
جن لوگوں نے دولت کمانے اور شان دکھانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے، ان کے لیے تو یہ ڈگریاں بہت ضروری اور اہم ہوسکتی ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ تم نے اپنی زندگی کا یہ مقصد نہیں بنایا ہے۔
اگر تمھارے نزدیک تعلیم کا مقصد روزگار حاصل کرنا نہیں ہے، اور اگر تمھارا حوصلہ ہے کہ بہت تھوڑے سے سامان زندگی میں بھی خوشی خوشی زندگی گزار لو گے، تو پھر غم کس بات کا۔
پیارے بیٹے، اللہ نے تمھارے لیے انتظام کیا اور تم نے بہت سے بنیادی علوم حاصل کرلیے، انگریزی، عربی، ہندی اور اردو چار زبانیں سیکھ لیں، سائنس، ریاضیات، لٹریچر اور انسانی علوم بھی پڑھ لیے، قرآن مجید حفظ کرلیا، دینی علوم سے آگاہی ہوگئی، تقریر وتحریر کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ اب تو تم اس پوزیشن میں ہو کہ علم و فکر کی اونچی سے اونچی چوٹی پر پہنچنے کا فیصلہ کرسکتے ہو۔ محنت کرکے اس مقام پر پہنچ سکتے ہو جہاں ڈگریاں غیر اہم اور خدمات اہم ہوجاتی ہیں۔ جہاں فراہی اور شبلی، مودودی اور قطب پہنچے۔
پیارے بیٹے، تم نے داخلہ ٹیسٹ کے لیے جو صبح و شام محنت کی تھی، اس کا پہلا رزلٹ اسی دوران سامنے آگیا تھا اور وہ یہ کہ تم ماشاء اللہ اتنی زیادہ محنت کرنے کی چھمتا رکھتے ہو۔ تم اسے اپنی ایک قیمتی دریافت سمجھو، اگر تم نے اتنی ہی محنت زندگی بھر برقرار رکھی تو یقین مانو کہ علم و فکر کے آسمان کا روشن ستارہ بن جاؤ گے۔ اور آج اسلام کو ایسے ہی روشن ستاروں کی ضرورت ہے۔
اللہ تمھیں اور تمھارے بھائیوں اور بہنوں کو اسلامی دنیا کا آفتاب وماہتاب بنائے۔
تم سب کے لیے اونچے ارمان رکھنے والے تمھارے ابو
محی الدین غازی
11، دسمبر، 2020
(اس خط کی اشاعت کا ارادہ نہیں تھا، مگر پھر خیال آیا کہ شاید یہ ٹوٹے پھوٹے جملے کچھ اور ٹوٹی ہمتوں کو جوڑنے کے کام آجائیں)
بہ شکریہ سوشل میڈیا

0 comments