آہ ! مولانا رفیق احمدقاسمی ؛ ایک منکسرالمزاج، اعتدال پسند اور کشادہ نظرعالم دین اب ہمارے درمیان نہیں رہا

مولانا رفیق قاسمی ایک بہترین خطیب تھے اور اسلامی افکار کے مختلف مکاتب فکر کے اسکالروں کے ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات رکھتے تھے۔

 

نئی دہلی:(ایشیا ٹائمز) جماعت اسلامی ہند کے سینئر رہنما مولانا رفیق احمد قاسمی آج حرکت قلب بند ہونے کے باعث الشفا اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ 75 برس کے تھے۔  ان کے انتقال پر چہار جانب سے  بلا تفریق مزہب و ملت علما و دانشوران ملت اسلامیہ ہند اظہار تعزیت کیا ہے وہ اپنے بین المذاہب مکالموں کی وجہ سے ہر مذہبی حلقے میں مقبول تھے۔

ان کی موت کی خبر سے نہ صرف مسلم بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو بھی صدمہ پہونچا  ہے ۔ ان کے اچانک انتقال پر سوشل میڈیا تعزیتی پیغامات کاسلسلہ ہنوز جاری ہے  ۔

مولانا رفیق قاسمی ایک بہترین خطیب تھے اور اسلامی افکار کے مختلف مکاتب فکر کے اسکالروں کے ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات رکھتے تھے۔

وہ ضلع بلرام پور کے دتولی میں پیدا ہوئے تھے اور گونڈا میں رہتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری اور مرکزی مشاورتی کونسل

کے رکن تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایگزیکیٹو ممبر بھی تھے۔

جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ انکے انتقال پر تعزیت کی اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشدمدنی نے مشہورعالم دین و جماعت اسلامی ہندکے سابق سکریٹری مولانا رفیق احمدقاسمی ؒکے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج ودکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعدچندسال درس وتدریس میں گزارے اس کے بعدتحریک جماعت اسلامی ہندسے وابستہ ہوگئے، پوری زندگی جماعت اسلامی ہندکے مشن کی کامیابی وحصول کیلئے لگادی ۔ مولانا مرحوم اپنی سادگی،منکسرالمزاجی اورملنساری کی وجہ سے ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے، اعتدال،توازن اور کشادہ نظری ان کا طرہ امیتاز تھا،مولانا مرحوم کاایک امتیازی وصف یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں سے وہ خصوصی دعوتی روابط رکھتے تھے، اور مشترکہ مسائل کے حل کی خاطر ہمیشہ جدوجہد کرتے رہتے تھے،مولانا مرحوم بارہا جمعیۃعلماء ہند کے اجلاسوں اورپروگراموں میں شریک ہوئے اور اعتدال کا دامن نہ چھوڑا ایسی
شخصیت کا داغ مفارقت دے جانا ہمارے لئے ایک سانحہ ہے۔

معروف عالم دین اور جماعت اسلامی ہند کے سابق کل ہند سکریٹری مولانا محمد رفیق قاسمی کی وفات پر انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے شدید رنج وغم کا اظہار کیاہے ۔انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہاکہ مولانا محمد رفیق قاسمی سلجھے ہوئے اور امت کے بہی خواہ عالم دین تھے ۔ سبھی کو ساتھ لیکر چلنا اور امت کے اتحاد کی کوششیں کرنا ان کا ہمیشہ مشغلہ رہا 

ان کی نماز جنازہ نئی دہلی کے اوکھلا کے ابوالفضل انکلیو میں واقع اشاعتِ اسلام مسجد کے لان میں منعقد ہوئی۔ انھیں شاہین باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

مولانا رفیق قاسمی اپنے پیچھے اپنی اہلیہ، چار بیٹیاں اور چھ بیٹے چھوڑ گئے ہیں۔

 

0 comments

Leave a Reply