ہندوستان کی جنگ آزادی کے عظیم رہبر مولانا محمد علی جوہر کا 143واں یوم پیدائش 10 دسمبر کو
جلسہ ہمالیہ ڈرگس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید فاروق کی جامعہ نگر واقع ان کی رہائش گاہ پر تسمیہ آڈیٹوریم میں ہوگا اور ڈاکٹر سید فاروق جلسے کی صدارت فرمائیں گے۔
نئی دہلی : (پریس ریلیز) ہندوستان کی جنگ آزادی کے عظیم رہبر اور کانگریس کے سابق صدر رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کا
۱۴۳واں یوم پیدائش ۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ کو ہوگا۔ انکے یوم پیدائش پر مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی ہر سال دلی میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کرتی ہے۔ لیکن امسال کووڈ ۱۹ کی وجہ سے جو عالمی وباء پھیلی ہوئی ہے اور اسکی احتیاطی پابندیوں کے لاگو ہونے کی وجہ سے یہ جلسہ ساری ضروری پابندیوں اور احتیاتوں کے ساتھ بروز جمعرات ، ۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ کو ۱۱ بجے صبح منعقد کیا جائے گا۔
جلسہ ہمالیہ ڈرگس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید فاروق کی جامعہ نگر واقع ان کی رہائش گاہ پر تسمیہ آڈیٹوریم میں ہوگا اور ڈاکٹر سید فاروق جلسے کی صدارت فرمائیں گے۔ مولانا محمد علی جوہر کی ملکی خدمات میں سب نمایاں خدمت ان کی گول میز کانفرسوں میں شرکت اور وہاں ہندوستان کی آزادی کے لئے پرزور وکالت کرنا شامل ہے۔
مولانا محمد علی جوہر نے مہاتما گاندھی کے کندھے سے کندھا ملا کر ۱۹۲۰ کی دہائی کے شروعات میں تحریک عدم تعاون کو کامیاب کرنے میں جو قائدانہ کردار ادا کیا تھا، وہ آج تک نا قابل فراموش ہے۔ اسی دوران انہوں نے مشہورخلافت تحریک کی قیادت بھی کری۔ ان عوامی تحریکوں نے انگریز حکومت کے پایے تخت کو بری طرح ہلا ریا تھا۔
ہندوستان کی جدید تاریخ میں ہندو مسلمان اتحاد کا وہ بہترین دور تھا جب مہاتما گاندھی مسجدوں میں سبھائیں کرتے تھے اور مسلمان رہنما ئوں کو ہندو مذہبی تنظیمیں مدعو کرتی تھیں۔اس ہندو مسلم اتحاد کی سب سے مضبوط آواز مولانا محمد علی جوہر کی ہی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی ملک کے اس عظیم رہنما کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لئے کوشاں رھتی ہے۔
محمد علی جوہر اپنے وقت کےایک طاقتور صحافی بھی تھے۔ انکا اخبار "زمیندار" انگریز حکومت کی کوتاہیاں، نا انصافیاں اور ملک و عوام مخالف پالیسیوں کا پردہ فاش کرنے میں سب سے آگے رہتا تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ بدیشی حکومت نے اس اخبار کو کئی بار تادیبی کارروائی کے تحت بند کیا۔ مولانا کی صحافت آجکے دور کے صحافیوں اور میڈیا کے لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ انگریزی حکومت کے ماتحت تعلیمی نظام کی مخالفت میں مولانا محمد علی جوہر نے ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اساس رکھی تھی ۔ ۲۰۲۰ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے قیام کے سو سال پورے کر چکی ہے۔
امسال کے جلسہ میں مولانا محمد علی جوہر کی اس تاریخی خدمت کے اعزاز میں ان کو خاص خراج عقیدت ہیش کیا جائے گا۔ معزز مقررین میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر اروندر انصاری اور سینئر جرنلسٹ منصور آغا بھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ سماجی انصاف دلانے کے لئے مشہور وکیل فوزیہ رحمان آج کے دور میں سماجی برابری اور اتحاد کے عنوان سے تقریر فرمائینگیں۔
اس جلسہ میں ان اشخاص کو تہنیتی سرٹیفکیٹ بھی پیش کئے جائینگے جنہوں نے کووڈ ۱۹ کی وبا کے دوران غیر معمولی طبی اور سماجی خدمات انجام دیں ہیں۔۔ مولانا محمد علی جوہر کا ۱۴۳ واں یوم پیدائش کا جلسہ ۳۲۱ ڈی، اوکھلا نئی دلی ۱۱۰۰۲۵ میں تسمیہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا۔ خواجہ شاہد، صدر، مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی نے اپنے بیان میں شرکاء سے ساری ضروری احتیاتوں اور پابندیوں کے ساتھ شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔


0 comments