محبت سے بھی خطرہ ہوگیا ہے

لو جہاد‘کے نام پر بی جے پی حکومتیں عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانا چاہتی ہیں

کلیم الحفیظ۔ دہلی

 

’لو جہاد‘کے نام پر بی جے پی حکومتیں عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانا چاہتی ہیں پیار کیا کوئی چوری نہیں کی،پیارکیانہیں جاتاہوجاتاہے،جب پیارکیاتوڈرناکیا۔یہ اور اس طرح کے نغمے گنگنانایا پیار کی باتیں کرنا اور شیریں فرہاد اور لیلیٰ مجنوں کے قصے سنانا مہنگا پڑے گا۔اس لیے کہ ملک کی بعض ریاستوں میں ’لو جہاد‘کے نام سے ایک قانون بنائے جانے کی تیاری ہے۔جس کے تحت محبت کرنا غیرقانونی ہوجائے گا۔ملک کی یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں پریم کا راگ الاپنے والے اور وسودیو کٹمبھکم کا نعرہ لگانے والوں کی سرکاریں ہیں۔جو سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کے وشواس کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے۔جو ساری دنیا میں امن و محبت کا پیغام دینے کی بات کرتے ہیں۔اگر یہ قانون بنتا ہے تو ہمارا ملک محبت پر پابندی لگانے کے معاملے میں عالمی ریکارڈ قائم کرے گا۔’لو جہاد‘کیا ہے؟

اس کی حقیقت کیا ہے؟بی جے پی اس کے خلاف قانون کیوں بنانا چاہتی ہے؟اس سے جنتا کا کیا فائدہ ہوگا؟یہ وہ سوالات ہیں جو ایک عام شہری کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔’لو‘ کے معنیٰ ہیں محبت،اور جہاد کے معانی ہیں کوشش کرنا،جدو جہد کرنا،یہاں تک کہ جان کی بھی پرواہ نہ کرنا۔لیکن سنگھ کے نظریہ کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”مسلم نوجوانوں کے ذریعہ محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروانا“۔جہاں تک اس کی حقیقت کا تعلق ہے۔تو یہ ایک فرضی چیزہے آج تک عدالتوں کی ہدایات پرتحقیقات کے باوجود ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں ملاہے۔اس نام کی کوئی چیز زمین پر نہیں پائی جاتی۔سنگھ کا معاملہ یہ ہے کہ پہلے ایک چیز گھڑی جاتی ہے،اس کو ہوا بنایا جاتا ہے،پھر اس کو اتنا اچھالا جاتا ہے کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔’لو جہاد‘ میں لفظ جہاد بھی بہت معنیٰ خیز ہے۔جہاد دین اسلام کی ایک مقدس اصطلاح ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان برائیوں کو ختم کرنے اور بھلائیوں کو پھیلانے کی جدو جہد اور کوشش کرے۔لیکن جہاد لفظ کا استعمال کرکے حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے غیر مسلم یہ جان لیں کہ یہ کام مسلمان کررہے ہیں،جہاد کا لفظ ہندووں میں خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ابھی گزشتہ دنوں چند مسلم نوجوانوں کے آئی اے ایس میں سلیکشن کو لے کر بھی ملک کے ایک ٹی وی چینل نے یوپی ایس سی جہاد کا سوشہ چھوڑ کر یہ خوف پیدا کیا تھا کہ مسلمان ملک کے اعلیٰ ترین مناصب پر پہنچ کر ملک کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں۔یہ مسلمانوں کے خلاف سنگھ کی ایک منظم سازش ہے۔اس کے ذریعے وہ اپنے ووٹروں کے اندر مسلمانوں کا ڈر پیدا کرکے پولرائزیشن کی سیاست کررہی ہے۔

حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ ’لو جہاد‘کے نعرے کے ذریعہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل بے روزگاری،بھک مری،جی ڈی پی کی گرتی شرح،خود کشی پر مجبور کسان،ملک کی غیر محفوظ سرحدوں سے ہٹ جائے۔بی جے پی کے نزدیک ملک کا سب سے بڑا مسئلہ’لو جہاد‘ہے۔گودی میڈیا اس کام میں پوری طرح ساتھ ہے۔وہ سارے دن ’لو جہاد‘ پر بکواس کرتا رہتا ہے۔ عوام کی اکثریت اپنے دو وقت کی روٹی کے چکر میں ایسی پھنسی ہے کہ بے چاری حکومت کے خلاف نہ سڑکوں پر اتر سکتی ہے،نہ احتجاج کرسکتی ہے۔اس لیے کہ اگر وہ ایک دن بھی کام نہ کرے تو بچے بھوک سے مرجائیں گے۔لیڈر شپ مصلحتاً خاموش ہے،وہ بولے گی تو مسلمانوں کی منھ بھرائی کا الزام آجائے گا۔یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ کیا اس نام نہاد’لو جہاد‘کی وکالت یا حمایت مسلمان یا ان کی کوئی تنظیم کرتی ہے۔معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام کے نزدیک صرف شادی کی نیت سے دھرم پریورتن کرنا غیر مستحسن عمل ہے۔اخلاقی لحاظ سے والدین خواہ ان کا تعلق کسی بھی دھرم سے ہو وہ غیر دھرم تو کیا اپنی ذات اور برادری کے باہر بھی رشتے اور شادیوں کو پسند نہیں کرتے۔کسی سماج نے بھی آج تک ایسی شادیوں کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا۔جب نہ کوئی حمایت کرتا ہے،نہ کوئی پسند کرتا ہے،اور نہ کوئی ایسی منظم تحریک چل رہی ہے،نہ’لو جہاد‘کا وجود ہی ہے تو پھر ملک کو گمراہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔؟

آخر کب تک عوام کو مسلمانوں کے خلاف قانون بنا بنا کر بہکایا جاتا رہے گا۔کبھی طلاق،کبھی حلالہ،کبھی مسجد اور کبھی کشمیر کے نام پر ووٹ حاصل کیے جاتے رہیں گے؟کیااب مغربی بنگال کا الیکشن لو جہاد کے نام پر لڑا جائے گا؟کیا بین مذاہب شادیاں صرف مسلمان کررہے ہیں؟اسلام میں تو اس طرح کی شادی کی اجازت ہی نہیں جس میں ایک فریق غیر مسلم ہو۔البتہ ملک کا قانون ضرور اجازت دیتا ہے۔اسی لیے ایسے لوگ نکاح پڑھنے اور پھیرے پھرنے کے بجائے عدالتوں کا رخ کرکے کورٹ میرج کرتے ہیں۔اس معاملہ میں صرف ہندو لڑکیاں ہی مسلمان لڑکوں سے شادی نہیں کرتیں بلکہ مسلمان لڑکیاں بھی ہندولڑکوں کے ساتھ اپنا گھر بساتی ہیں۔اس لیے کہ ملک کا آئین ملک کے شہریوں کو تمام بنیادی حقوق دیتا ہے،جس میں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ایک طرف خواتین کے ایمپاورمنٹ کی بات کرنے والے اور مسلم مہیلاؤں کو طلاق سے آزادی دلانے والے کس منھ سے خواتین پر اپنی پسند کی شادی کرنے پر سزا کی بات کررہے ہیں؟کیا اس طرح کی قانون سازی خواتین کی آزادی و اختیار چھین لینے کے مترادف نہیں ہے؟ڈیجٹل انڈیا کا خواب دکھانے والوں کے منھ سے اس طرح کی دقیاسی سوچ کی امید نہیں کی جاسکتی؟دراصل معاملہ’لو جہاد‘کی آڑ میں دھرم پریورتن پر پابندی لگانے کا ہے۔شہریوں سے اپنی پسند کے عقیدے اور دھرم کا اختیار چھین لینے کا ہے

اور ملک کو منو اسمرتی کے مطابق ہندو راشٹر بنانے کا ہے۔مرکزی حکومت آہستہ آہستہ ایک ایک قدم اس سمت آگے بڑھ رہی ہے۔،ملک کے مکھیا نے سائیں کا روپ دھار لیا ہے۔گزشتہ سات سال میں کتنی ہی بار آئینی اداروں پر بیٹھے ہوئے ذمہ داروں کی جانب سے ہندوستان کو ہندو راشٹر کہا جا چکا ہے۔رام مندر کے شلانیاس کی تقریب کے وقت بھی یہی ادگھوش(اعلان) کیا گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں نیز بی جے پی حکومتیں اپنے ایجنڈے (ہندوراشٹر) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان سے اسے ترک کرنے کا مطالبہ کرنا یا آئین کی دہائی دینابھینس کے آگے بین بجانے کے برابر ہے۔انھوں نے تو ہر معاملے میں طے کررکھا ہے کہ جو ان کی بات نہیں مانے گا اس کا رام نام ستیہ کردیا جائے گا۔یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اگر آپ کو یاد ہوتو اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے لو جہاد پر چند ماہ پہلے بیان دیا تھا اور نوجوان جوڑوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر نہیں مانیں گے تو لوجہادیوں کا رام نام ستیہ کردیا جائے گا۔ظاہر ہے اس بو جہلی رویہ کا مقابلہ شریفانہ طور طریقوں سے نہیں کیا جاسکتا۔اگرچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر کہ شریک حیات کا انتخاب کرنا فرد کی اپنی آزادی او ر مرضی پر منحصر ہے اس طرح کی قانون سازی پر اپنی ناپسندیدگی کا اشارہ دے دیا ہے۔مگر فسطائی ذہنیت سے اس کی امید نہیں ہے کہ وہ عدالت کے اشاروں کو سمجھے اس لیے ملک کے اس طبقے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جو خود کو سیکولر سمجھتا ہے،کہ وہ کوئی ٹھوس قدم اٹھائے۔مسلمانوں سے میں بس اتنی ہی گزارش کروں گا کہ وہ صبر کے ساتھ ملک کے آئین کی پابندی کریں،مسلم نوجوان بیٹے بیٹیاں اپنے دامن عفت کی حفاظت کریں اور خدا کے اس حکم کو یاد رکھیں کہ”ایک مومن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو“ (البقرہ 221)

لگیں گی بیڑیاں اب عاشقی کو

محبت سے بھی خطرہ ہوگیا ہے 


0 comments

Leave a Reply