خواجہ غریب نواز نے ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کی بنیادڈالی
اسلامک انٹلیکچول بورڈ بدایوںکے زیر اہتمام منعقد قومی سیمینار (ویبینار) بعنوان ’’ خواجہ معین الدین چشتی ؒاور ان کے جانشین :ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے معمار‘‘میں مقررین کا اظہار خیال
بدایوں (پریس ریلیز ) اسلامک انٹلیکچول بورڈ بدایوںکے زیر اہتمام خواجہ غریب نواز کی حیات و خدمات اور کمالات پر آج ایک آن لائن قومی سیمینار (ویبینار) کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا عنوان تھا ’’خواجہ معین الدین چشتی ؒاور ان کے جانشین :ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے معمار‘‘۔ جس میں تین درجن سے زائد ملک کے نامور علماءکرام، سجادگان، دانشور ، صحافی اور ریسرچ اسکالرس نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز قاری مجددی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد سیمینارکا باقاعدہ افتتاح پروگرام کے کنوینراور اسلامک انٹلیکچول بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر یاسین علی عثمانی کے خطبہ استقبالیہ سے کیا گیا۔ انھوں نے سبھی مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے سیمینار کے مقصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان ناموافق حالات میں بھی آج ملک بھر کی اہم شخصیات ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہیں، یہ خواجہ غریب نواز کی ہی کرامت ہے۔
ماہر اسلامیات اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے پریسیڈنٹ پروفیسر اختر الواسع نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہندوستان میں آج جس گنگا جمنی تہذیب کی بات کی جاتی ہے، در اصل اس کی بنیاد حضرت خواجہ غریب نوازنے ہی ڈالی ہے۔ یہ خواجہ صاحب کا کمال ہی ہے کہ انھوں نے اس چشتیہ سلسلہ کی بنیاد ڈالی ، جس نے پورے بر صغیر کے منظر نامہ کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ لوگ جو خواجہ صاحب کے بارے میں دریدہ دہنی کرتے ہیں، انھیںنہ ملک کا خیال ہے اور نہ ہی سماج کی فکر ہے۔
اس موقع پر دہلی کی تاریخی مسجد فتح پوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے فضائل اور تعلیمات کو منظر عام پر لائیں اور خود بھی ان پر عمل کریں۔جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے شیخ الجامعہ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور ملک و قوم کو ان کی خدمات سے روشناس کرایا جائے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری اور آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم نے اپنے خطاب کے دوران مشورہ دیا کہ خواجہ غریب نواز کے اہم وصف خدمت خلق کو منظر عام پر لایا جائے، جس سے کہ ملک و معاشرے میں ان کی کشف و کرامات سامنے آ سکیں۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ ہندی اور اردو میں ان کی مکمل سوانح عمری ترتیب دی جائے۔معروف ماہر قانون اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سرکریٹری ظفر یاب جیلانی نے بھی خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی صحیح تصویر پیش کریں۔اس موقع پر درگاہ اجمیر کے گدی نشین سید خواجہ غیاث الدین چشتی نے خواجہ غریب نواز کی حیات و خدمات کے ساتھ ان کی تعلیمات اور گنگا جمنی تہذیب میں ان کے رول کا ذکر کیا۔ان کے علاوہ مولانا محمد ادریس بستوی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی،شاہ مصطفیٰ رفاعی(سجادہ نشین، خانقاہ رفاعیہ بنگلور)،مولانا توقیر رضا خاں( نبیرہ اعلیٰ حضرت و صدر، اتحاد ملت کونسل)،سیداسلم میاں وامقی جیلانی( خانقاہ وامقیہ بریلی)، سید عنایت علی شاہ ابوالعلائی( سجادہ نشین،درگاہ حضرت سیدنا شاہ امیر ابوالعلیٰ)، سید محمد احتشام( سجادہ نشین، بلرام شریف) ،خواجہ راشد فریدی( سجادہ نشین، درگاہ رجب پور)،علی بابا علی الحسینی(گلبرگہ کرناٹک)، وقار پاشا(سجادہ نشین حیدرآباد) ، سید تاج الدین بابا القادری چشتی، سید نجم الہدیٰ نظامی، (درگاہ حضرت نظام الدین اولیا) ،ضمیر احمد نصیری(درگاہ حضرت چراغ دہلوی) ، خواجہ حمید الدین قادری، مولانا محمد یعقوب، مولانا زاہد رضانے بھی اپنے خیالا ت کا اظہار کیا۔جبکہ پروفیسر صغیر افراہیم( اے ایم یو)، پروفیسر عبد العلیم صدیقی( اے ایم یو)،ڈاکٹر یامین انصاری( انقلاب دہلی)، ڈاکٹر عمیر منظر( لکھنؤ) ، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی( انقلاب دہلی)، مولانا محمد منان رضا،مولانا فہیم ازہری،ڈاکٹر ریحان اختر(اے ایم یو)، محمد اشرف الکوثر( جامعہ ملیہ اسلامیہ)، محمد عباس( اے ایم یو) نے اپنے مقالات پیش کئے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض بحسن و خوبی ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے انجام دئے۔

0 comments