خیر صاحب : بستی کے نونہالوں کی تعلیم کے لیے اپنی زندگی وقف کر دینے والی ایک ہمہ گیر شخصیت
پیش ہے خیر صاحب کی یوم وفات کے موقع پر اشرف علی بستوی کی یہ خصوصی تحریر
نئی دہلی / بستی : (ایشیا ٹائمزاسپیشل فیچر) بستی کی گلیوں سے گزرتے ہوئے اگر کوئی رک کر یہ سوال کرے کہ “اس ضلع میں تعلیم کی مضبوط ترین بنیاد کس نے رکھی؟” تو اکثر زبانوں پر ایک ہی نام آتا ہے۔
خیر صاحب
وہ عظیم انسان، جس نے اپنی کمائی، اپنی خواہشات اور اپنی پوری زندگی ایک ہی خواب کے نام کر دی ، بستی کے بچوں کو تعلیم دے کر ان کا مستقبل روشن کرنا۔
ایک سوچ جو اپنے زمانے سے کئی دہائیاں آگے تھی
آج جب ملک میں اسکل ڈیولپمنٹ اور جدید تعلیم کی گونج ہے، تو حیرت ہوتی ہے کہ 1946 میں ہی خیر صاحب نے اپنے ادارے کے نام میں “انڈسٹریل” شامل کر کے مستقبل کی ضرورتوں کا اعلان کر دیا تھا۔ خیر کالیج کی بنا رکھی ۔
ان کا ماننا تھا کہ ” صرف پڑھانا کافی نہیں، بچوں کو ہنر بھی سکھانا ہے۔“
جس دور میں ملک آزادی کی جدوجہد سے ابھر رہا تھا، اور تعلیمی ڈھانچہ کمزور تھا، اُس وقت خیر صاحب جیسی نگاہ رکھنے والی شخصیات نے جو سنگِ بنیاد رکھا، وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

تقریب میں شریک اولڈ بوائیز
انسان دوستی کی بے مثال روایت کے امین
خیر صاحب کی زندگی کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ ان کے ادارے میں کبھی مذہب یا ذات کی تقسیم داخل نہیں ہوئی۔
کلاس روم ہوں یا لیبارٹری، کھیل کا میدان ہو یا ہاسٹل—ہر بچہ صرف طالب علم ہوتا تھا، بس یہی شناخت کافی تھی۔
یہ ادارہ اینٹوں اور چوکھٹوں سے نہیں، خیر صاحب کی دیانت، خلوص اور تعلیم کے جنون سے بنا تھا۔ نہ سیاست تھی نہ لالچ, صرف خدمت۔

مائیک پر اولڈ بوائیز کے فاونڈر درگا دت پانڈے
وہ بسیں جو خوابوں کو منزل تک لے جاتی تھیں
خیر کالج کی اپنی بسیں ہوتی تھیں، اور حیرت کی بات یہ کہ کسی طالب علم سے ایک پیسہ بھی کرایہ نہیں لیا جاتا تھا۔
یہ بسیں صرف سواری نہیں تھیں، یہ مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے خوابوں کی گاڑیاں تھیں۔
انہی نشستوں پر بیٹھ کر جانے کتنے بچے آگے چل کر IAS، انجینئر، ڈاکٹر، تاجر اور استاد بنے—اور یہ سب خیر صاحب کے خواب کا حصہ تھا۔
ہاسٹل: جہاں عام لڑکے غیر معمولی بن جاتے
دور دراز کے بچوں کے لیے ہاسٹل کا قیام خیر صاحب کے وژن کی ایک اور مثال تھی . سادہ کمرا، ایک میز، چند کتابیں، مگر خواب بہت بڑے۔
وہ ماحول، وہ صبحیں، وہ محنت اور دعاؤں کے سائے, یہ سب ایک طالب علم کی شخصیت کو کہیں بلند مقام تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
اولاد نہ تھی، مگر لاکھوں بچے چھوڑ گئے
خیر صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی، مگر انہوں نے بستی کے ہر بچے کو اپنا بیٹا اور اپنی بیٹی سمجھا۔
چاہتے تو بیگم کے ساتھ آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے، مگر انہوں نے بستی کی مٹی، اس کے بچوں اور ان کے مستقبل کو اپنا مقدر بنایا۔ آج دنیا بھر میں خیر کالج کے ہزاروں، بلکہ لاکھوں فارغ التحصیل لوگ ان کے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ایک دکھ بھی باقی ہے
دل میں یہ کسک رہتی ہے کہ خیر صاحب کے قائم کردہ ادارے آج وہ شان برقرار نہیں رکھ سکے، جو ان کی محنت اور وژن کا تقاضا تھی۔ شاید خیر صاحب ہوتے تو یہ کمی کبھی برداشت نہ کرتے۔ مگر امید اب بھی سانس لے رہی ہے , کیونکہ ان کے شاگرد خیرکالیج اولڈ بوائیزایسو سی ایشن کے فاونڈردرگا دت پانڈے اور ان کے ساتھی آج بھی مل بیٹھ کر ایک ہی بات کہتے ہیں ۔ ہمیں خیر صاحب کے خواب کو دوبارہ زندہ کرنا ہے
اور آخر میں
انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم یہ عہد کریں کہ خیر صاحب کے روشن مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ وہ آج ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر تعلیم کا وہ چراغ جو انہوں نے جلایا آج بھی بستی کی شناخت اور اس کا فخر ہے۔
نوٹ : فیچر نگار اشرف علی بستوی ایشیا ٹائمز دہلی کے چیف ایڈیٹر ہیں

0 comments