جامعہ نے ہميں مزاحمت كى شراب پلائى ہے
صفورا اپى ، تيرے حوصلوں كو سلام ! لگتا ہے ان كو تيرے اندرون كى قوت كا اندازه نہيں ہے
عمّاره رضوان
جامعہ مليہ اسلاميہ جس سے مجھے عشق ہے ، اور يہ عشق كيوںكر نہ ہو ، جامعہ ہى تو ہے جس نے ہميں سر اٹها كر جينا سكهايا ہے . اور حق وانصاف كے لئے كهڑے ہونا بهى . جامعہ كے دروديوار بهى اس كے شاہد ہيں اور اس كے درو ديوار ميں جن كا خون شامل ہے وه اس كے برہان. جامعہ كے مختلف دروازوں پر جن كے نام آويزاں ہيں يا لائبرير ى كے سينٹرل ہال ميں جن كے نام كنده ہيں ، ان سے تو ہميں اسى شراب مستى كى بو آتى ہے .
ہوئے تھے آکےیہیں خیمہ زن وہ دیوانے
اٹھے تھے سن کے جو آواز رہبران وطن
وه لوگ كيا جانيں مزاحمت اور اس راه كى لذت جو صرف معذرت نامے لكهتے رہے ہيں ، انگريزوں كے سامنے بهى معذرت اور ان كے دلالوں كے سامنے بهى معذرت
آزادى كى تحريك ميں جامعہ كے اكابرين ہراول دستے ميں تهے تو آزادى كى روح كو بچانے ميں اس وقت كے طلبہ جامعہ بهى آگے كے مورچے پر جمے رہے ہيں . كچھ لوگ ہميں بهى مصلحت كا سبق پڑهانے آئے تهے ، جس ميں جبہ ودستار والے بهى تهے اور مصلحت كے بين بجانے والے بهى . مگر ہم نے بهى يہ طے كر ليا تها كہ ہم اپنے اسلاف كو رسوا نہيں كريں گے . ہم جامعہ كے مؤسسين و بانيان كے ان خوابوں كى تعبير بنيں گے جو انهوں نے اپنے كردار سے پيش كياتها . اس لئے ہم نے وطن عزيز كے دستور كے لاج كو بچانے كى قسم كهائى . اور ايسا كيوں نہ ہو ہمارا تعلق تو سر پھروں كے ديا رسے ہے
یہ اہل شوق کی بستی یہ سر پھروں کا دیار
یہاں کی صبح نرالی، یہاں کی شام نئی
ہم اس تحريك سے منہ موڑنے والے نہيں ہيں ، كتنے بزدل ہيں وه لوگ جورات كے اندهيرے ميں وار كرتے ہيں . جب ہم سب اپنے گهروں ميں مقيد ہيں تب جامعہ كے طلبہ كے گهروں پہ چهاپہ مار ى كى جا رہى ہے اور يكے بعد ديگرے طلبہ وطالبات كو گرفتار كيا جا رہا ہے . اور ان پر يو اے پى اے لگايا جا رہا ہے ،
كتنے نادان ہيں يہ كارندے جو يہ سمجھتے ہيں كہ اس سے ہمارا عزم كمزور پڑ جائے گا ، يا ہم ہمت ہار كر بيٹھ جائيں گے ، جامعہ نے تو ہميں طوفانوں سے ٹكرانا سكهايا ہے اور آسودگى سے ہميں خدا واسطے كا بير ہے .
شناوری کا تقاضہ ہے نو بہ نو طوفاں
کنار موج میں آسودگی ساحل ہے
صفورا اپى تيرے حوصلوں كو سلام ! لگتا ہے ان كو تيرے اندرون كى قوت كا اندازه نہيں ہے ، انهوں نے صنف نازك كے لفظ سے دهوكہ كهايا ہے ، يہ قيد بند كى صعوبتيں آپ كو مزيد فولادى بنائيں گى اور ان كے ہتھ كنڈے دهرے كے دهرے ره جائيں گے .
مضمون نگار ، سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کی درجہ بارھویں کی طالبہ ہیں

Dr Abdul Rauf
بھت خوب لکھا ھے تم نے اللہ تم کو اور مزید ترقی بہترین مضمون نگار بنو۔ .