کیا سانحہ ہے کہ مسلکی شدت پسندی نے شہادتِ حسین کو بھی بانٹ دیا

حرف نیم کش

 

عظیم اختر

زندگی کا المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ مسلکوں کی شدت پسندی اور سختی نے کلمہ حق بلند کرنے اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے سر خم نہ کرنے کی پاداش میں کربلا کے میدان میں اپنوں ہی کے ہاتھوں سفاکیت، بربریت اور بہیمیت کی تمام حدوں کو پار کرنے والے مظالم سہہ کر انسانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جانے والی قربانی کو بھی خانوں میں بانٹ دیا جس کی باز گشت ایک رسم کے طورپر عزاداری کے دنوں میں صرف ایک مخصوص حلقے میں سنائی دیتی ہے اور پھر سال بھر کے لیے ذہنوں کے احرام میں سینت کر رکھ دیا جاتا ہے۔ انیس بیس کے فرق کے ساتھ یہی حال دوسرے حلقوں کاہے جہاں اصلاحِ معاشرہ، اتحادِ بین المسلمین اور اسی قسم کے اور دوسرے موضوعات پر سارے سال جلسوں اور چھوٹی بڑی کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جن میں علمائے کرام ان موضوعات پر لمبی چوڑی تقریریں کرتے ہیں۔

 المیہ یہ ہے کہ ان تقاریر کا سننے والوں پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور رات گئی بات گئی کے مصداق وہ لمبی چوڑی تقریریں ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔ محرم الحرام کے ابتدائی دنوں میں نمازِ جمعہ سے پہلے عام طورپر ائمہ مساجد اپنے خطبات میں عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کی اہمیت اور فضیلت پر ہی گفتگو کرتے ہیں اور عام مسلمانوں اور سنی نسل کو یومِ عاشورہ کے سیاق سیاق میں شہادتِ حسینؓ کے بارے میںبس برائے نام ہی بتایا جاتا ہے جس سے ذہنوں پر اس عظیم قربانی کا وہ اثر قائم نہیں ہوتا جس کی صحیح معنوں میںوہ متقاضی ہے۔

 ان حلقوں کے واعظ حضرات محرم اور یومِ عاشورہ کی حرمت بیان کرتے ہوئے حضورِ اکرم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے محرم کی دسویں یعنی یومِ عاشورہ کے ساتھ ایک اور روزہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں، اسی لیے مسلمان یومِ عاشورہ کے ساتھ ایک دن پہلے یا دوسرے دن روزہ رکھ کرسنتِ نبوی پر عمل کرتے ہیں۔ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت تھی، جس میں رسولِ خدا نے ایک اور روزہ کا اضافہ کرکے سنتِ موسیٰ کو اسلامی رنگ دیتے ہوئے زندہ رکھا، لیکن پیغامِ رسول کی پاسداری کرتے ہوئے عاشورہ کے ہی دن نواسہ رسول نے جامِ شہادت نوش کرکے اسلام اور شعائر اسلامی کی وہ تاریخ رقم کی ہے جو رہتی دنیا تک بدی کے خلاف سچائی اور حق کا پھریرا بلند کرنے والوں کو تحریک دلاتی رہے گی، حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا آج ایک تابناک استعارہ بن چکا ہے لیکن عجب سانحہ ہے کہ ہماری نئی نسلیں اس استعارہ کی اس تاریخی حقیقت سے واقف ہی نہیں جس کو ہندوستان کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے اس طرح شعر کے سانچے میں ڈھالا 

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے 

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

یہ ایک حقیقت ہے کہ واقعہ کربلا صرف اسلامی تاریخ کا ایک غم انگیز سانحہ نہیں ہے بلکہ دنیا کی بہت ہی اہم اور Richزبانوں اور مختلف علاقوں کے مورخوں نے اسے انسانی تاریخ و تہذیب کا ایک فکر انگیز واقعہ قرار دیا ہے۔ خود ہمارے ملک میں مہاتما گاندھی جیسے فہم و فراست رکھنے والے قد آور سیاسی، سماجی رہنماوں نے بھی واقعہ کربلا سے اپنی سوچ و فکر کو سنوارا ہے اور اسے اپنی انقلابی اور روحانی قوت اور طاقت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ مہاتما گاندھی اور دنیا کے دوسرے انگنت نامور سیاسی ، سماجی اور مذہبی رہنماوں ںکا واقعہ کربلا سے متاثر ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ روئے زمین پر پیش آنے والا یہ اکلوتا واقعہ ہے جو باطل سے گریزاں ہو کر حق پر مر مٹنے کے لیے تجدیدِ عہدِ وفا کی دعوت بھی دیتا ہے اور دعوتِ عشق و معرفت پر لبیک کہنے کا حوصلہ بھی بخشتا ہے۔ ہم نے اسی پیغام کو سننے کے لیے کئی بار مجالس میں شرکت کی، لیکن ذاکر صاحبان کی زبان میں اسٹریو ٹائپ انداز سے واقعہ کربلا کا صرف تذکرہ ہی سننے کو ملا، جو ایک سالانہ رسم کے طورپر جاری و ساری ہے۔ مرکزِ باب المراد لندن کے سربراہ اور شیعہ عالم آیت اللہ علامہ سید عقیل الغروی صاحب نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں بصیرت افروز انداز سے فرمایا کہ:

اس وقت یہ دنیا جس خطرناک کربناک اور وحشت خیز دور سے گزر رہی ہے ، یہ دور ہم سے بہت ہی صبر و استقلال کے ساتھ بہت ہی سوچے سمجھے ہوئے، مستحکم اور مضبوط حکیمانہ طریقوں سے اس پیغام اور اس تہذیب کی حفاظت اور توسیع کا تقاضا کر رہا ہے جس پیغام اور جس تہذیب کو پائیدار بنانے کی خاطر حضرت امام حسین علیہ السلام نے وہ عظیم الشان قربانیاں پیش کی تھیں، جن کی نظیر لانے سے یہ دنیا عاجز ہے۔

آج امام حسینؑ کی عزاداری کے منبروں سے ماضی کے مصائب کو یاد دلانے کے ساتھ ساتھ حال کے مشکلات اور مصائب کو بھی طشت از بام کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ امام حسین ؑ کی عظیم قربانی لازوال تاثیر کی حامل ہے، اس نے جس طرح سے ماضی میں اسلامی اور انسانی اصول و اقدار کی جڑوں کو اپنے لہو سے سینچا، اسی طرح سے یہ آج بھی اور مستقبل میں بھی ان اصول واقدار کو زندگی عطا کرتی رہے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسی ذکرِ پاک کی تیز اور طاقتور روشنی سے آج کے مظلوم انسانوں کی زندگیوں میں در آنے والے ظلم اور ناانصافی کے اندھیروں کو بھی دور کرنے کی اپنی سکت بھر پوری کوشش کریں اور جوششِ حق کو کسی بھی طورپر سرد نہ ہونے دیں۔ ضرورت ہے کہ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ آج انسانیت کا سب سے بڑا دشمن مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام (western capitalism) ہے۔ 

اسی کے ساتھ جہالت اور افلاس کو مٹانے کی اسلامی اور قرآنی دعوت کو بھی زیادہ سے زیادہ موثر انداز میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ چاہے ملوکیت ہو یا سرمایہ دارانہ نظام اسے لوگوںکو جاہل رکھ کر اپنے سیاسی اغراض حاصل کرنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ نظام صحیح معنی میں معیاری تعلیم دینے اور لوگوں کے افلاس کو دور کرنے کے جھوٹے نعرے لگانا ہے، لیکن اس پر صحیح معنی میں عمل کبھی نہیں کرتا۔ اس لیے لوگوں کو بہتر سے بہتر تعلیمی ادارے خود ہی قائم کرنے ہوںگے اور افلاس کو مٹانے کے جتن بھی خود ہی کرنے ہوںگے۔

 ہمارے ممبروں کا روئے سخن صرف شیعوں یا صرف مسلماں کی طرف نہیں بلکہ تمام انسانوں کی طرف ہونا چاہیے اور امام حسین ؑ کے گہرے غم کی پُر اثر سوزش کے ساتھ ہمیں سبھی انسانوں کے ضمیروںکو بیدار کرنے کی ذمہ داری کو نبھانا چاہیے۔ اور.... یوں کہنے کو تو اور بہت سے امور ایسے ہیں جن کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے لیکن میں اس وقت صرف یہ بات کہہ کر اپنا معروضہ تمام کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے پورے وجود کے ساتھ اور پنے تمام تر امکانات کے ساتھ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس روئے زمین پر بسنے والا کوئی ایک فردِ بشر بھی امام حسینؑ کے نام اور آپ کے پیام سے ناواقف نہ رہ جائے۔“

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام کی سربلندی کے لیے شہادتِ حسین اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس نے صالح اور اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لیے سرفروشی کی روایت کو جنم دیا۔ اس تابناک باب کی روشنی تو کرہ ارض میں دور دور تک پھیلنی چاہیے لیکن کیاIronyہے کہ مسلکوں کی شکل میں ابھرنے والی افہام و تفہیم نے اس روشنی کو ایک مخصوص کانے میں محدود کر دیا ہے جس کا المیہ یہ ہے کہ آج جس طرح تبلیغ کے نام پر اللہ اور اس کے رسول کا پیغام دوسروں تک پہنچانے اور ان کو دعوت دینے کی بجائے صرف مسلم بستیوں میں ہی گشت کیے جاتے ہیں، اسی طرح نواسہ رسول کی شہادت کا دم بھرنے والوں نے اس پیغام کو صرف عزاداری کی مجالس تک محدود کر دیا ہے جس کی بازگشت صرف ایک رسم کے طورپر ان مجالس میں سنائی دیتی ہے اور بیان کے سوز و گداز اور دل کی تڑپ سال بھر کے لیے احتیاط سے سینت کر رکھ دیا جاتا ہے۔

رابطہ 

M: 9810439067

0 comments

Leave a Reply