اشتعال انگیز بیان دینے والے ہندوتوا لیڈروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے / اے پی سی آر

 

بنگلور :  حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راہل کمار شاہ پور سے ملاقات کی ہے اور انہیں میمورنڈم  پیش کیا ہے۔

    میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ شرن پمپ ویل نے 2002 کے دوران گجرات اور دیگر مقامات پر ہوئے قتل عام کے تعلق سے طبقاتی اور مذہبی منافرت پھیلانے والی جو تقریر کی ہے اس سے قانون شکنی اور بد امنی پیدا کرنے کی کوشش ہوئی ہے ۔ اس بیان کے ذریعہ مخصوص مذہب کے پیروکاروں کو نشانہ بنانے پر اور قابل گرفت جرائم انجام دینے  پر اکسایا گیا ہے ۔ 

    میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 جنوری کو ٹمکورو میں جو پروگرام ہوا تھا وہ ایک مخصوص طبقہ کے ساتھ پورے سماج کو نشانہ بنانے کے گھناونے مقاصد سے منعقد کیا گیا تھا اور اس میں شریک ہونے والوں کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔ اس لئے یہ  پروگرام ایک غیر قانونی مجمع تھا اور اسے منعقد کرنے والے لیڈروں کے علاوہ اس میں شریک ہونے والوں کے خلاف بھی  قانونی کارروائی ہونی چاہیے ۔ 

    مینگلور کے قریب سورتکل   میں محمد  فاضل کے قتل کے سلسلے میں شرن پمپ ویل کے  بیان کو اُسی کے الفاظ میں  درج کرتے ہوئے  میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ پولیس والے اس سارے پروگرام کے عینی شاہد ہیں لیکن اس بیان کو ریکارڈ نہیں کیا گیا اور اس سلسلے میں شرپسندوں کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا  ہے۔

    اس سلسلے میں اخباری رپورٹس، ویڈیو فوٹیج اور ڈیجیٹل میڈیا کی رپورٹس کا جائزہ لے کر ایسی مجرمانہ سرگرمی انجام دینے والے افراد کی نشاندہی کرنے کی گزارش کرتے ہوئے ضلع ایس پی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شرن پمپ ویل اور پروگرام منعقد کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ لیڈروں کے خلاف کیس دائر کیے جائیں اور سخت قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ سماج میں بدامنی پھیلانے والے شرپسندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے ۔ 

    اس موقع پر اے پی سی آر کے ضلع صدر تاج الدین شریف ۔ سالیڈیاریٹی یوتھ موومنٹ کے سیکریٹری عمر فاروق ، جماعت اسلامی ہند کے امیر مقامی اسداللہ ٹمکور، چیریٹیبل ٹرسٹ کے غوث پاشاہ ، مزمل مصطفیٰ ، ریحان وغیرہ موجود تھے ۔  

 

0 comments

Leave a Reply