معاشرہ جواب دے کہ آخر کب تک ہم بچیوں پر ظلم وستم کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟

میرا سوال لڑکوں سے بھی ہے کہ کیا آپ نے کبھی خودکو لڑکی سمجھ کر اس کی جگہ پر خود کو رکھ کر دیکھا ؟

ثنا شہاب 

میرا نام ثنا شہاب ہے ، میں دہلی کے  جامعہ نگر میں واقع ملی ماڈل اسکول کی کلاس 9ویں  کی طالبہ ہوں ذہن میں ایک بات تھی جو کب سے کہنا چاہ رہی تھی لیکن کہہ نہیں پارہی تھی پھر میں  نے سوچا بہت سی لڑکیوں کا معاملہ ہے اس لیے مزید کوشش کی ایشیا ٹائمز سے رابطہ کیا اور اپنی بات لوگوں تک رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے مجھےاپنی بات رکھنے کا موقع دیا، اس کے لیے ایشیا ٹائمز کا شکریہ ۔

 معاشرہ مزید خراب ہوتا جارہا ہے کوئی لڑکی باہر نہیں نکل سکتی اس ڈر کے مارے کہ لوگوں کی گندی نظر لڑکیوں پر پڑتی ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ برے کام میں بھی بڑھے جا رہے ہیں ، نربھیا کے ساتھ جو کچھ ہوا اس  نے انڈیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اب ہاتھرس کا تازہ معاملہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ میرا سوال لڑکوں سے  بھی ہے کہ کیا آپ نے کبھی خودکو لڑکی سمجھ کر دیکھا ہے ؟

ذرا ایک لمحے کے لیے ہی تصور کرلیں کہ ایسا ہی ہے ۔ آپ رات کے وقت ایک ایسی بس میں سفر کر رہے ہے جس میں چار پانچ بدتمیز قسم کے لڑکے موجود ہیں۔ آپ ڈرائیور سے بس روکنے کو کہتے ہے تو وہ قہقہ لگاتا ہوا رفتار مزید بڑھا دیتا ہے اسی لمحے چاروں آپ کی طرف بڑھتے ہیں۔ شہر ابھی جاگ رہا ہے چوراہوں پر پولیس اہلکار بھی نظر آتے ہے لیکن کسی کو نہیں معلوم بس میں کیا ھو رہا ہے ؟

انسانیت حیوانیت کا ننگا ناچ ناچنے والوں کے پیروں تلے روندی جا چکی ہے۔ اگر کوئی مدد بھی کرنا چاہے تو وہ نہیں کر سکتا اسے ڈر ہے کہ اس کی ریپوٹیشن کہیں خراب نہ ہو جائے  خود کی عزت کی اتنی فکر اور چاہے سامنے والا مر ہی کیوں نہ رہا ہو اور پولیس وہ تو بس نام کی ہی رہ گئی ہے ان  سے ہمیں کوئی امید نہیں ،  معاشرہ جواب دے  کہ آخر کب  تک  ہم بچیوں پر ظلم وستم  کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟

 معاشرہ یہ جان لے کہ لڑکیاں اتنی بھی کمزور نہیں وہ بہت اسٹرونگ ہیں لیکن شاید انہیں اپنی اس طاقت کا احساس نہیں شاید معلوم نہیں اسلئے لوگ ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتےہیں وہ خود کو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ سامنا نہیں کر سکتیں لیکن  حقیقت ہے اگر کچھ کرنے کہ ٹھان لیں تو بہت کچھ کرسکتی ہیں ۔ لیکن حالت یہ ہے کہ  ان کے دل میں ایک عجیب طرح کا ڈر پیدا ہوگیا ہے اگر وہ آواز اٹھائیں گی تو انہیں لوگ معاشرے میں چین سے جینے نہیں دیں گے اور اسی کی وجہ سے اکثر  لڑکیاں  سوسائیڈ کا راستہ اختیار کرتی ہیں ۔

 ہندوستان جیسے ملک میں جہاں عصمت دری  کے معاملوں میں عدالت کی شننوائی ملزم کے بجاے متاثر خاتون کے لیے زیادہ مشکلوں بھری ہوتی ہے۔ یہاں لڑکی کو گناہگار کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ لڑکی ہے ۔ لوگوں کے نظر میں مجرم کو بچایا جاتا ہے میں نے کئی بار ایسا نوٹس کیا ہے ۔ میرا اصل موضوع ہے لڑکیاں اپنی آواز کو اپنی طاقت بنائیں چپ نہ رہیں اپنی بات لوگوں تک پہو نچائیں ، اسوس کہ دن بدن معاشرہ جانور بنتا جارہا ہے عصمت دری کرنے والے حیوانوں کو پھانسی ملنی ہی چاہیے چاہے وہ امیر گھر کا کوئی رئیس شہزادہ ہی کیوں نہ ہو ۔

ہر مرد مرد نہیں ہوتا کچھ شیطان بھی ہوتے ہیں جو اپنے حرکتوں سے باز نہیں آتے اور نا آنا چاہتے ہیں اس تکلیف دہ حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جنسی زیادتی ایک ایسا خوف  ناک جرم ہے نشانہ بننے والے انسان کو ناقابل تصور حد تک جسمانی اور نفسیاتی اذیت اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ اثرات  اس کے ذہن سے برسوں تک ختم نہیں ہوتے۔ میری آپ سبھی سے  گزارش ہے آپ سبھی خواتین اپنی تکلیف اور ظلم کو میڈیا کے ذریعے سماج کےسامنے رکھیں ۔اور میڈیا سے درخواست ہے کہ ہماری آوز بنے ۔ شکریہ

 

 مضمون نگار ملی ماڈل اسکول ابوالفضل انکلیو جامعہ نگر کی 9 ویں کلاس کی  طالبہ ہیں  

0 comments

Leave a Reply