رمضان المبارك سے فائدہ كيسے اٹهائيں؟
تلاوت قرآن مجيد كے ساتھ ، فہم قرآن كے لئے ترجمہ قرآن و تفاسير كا مطالعہ بہت مفيد ہے
عمّاره رضوان
رمضان كا ايك عشره اب گزر چكا ہے ، مگر اب بهى موقع ہے كہ ہم پهر سے كمر كس ليں اور اس ماه مبارك سے بھر پور فائده اٹهائيں . رمضان سے اسى وقت سہى معنوں ميں فائده اٹهايا جاسكتا ہے جب اس سے فائدہ اٹهانے كا عزم محكم ہو ، اور بہت ہى باريك و قابل عمل منصوبہ بندى
بعض لوگ رمضان ميں كيفيت سے زيادہ حجم پر زور ديتے ہيں اور اس ميں مقابلہ آرائى شروع ہو جاتى ہے كہ كون كتنى جلدى كتنى مرتبہ ختم كر چكا ہے ، كتنى ركعتيں نوافل ميں ادا كرڈالى ہيں ليكن رمضان كے اس مبارك مہينے ميں ہميں كتنے زيادہ كيسے پر زور دينا چاہئے اور وه كيفيت پيدا كرنے كى كوشش كرنى چاہئے جو عملا مطلوب ہے . كچھ لوگ صرف اسى ماه مبارك ميں بہت پرجوش ہوتے ہيں اور ان كى تما م نيكياں اسى مہينے تك محدود ہوجاتى ہيں اور عيد كى نما ز كے ساتھ ہى پورا زور ٹھنڈا پڑ جاتا ہے . حالانكہ يہ مہينہ تو دوسرے باقى مانده مہينوں كے لئے مہميز كرنے كے لئے آتا ہے
اگر ہم اس بابركت مہينے سے فيضياب ہونا چاہتے ہيں تو گهر كے ہر فرد كو اس كى وسعت وصلاحيت كے لحاظ سے منصوبہ بندى كرنى ہوگى ، اور اس منصوبہ بندى ميں ان كى عمر ، كلاس ، وقت كى فراونى اور ديگر اسباب كو سامنے ركهنا ہوگا . اور اس خاكے كو كسى كاپى پر تحرير كرنا ہوگا ، تاكہ اس كى روشنى ميں ہم بار بار اپنا جائزہ لے سكيں اور اگر كہيں كچھ كمزورى محسوس كريں تو پهر تازه دم ہوكر اس پر عمل آورى شروع كرديں
قرآن كا اس ماه مبارك سے خاص تعلق ہے ، اس تعلق بنياد پر ہم سے اس مہينے ميں قرآن كا كچھ زيادہ ہى مطالبہ ہے ، تلاوت قرآن مجيد كے ساتھ ، فہم قرآن كے لئے ترجمہ قرآن و تفاسير كا مطالعہ بہت مفيد ہے ، كيا ہى بہتر ہو اگرافطار سے قبل قرآن كا دسترخوان بچھے جس ميں گهر كے تمام لوگ شريك ہوں اور وه قرآن سمجھيں اور سمجھا ئيں
مساجد ميں نماز كا ايك نظام متعين ہوتا ہے ، جس كا ہر نمازى پابند ہوتا ہے ، لاك ڈاؤن كے اس دور ميں ہر گهر مسجد ہے تو ہميں بهى اپنا نظام بنا لينا چاہئے جس نظام كى سختى سے پابندى ہو اور اس كے مطابق نماز كى ادائيگى ہو . فرض نمازوں كے علاوه مسنون نمازوں كا اہتمام ہمارى روح كو جلا بخشے گا
نماز تراويح ميں گهر كے تمام لوگ شريك ہوں ، كوشش كى جائے كہ گهر بچے بهى اس كاحصہ بنيں تاكہ ان كے اندر نماز كا ذوق وشوق پيدا ہو
كوشش ہو كہ ہمارى زبانيں ہر وقت اللہ كے ذكر سے تر رہيں ، ذكر كا اہتمام ہم گھر كا كام كرتے ہوئے بهى كرسكتى ہيں ، اس كے لئے ہميں الگ سے وقت فارغ كرنے كى ضرورت نہيں ہے
روزے كى حالت ميں ، افطار كے وقت ، تراويح و تہجد ميں ، سجدے ميں دعاؤں كى مقبوليت كى خوش خبرى دى گئى ہے ، اگر ہم اس كا اہتمام كريں تو قلبى سكون حاصل ہوگ
والدين كے ساتھ حسن سلوك ، صلہ رحمى كى فضيلت جب عام دنوں ميں اتنى زيادہ ہے تو اس ماه مبارك ميں اس كے انعام واكرام كا كيا كہنا . غنيمت جان كر ہميں اس ميں آگے بڑهنا چاہئے
انفاق و صدقہ تو اس ماه مبار ك كى شناخت ہے ، ايك كے بدلے ستّر كا وعده ہے ، كيوں نہ ہم اس موقع پر اپنے گهروں ميں ايك باكس بنائيں جس ميں صدقہ كا مال ، سامان جمع كريں- آخر يہى صدقہ تو ہمارے كام آئے گا جب كوئى اور چيز كام نہيں آئے گى
مضمون نگار ، سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کی درجہ بارھویں کی طالبہ ہیں

0 comments