فاطمہ شیخ تعلیمِ نسواں کی عَلَم بردار

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہندوستان میں تعلیم نسواں کے میدان میں جیوتی راؤ پُھلے اور ان کی اہلیہ ساوتری بائی کے ساتھ مسلم خاتون فاطمہ شیخ کی خدمات زرّیں حروف سے لکھے جانے کے لائق ہیں ، لیکن ان سے ملک کی اکثریت واقف نہیں ہے 

فاطمہ شیخ کی پیدائش مہاراشٹر کے پونے شہر میں 9 جنوری 1831 کو ہوئی . ان کا تعلق ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا

انیسویں صدی عیسوی میں تعلیمِ نسواں کے حق میں آواز بلند کرنا آسان نہ تھا . لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہ تھا .اس زمانے میں سماجی مصلح جیوتی راؤ پُھلے اور ان کی اہلیہ ساوتری بائی نے تعلیمِ نسواں کی مہم چلائی تو ان کی زبردست مخالفت کی گئی.
ان کے گھر والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا ۔ جائے پناہ تلاش کرتے ہوئے ان کو ایک مسلم گھرانہ ملا جو پونے کے گجن پیٹ علاقہ میں رہتا تھا ۔

عثمان شیخ اور ان کی بہن فاطمہ شیخ انہیں اپنا گھر دینے پر راضی ہو گئے 

یکم جنوری 1848 کو انہی کے گھر میں ساوتری بائی پُھلے نے لڑکیوں کے لیے ایک مقامی لائبریری اور اسکول کی بنیاد رکھی ۔ اسے ملک میں لڑکیوں کا پہلا اسکول سمجھا جاتا ہے ۔ فاطمہ شیخ نے اسی اسکول میں تدریسی خدمت شروع کی _ وہ بچوں کو گھر گھر سے بلاکر لاتی تھی اور اسکول میں داخل کرواتی تھیں 

فاطمہ شیخ نے تعلیمِ نسواں کے ساتھ بیوہ عورتوں کے نکاح اور باز آباد کاری اور حقوقِ نسواں کے میدان میں بھی کام کیا اور سماجی عدم مساوات کے خلاف عَلَم بلند کیا ۔ انھوں نے 1851 میں بمبئی میں دو اسکولوں کے قیام میں بھی حصہ لیا ۔

فاطمہ شیخ کی انہی خدمات کی بنا پر آج ان کے 191 ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے گوگل نے ان کا ڈوڈل بنایا ہے 

0 comments

Leave a Reply