فیس بک: دینیات کا پلیٹ فارم یا اردو شاعری کا اسٹیج

عظیم اختر

 

حرف نیم کش

صبح سے شام اور رات دیر گئے کاروباری مصروفیتوں، دفتری ذمہ داریوں میںپھنسے رہنے، چائے خانوں اور ریستورینٹوں میںیار دوستوں کے ساتھ گپیں لڑکرا کر وقت گزارنے اور ملنے جلنے کی روایت پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی وقت منہ اٹھائے عزیز و اقارب کے گھر جا دھمکنے والوں کے لیے چند ماہ پہلے ملک گیر پیمانے پر لاک ڈاون کا اچانک نفاذ کیپیٹل پنشمنٹ یعنی سخت سزا سے کم نہیں تھا، جس کی وجہ سے دو تین دن ہی میں چہروں کی بشاشت رفو چکر ہو گئی۔ہونٹوں پر ہمہ وقت کھلے رہنے والی مسکراہٹیںاور بات بات پر بے ساختہ بلند ہونے والے قہقہے سرکارِ دولتمدار کی مسلط کردہ سنجیدگی کے نذر ہو گئے۔ ہر صبح بن ٹھن کر گھر سے نکلنے والے گھروں اور فلیٹوں کی چہار دیواری میں سینڈو بنیان اور رنگ برنگے تہبندوں میں نظر آنے لگے، سروں کے بال بڑھ کر زلفوں کی شکل اختیار کرنے لگے، چہروں پر کھچڑی نما بال عمر کی چغلی کھانے لگے،تیس پینتیس سال پہلے سلسلہ ازدواج میں منسلک ہونے اور سکونِ قلب بن کر زندگی میں داخل ہونے اور آج ماں دادی بن جانے والی پری چہرہ بیگمات سے معمولی معمولی باتوں نے تکرار کا روپ دھار نا شروع کر دیااور صبح سے شام کرنا پہاڑ کاٹ کردو دن کی نہر نکالنے سے بھی زیادہ دشوار محسوس ہونے لگا تو لوگوں نے کرونا کی طرح لاک ڈاون کو بھی بلائے ناگہانی کا نام دے دیا۔

کچھ دیر تک پان نہ ملے اور طلب پوری نہ ہو تو منہ سوکھنے لگتا ہے 

اس وقت یقین مانیے لاک ڈاون ہمارے لیےDisquise اور Blessingsثابت ہوا اور وقت اس طرح گزرا کہ ہمیں احساس بھی نہیں ہوا کہ ہم لاک ڈاون کی بندشوں میں جکڑے ہوئے ہیں، جس کا تمام تر سہرا اورہماری نصف بہتر اور ان کے شوقِ پان کو جاتا ہے، جس نے لاک ڈاون کی یکسانیت، اکتاہٹ اور بوریت کو ہمارے گھر میں پیر نہیں پسارنے دیتے۔ چنانچہ جب لاک ڈاون نافذ ہوا اور ایک دو دن کے بعد ہماری نصف بہتر نے پاندان کے لوازمات کے قریب الختم ہونے کی اطلاع دی تو ہمارے کانوں میں معاً خطرے کی گھنٹی بجنے لگی، کیونکہ ہر وقت پان کی گلوری کلّے میں دبا کر پان کا لطف اٹھانے والوں کو اگر کسی وجہ سے کچھ دیر تک پان نہ ملے اور طلب پوری نہ ہو تو منہ سوکھنے لگتا ہے، غصہ دھیرے دھیرے بڑھنے لگتا ہے اور پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو عام طور پر رمضان میں گنڈے دار روزہ داروں کی عین روزہ توڑ کے وقت یعنی عصر اور افطار کے درمیان ہوتی ہے اور ذرا سی بات پر پھاڑ کھانے کو دوڑنے لگتے ہیں۔ چنانچہ اس ناگہانی سے بچنے کے لیے ہم نے پہلی فرصت میں پاندان کے لوازمات کا انتظام کیا تاکہ لاک ڈاون کی اکتاہٹ اور بوریت کی پرچھائیاں ہمارے گھر پر اثر انداز نہ ہوں۔

تاکہ مسلمان اسلام دشمن عناصر کی اس ذہنی خرافات کا جواب دینے میں الجھے رہیں 

اس قدرِ مشترک نے ہمیں ہر طرح کی ذہنی الجھنوں سے محفوظ رکھا۔ ہر صبح ناشتے کے بعد ہماری نصف بہتر اخبار بینی کرتے ہوئے پان تیار کر دیتیں، ہم پان کا بٹوہ لے کر سٹنگ روم جا کر الماری میں سجی اور پڑھی ہوئی کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دیتے۔ کتابوں کی ورق گردانی سے اگر اکتا جاتے تو قلم اٹھا لیتے یا پھر لینڈ لائن فون پر دوستوں سے گپیں لڑاتے۔ لینڈ لائن فون پر روزانہ طویل گفتگو کو دیکھ کر ایک دن ہماری نواسی نے موبائل پر فیس بک، واٹس ایپ، انسٹرا گرام اور کانفرنسنگ کے ذریعے دوستوں سے گفتگو کرنے کا مشورہ دیا تاکہ فون کا بل بھی زیادہ نہ آئے۔ اس وقت تک صحیح معنوں میں ہمیں موبائل ہینڈل کرنا نہیں آتا تھا اور اس کے فنکشنز سے لا علم تھے، مشورہ معقول تھا، چنانچہ ہم نے بچوں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور موبائل کے تمام ایپس کو ہنڈل کرنا سیکھ لیا۔ دو تین دن کے بعد جب موبائل پر ہمارا ہاتھ رواں ہو گیا اور اس کے عقدے کھل گئے تو ہمیں فیس بک ایپ پسند آیا اور ایک ایسا جہاں نظر آیا جہاں ہر خاص و عام اپنے خیالات اور من کی بات کو وائرل کرنے اور دوسروں کو ہم خیال بنانے کے لیے آزاد ہے، چنانچہ جب پرانی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے تھک جاتے یا قلم گھسنے سے اکتا جاتے تو منہ میںپان کی گلوری دبا کر فیس بک کی دنیا میں پہنچ جاتے، جہاں نت نئی پوسٹس اور ان پر ریمارکس نظر آتے۔

دہلی کی کرخنداری زبان میں شاہ بڑے کی اڑاتے ہیں 

 شروع شروع میں تو ہمیں یہ مشغلہ دلچسپ لگا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں فیس بک کا تصور ہی جدا ہے اور گاوں گوٹ کی چوپال سے کچھ مختلف نہیں جہاں دن بھر کے تھکے ہارے دیہاتی حقہ گڑگڑانے اور وقت گزاری کے لیے جمع ہوتے ہیں اور دہلی کی کرخنداری زبان میں شاہ بڑے کی اڑاتے ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ یہاں بھانت بھانت کی بولیوں میں ہمیں تنگ نظری اور عدم رواداری سے وہی مسلم مخالف بولیاں سنائی دیں جو آج ملک کے سیاسی نظام اور اقتدار میں تبدیلی کے طفیل متواتر سنائی دے رہی ہیں۔ جن کا تجزیہ کرنے کے بعد صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام دشمن عناصر وَن پوائنٹ پروگرام کے تحت ایک منصوبہ بند طریقے سے اکثریتی طبقے کے معصوم ذہنوں کو مسموم کرنے کے لیے مسلمانوں کے خلاف آئے دن ایسی من گھڑت پوسٹیں وائرل کرتے ہیں تاکہ مسلمان مشتعل ہوں۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ کلمہ گو حضرات کی اکثریت ان اسلام دشمن پوسٹس کو پڑھ کر شمشیر برہنہ بن جاتی ہے اور لا یعنی جواب اور تبصرے فیس بک کی زینت بننے لگتے ہیں۔ حیرت ہے کہ مسلمانوں کا عام طبقہ تو کجا سمجھدار اور فہم و فراست رکھنے والے حضرات بھی ابھی تک اس حقیقت کو نہیں سمجھ پائے۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس قسم کی ہرزہ سرائی کا اصل مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ان کو ذہنی اضطراب اور انتشار میں مبتلا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا، تاکہ مسلمان اسلام دشمن عناصر کی اس ذہنی خرافات کا جواب دینے میں الجھے رہیں اور ان کی ذہنی و فکری انرجی یونہی ضائع ہوتی رہے۔

ہر کلمہ گو آمین، سبحان اللہ، ماشاءللہ وغیرہ لکھنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے 

ہم اپنے مشاہدے کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرقہ پرست عناصر فیس بک پر ہرزہ سرائی کر کے مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنے مقصد میں خاصے کامیاب رہتے ہیں اور کلمہ گو حضرات مشتعل ہو کر اور طیش میں آکر آپا کھو دیتے ہیں اور جواب میں اکثر وہ عامیانہ اور اخلاق سوز زبان استعمال کرتے ہیں جو کسی بھی طورپر مہذب اور با اخلاق لوگوں کو زیب نہیں دیتی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے طیش میں دیے گئے جوابات کو یہی عناصر ہندو مخالف بنا کر اکثریتی طبقے میں بڑی چابک دستی سے پھیلاتے ہیں تاکہ مسلم دشمنی کا بازار ٹھنڈا نہ پڑنے پائے ۔ المیہ یہ ہے کہ مسلمان فیس بک پر اس کھیل کو سمجھنے کی بجائے اپنے سیدھے پن میں سازش کا شکار ہو رہے ہیں یا پھر صرف خالص دینی اور مذہبی پوسٹس ڈال کر فیس بک کو دینیات کا پلیٹ فارم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسی خالص دینی اور مذہبی پوسٹس کے وائرل ہوتے ہی دعائیہ کلمات کی شکل میں تبصرہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ہر کلمہ گو آمین، سبحان اللہ، ماشاءللہ وغیرہ لکھنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے۔ خالص دینی اور مذہبی پوسٹس وائرل کرنے کے جذبے کو ہم بخوبی سمجھتے ہیں لیکن ہماری دانست میں اس جذبے سے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی تعمیری خدمت ممکن نہیں۔ آج کے مسلمانوں کےماضی کی خوشگوار یادوں کے سہارے زندہ رہنے کی بجاے حال میں زندہ رہنے اور شعائرِ اسلامی پر سختی سے عمل کرکے اپنی اس حالت کو بدلنا زیادہ ضروری ہے جس کی وجہ سے وہ آج ہندوستان میں من حیث القوم پستی اور تنزلی کی کگار پر کھڑا اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہ اسی بکھرتی اور تعمیری سوچ و فکر کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ وہ عناصر جن کے یہاں باہمی اخوت، اتحاد اور ہم آہنگی کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے، آئے دن ان کے منہ کو آتے رہتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا یقینا مسلمانوں کی پہنچ سے دور ہیں لیکن فیس بک کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے ، لیکن کلمہ گو حضرات سے خالص دینی اور مذہبی پوسٹس وائرل کرنے کا مشغلہ اپنا کر فیس بک کے دائرہاستعمال کو بہت محدود کر کے رکھ دیا ہے۔

شعری وصف سے محروم سامعین سے مکالماتی انداز میں بھیک کی داد مانگتے 

یہی حال اردو والوں اور بالخصوص شاعروں کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شاعر ہی کیا جو شعر کہہ کر پہلی فرصت میں کسی سامع کو نہ ڈھونڈلے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے مشاعروں کا بازار سرد ہے اور سوشل ڈسٹینسنگ کی وجہ سے عام شعر فہم تو کجا دوست احباب بھی ملنے سے کتراتے ہیں، اس لیے مشاعروں نے فیس بک میں سیندھ لگاکر گھر بیٹھے بٹھائے سامعین ڈھونڈ ہی لیے اور ایک ایسا محفوظ آوٹ لیٹ تلاش کر لیا جہاں سامعین کی داد بیداد کا شکار ہونے اور عزت سادات کے گنوانے کا دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔ مشاعروں کے لیے لازم و ملزوم کہے جانے والے سکہ بند قسم کے شاعر اپنا کلام صرف مشاعروں میں سناتے ہیں اور شعری وصف سے محروم سامعین سے مکالماتی انداز میں بھیک کی داد مانگتے ہیں۔ ہم نے ایسے مشاعرہ باز شاعروں کی غزلیں کبھی کسی ادبی یا نیم ادبی جریدے میں چھپی ہوئی نہیں دیکھیں، سچ تو یہ ہے کہ ایسے مشاعرہ باز شاعروں کا کلام آواز کے اتار چڑھاوکے ساتھ صرف مشاعروں میں سننا ہی اچھا لگتا ہے۔اس لیے ہمارا خیال تھا کہ اردو دنیا میں اس نو دریافت طریقے سے ہمیں اپنی ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے بہت سے اچھے شاعروں کا کلام پڑھنے اور لطف اٹھانے کا موقع مل جائے گا، لیکن چند ہی دنوں کے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں بھی اردو والوں کی روایتی گروہ بندی کا دور دور ہ ہے اور چند شاعر اپنی ذاتی پبلسٹی کے لیے فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں۔

نام بہ نام شکریہ ادا کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے 

غزل یا دو چار متفرق اشعار کے وائرل ہوتے ہی صاحبِ غزل کے قریبی دوست احباب داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ مشاعروں کے بر عکس فیس بک پر ہر شاعر اشعار پسند کرنے والوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے، چنانچہ نہایت ہی بوجھل اور پر تکلف انداز میں نام بہ نام شکریہ ادا کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کچھ شاعروں نے اس پر اکتفا نہیں بلکہ اپنے کلام بلاغت نظام کے ساتھ مشاعروں میں مدعو کیے جانے والے دعوت ناموں اور مدعو شعراءکے با تصویر پوسٹروں کو بھی فیس بک پر ڈالنے کی بدعت شروع کر دی۔ لکھنوکے ایک غیر معروف شاعر کے مجموعہ کلام کو کسی اکاڈمی نے انعام سے نوازا تو موصوف نے شوقِ خود نمائی میں اخبار میں چھپی ہوئی خبر کے ساتھ انعامی رقم کے چیک کا فوٹو بھی فیس بک پر ڈال دیا۔ کچھ شعراءحضرات قد آور شاعروں کے ساتھ کھنچوائے ہوئے فوٹو کو وائرل کر کے بھی تاثر قائم کرنے کی کوش کرتے ہیں کہ ماضی قریب کے قد آور اور نامور بزرگ شعراءبھی ان کے مداحوں میں سے تھے۔ ایک شاعر گزشتہ دنوں اپنے گاوں گئے تو کسی باغ میں مینگو پارٹی کی اورتصویر وائرل کر دی جس میں وہ صرف روز مرہ کا بے تکلف لباس یعنی پنیان اور تہبند زیب تن کیے آم کھا رہے تھے اور اپنے ساتھیوں کو شعر سنا رہے تھے۔ سوشل ڈسٹینسنگ کی وجہ سے نائیوں کی دوکانیں بند تھیں، اردو کے ایک خدمت گار نے فیس بک پر اپنا فوٹو وائرل کیا اور ناظرین کو مطلع کیا کہ ہیئر کٹنگ سیلون بند ہونے کی وجہ سے آج انھوںنے اپنی مونچھیں خود ہی تراشی ہیں۔

مہذب دنیا میں اس طرح کی حرکتوں کو چھچھورپن کہا جاتا ہے 

 اس عوامی اطلاع کے ساتھ موصوف نے اپنے تین چار شعر بھی فیس بک پر داغ دیے۔ فیس بکیوں نے حسبِ عادت ’کیا خوب‘ کہتے ہوئے داد دی۔ پتہ نہیں یہ داد ان کے اشعار پر تھی یا اپنے حجامت بنانے پر تھی۔ مہذب دنیا میں اس طرح کی حرکتوں کو چھچھورپن کہا جاتا ہے جو فیس بک کے ذریعے اردو دنیا میں راہ پا رہاہے۔ فیس بک پر اردو شعرو ادب کے حوالے سے اگر ہمارے مشاعروں کی خود نمائی کا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہرچھٹ بھیا شاعر فیس بک پر اپنا قصیدہ خود پڑھتا ہوا نظر آئے گا اور جس طرح مشاعروں میں سلگتے ہوئے لہجے میں سامعین سے داد کی بھیک مانگنے کی ریت خوب پھل پھول رہی ہے اور اسی طرح اپنا ڈھول خود پیٹنے کی یہ بدعت بھی اردو دنیا میں ایک روایت بن جائے گی۔ فیس بک پر خالص دینی، مذہبی پوسٹس اور روزانہ وائرل ہونے والی شاعری کے جلو میں کبھی کبھی مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی زبوں حالی پر کسی درد مند صحافی کی کوئی تحریر نظر سے گزری تو یقین مانیے خوشی ہوئی لیکن یہی سوچتے ہیں کہ ہم مسلمان آخر کب تک اور کس سے اپنی زبوں حالی کا شکوہ کرتے رہیںگے اور کیا اس قسم کی تحریروں پر قارئین کی اظہار پسندیدگی اس زبوں حالی کا مداوا کر سکتی ہے....؟؟


رابطہ

M: 9810439067

 

0 comments

Leave a Reply