خاص ملاقات : آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین سنت کبیر نگر کے چیف جنرل سیکریٹری وسیم خان نے ایشیا ٹائمز کو دیا انٹر ویو کہا؛ 'اویسی صاحب کا دائرہ بہت وسیع ہے وہ 'سنسد' سے 'سڑک' تک عوام کی امیدوں پر کھرا اتر کر دکھا چکے ہیں"

 

محترم قارئین ، آج ہم آپ کی ملاقات مشرقی اتر پرپردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے ایک نوجوان سیاست داں وسیم خان سے کراتے ہیں ، وسیم خان ، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کی ضلعی یونٹ  کے چیف جنرل سیکریٹری ہیں وسیم خان نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے آس پاس ایک خاص قسم کی سیاسی ہلچل محسوس کی ان کے بڑے بھائی محمد ہارون ساحل  کانشی رام جی کی بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی مہم سے منسلک تھے کافی سرگرم کارکن تھے ، یہ وہ دور تھا جب بہوجن سماج پارٹی دلتوں کو بیدار کرنے کے لیے قریہ قریہ 'بہوجن ڈرامہ' کیا کرتی تھی ، ان کے گھر پرمستقل سیاستدانوں کا آناجانا رہتا تھا ،  بہوجن سماج پارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ کو قریب سے دیکھنے کا انہیں بھر پور موقع ملا۔ آگے چل کر وسیم خان ڈاکٹر مسعود کی نیشنل لوک تانترک پارٹی کی یوتھ ونگ سے وابستہ ہوگئے اور کافی سرگرمی سے کام کیا ۔ لیکن 14 سال تک کام کرنے کے بعد اچانک یہ پارٹی بھی انتشار کا شکار ہوگئی، لیکن وسیم نہیں رکے کمزوروں کی آوز بلند کرنے کی ان کی فکرمندی نے انہیں صحافت کے قریب کردیا اورامراجالا ہندی میں لکھنے لگے ، پھر یہی فکر مندی شاعری کا سبب بنی، ان کے مضامین اردو میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ وسیم خان سے ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹراشرف بستوی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ جس پارٹی کی سیاست کر رہے ہیں انہیں کن کن سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےعوام کا اعتماد حاصل کرپانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں ، وہ ایم آئی ایم سے اپنے وابستگی سے کس حد تک مطمئن ہیں ۔ 

 

ایشیا ٹائمز: آپ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے لیے مشرقی اترپردیش میں کافی سرگرم ہیں ، ملک کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اپنی پارٹی کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں ؟ 

وسیم خان : آج اتر پردیش ہی نہیں پورے ہندوستان میں دلتوں اور مسلمانوں میں ایک بے یقینی اور بے چینی پائی جاتی ہے خاص طور سے مسلمان خوف کے عالم میں جی رہا ہے ،جس بی جے پی کوہرانے کے لئے مسلمانوں نے غیر بھاجپائی سیاسی جماعتوں کو آنکھ بند کر کے ووٹ دیا وہ تمام کی تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں بی جے پی سے مل گئیں ،اس دوران مسلمانوں کے کئی مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی کوششیں کی گئیں جس پر مسلمانوں سے ووٹ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی لیکن اسداویسی نے ہر معاملے پر بے باکی کے ساتھ اپنا موقف رکھا ،یہی وجہ ہے آج اویسی کو مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں پسند کرتے ہیں،حیدرآبا د کی ترقی اور خوشحالی اتر پردیش کے سامنے ہے لوگ اتر پردیش میں حیدرآباد جیسی ترقی چاہ رہے ہیں اسی لئے اترپردیش کی عوام نے اے آئی ایم آئی ایم کو لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ایشیا ٹائمز: مسلمان آپ کی پارٹی کو ووٹ کیوں دیں جبکہ کئی سیکولر سیاسی پارٹیاں پہلے سے ہی موجود ہیں جو مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں ؟ 

وسیم خان : ۔اس لئے کہ گزشتہ 72 سالوں سے مسلمان بی جے پی کو ہرانے کیلئے تمام غیر بھاجپا ئی جماعتوں کو ووٹ دیتا آرہا ہے لیک بی جے پی ہارنے کے بجائے لگاتار کامیاب ہو تی چلی آرہی ہے اسکا صاف مطلب ہے کہ بی جے پی کو ہرانے کا جو ہمارا ی طریقہ ہے وہ بالکل غلط ہے ہمیں اب اور کوئی طریقہ اپنانا پڑیگا اسکے علاوہ ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ مسلمانوں غیر بھاجپائیوں بھر پور ووٹ دیا اور یہ پارٹیا کچھ صوبائی سطح پر کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئیں لیکن جب مسلمانوں پر وقت پڑا توان پارٹیوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اسکے برعکس اسد اویسی نے ہر موڑ پر قوم کے لئے آواز اٹھائی ،اس لئے آج کی تاریخ میں ایم آئی ایم کاحکومت میں آناضروری ہے ۔

قریہ قریہ  سیاسی بیداری مہم کے تحت نکڑ سبھا کرتے ہوئے 

ایشیا ٹائمز: آپ پر سب سے بڑا لزام ہے کہ ووٹ کٹوا پارٹی ہیں آپ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے ؟  

وسیم خان: مخالف جماعتیں ایم آئی ایم کو ووٹ کٹوا کہہ کے عوام کو گمراہ کررہی ہیں ایم آئی ایم کا گراف حیدارآباد،مہاراشٹر ،بہار اور جھارکھنڈسے لے کر اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے ہمارے کچھ امیدوار کامیاب بھی ہوئے ہیں اور بہت سی ایسی نشستیں ہیں جہاں ہم دوسرے اور تیسرے نمبرپر ہیں اگر سپا بسپا ان نشستوں سے نہ لڑتیں تو ہمیں کامیابی سے کوئی روک نہیں سکتا تھادراصل زیادہ تر یہ افواہیں مخالفین جماعتوں کے مسلم لیڈران پھیلا رہے ہیں انھیں خوف ہےکہ اگر ایم آئی ایم آگئی تو ان کی روزی روٹی بند ہو جائے گی ۔اگر ایم آئی ایم کو ووٹ کٹوا کہنا صحیح ہے تو بہار گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ میں سپا بسپا کو الیکشن نہیں لڑنا چاہیے ۔


ایشیا ٹائمز: آپ کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ مسلم سیاسی پارٹی ہی ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہتر سیاسی متبادل ہے؟ 

وسیم خان : آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین پر مسلم پارٹی ہونے کا الزام لگانا غلط ہے جہاں تک اسکے نام کا تعلق ہے تو بنیادی طور پر اس پارٹی کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جس قوم کے اندر کوئی قیادت نہیں ہوتی اس قوم کا کوئی قائد نہیں ہوتا اور جس قوم کا کوئی قائد نہیںہوتا اسکے حق حقوق کے حفاظت بھی نہیں ہوتی،آزادی کے بعد سب سے زیادہ حق تلفی مسلمانوں کی ہی ہوئی ہے ، ایم آئی ایم کا مقصد مسلمانوں کی صفوں میں لیڈر پیدا کرنا ہے کیونکہ بہتر سالہ سیاسی تجربہ اس بات کا گواہ ہے کہ جن قوموں میں لیڈر شپ ہے ان قوموں کوبہت حد تک انکے حقوق مل گئے یوپی میں ہریجن،یادو،کرمی ،جاٹ وغیرہ کا نام مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جب تک ہریجنوں میں کانشی رام اور یادووں میں ملائم سنگھ، بھروںمیں اوم پرکاش راج بھراور پٹیلوں میں سونے لال پٹیل نہیں تھے تب تک ان کے سماج کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی ۔

ایشیا ٹائمز:  اتر پردیش کی سیاست میں متعدد مسلم سیاسی پارٹی کے تجربے ناکام ہوتے دیکھے گئے ہیں ،اس کے لیے کسے ذمہ دار مانتے ہیں ؟

 سیاسی بیداری مہم  میں ضلع صدر ڈاکٹر شفیق احمد و دیگر کے ساتھ   

وسیم خان : بے شک اتر پردیش میں اسکے متعلق کئی تجربے ہوئے لیکن یہ بات غلط ہے کہ تجربے فیل ہوگئے ،ڈاکٹر فریدی صاحب مرحوم فیل نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کی زندگی نے انکا ساتھ نہیں دیا ورنہ وہ پوری طرح کامیاب تھے ،ڈاکٹر مسعود کی پارٹی بھی لگاتار آگے بڑھ رہی تھی لیکن انکی آپسی چپقلش نے کام خراب کردیا ایک تجربہ ڈاکٹر ایوب نے بھی کیا لیکن انکا دائرہ بہت محدود تھا ۔ لیکن الحمدللہ اسد اویسی صاحب کا دائرہ بہت وسیع ہےاور وہ ہر لحاظ سے عوام کی امیدوں پر کھرا اتر کر دکھا چکے ہیں ۔

سیاسی  بیداری مہم اب رنگ لا رہی ہے 

0 comments

Leave a Reply