ڈاکٹرسید مہدی موسوی صدر شعبہ تقریب بین المذاہب دفتر رہبری ایران کلچر ہاوس نے دہلی کے سرگرم ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں سے ملاقات کی ،کہا ؛ اتحاد بین المسلمین کی کاوشوں کو تیز کرنا ہمارا مقصد

نئی دہلی (ایشیا ٹائمز / زبیر خان سعیدی کی رپورٹ ) ڈاکٹرسید مہدی موسوی صدر شعبہ تقریب بین المذاہب دفتر رہبرایران کلچر ہاوس نے دہلی میں ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری  ملاقات کا واحد مقصد اتحاد بین المسلمین کی کاوشوں کو تیز کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہر سال ربیع الاول کے مقدس ماہ میں 12 تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت مناتا ہے جس کا مقصد نام سے ہی ظاہر ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے بیچ آپسی اختلافات کو بھلا کر ہم آہنگی کی ایک فضا قائم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس کام کے لیے اپنے بہت سے اہل تشیع صحافیوں کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے چند مثبت فکر رکھنے والے سرکردہ صحافیوں کو اس لئے منتخب کر رہے ہیں تاکہ ہمارا اتحاد بین المسلمین کا نعرہ حقانیت کا علمبردار بن سکے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا آپ سے بس یہ مطالبہ ہے کہ آپ اپنی نشریات میں اتحاد بین المسلمین اور ہفتہ وحدت کی تشہیر پر خصوصی زور دیں، 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول کے بیچ اس موضوع پر ٹاک شو کرائیں، بین الاقوامی ویبنار منعقد کرائیں جس میں ہر مسلک اور ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ وحدت اور اتحاد بین المسلمین وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹرسید مہدی موسوی نے ایران کلچر ہاوس دہلی میں اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اتحاد بین المسلمین کے لئے کوششیں تیز کردی تھیں، اپنے مختصر سے عرصے میں انہوں نے مختلف ملی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، مختلف مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم وغیرہ کا سفر کیا، مختلف تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور کورونا سے متاثرہ عہد میں بھی اتحاد بین المسلمین کے اپنے پاکیزہ منصب سے روگردانی نہیں کی۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے  ان کی ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں سے یہ پہلی ملاقات تھی ، اس ملاقات میں ایشیا ٹائمز کے مدیر اشرف علی بستوی، آیت فاؤنڈیشن کے چیرمین اور صحافی زبیر خان سعیدی، ملت ٹائم کے مدیر شمس تبریز قاسمی اور صحافی شاہنواز عالم شریک ہوئے ، گفتگو فارسی زبان میں ہوئی اور اشرف زیدی نے مترجم کے فرائض انجام دئے۔ 

معلوم ہو کہ ہفتہ وحدت، 12 ربیع‌ الاول سے 17 ربیع‌ الاول کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں تاریخیں مسلمانوں کے یہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے مشہور ہیں؛ اہل سنت کا بڑا طبقہ 12 ربیع الاول کو جبکہ اہل تشیع مجموعی طور سے 17 ربیع الاول کو حضور ﷺ کی ولادت واقع ہونے کے قائل ہیں۔

ہفتہ وحدت کی تاریخ امام خمینی رح نے 27 نومبر 1981ء کو ان دو تاریخوں کے درمیانی فاصلے کو ہفتہ وحدت کا نام دیا تھا، تاکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ولادت با سعادت کے طفیل اہل تشیّع اور اہل سنت آپس کے اختلافات بھلا کر وحدت اور اتحاد کا مظاہرہ کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار آیت اللہ خامنہ ای نے 1356 ہجری شمسی کو ایران کے صوبہ بلوچستان میں میں ہفتہ وحدت اور اسی سلسلے میں جشن منعقد کرنے کا کہا تھا۔

اسلامی دنیا میں اتحاد اور ہم آہنگی کے لئے زمین ہمورا کرنے نیز علما اور دانشوروں کے مابین ہم فکری لانے کی غرض سے 1369 ہجری شمسی کے بعد سے ہر سال بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

   

 

 

0 comments

Leave a Reply