مسلم مجلس مشاورت میں شاہد صدیقی کی کتاب ’آئی وٹنس‘ پر مذاکرہ

مولانا سید سلیمان ندوی پر ایک روزہ سمینار 8 فروری کو

نئی دہلی :  آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں سینئر صحافی و سیاستداں شاہد صدیقی کی کتاب ’آئی وٹنس: انڈیا فرام نہرو ٹو نریندر مودی‘ پر ایک فکری و سنجیدہ مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ملک اور خطے میں اقلیتوں کو درپیش چیلنجز، بڑھتی فرقہ پرستی اور حالات کی سنگینی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
 اس موقع پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی۔مشہور اسلامی اسکالر پروفیسر اخترالواسع نے  کہا کہ شاہد صدیقی نے ’آئی وٹنس‘ تحریر کرکے وہ فرض ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالات یقیناً سنگین ہیں، مگر مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو امت کربلا، سقوطِ بغداد، 1857 اور 1992 جیسے کٹھن ادوار کے بعد بھی باقی رہی، وہ آئندہ بھی زندہ اور متحرک رہے گی۔
کتاب کے مصنف شاہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پورے جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اقلیتیں خطرات میں گھری ہوئی ہیں اور نفرت و عداوت کا سامنا کر رہی ہیں۔ تاہم، مایوس ہونے کے بجائے اسی عزم، حکمت اور بصیرت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا جس سے تحریکِ آزادی کے دوران اور بعد میں ہمارے بزرگوں نے کام لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں اقلیتوں کے حق میں بھی آواز اٹھائی جائے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اقلیتوں کی لڑائی سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ سماجی تنظیمیں لڑتی ہیں۔ کتاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کی سیاست اور سماج پر اثرانداز ہونے والے کئی اہم واقعات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا، جن کی گواہی انہوں نے اس کتاب میں دی ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ایڈووکیٹ فیروز احمد نے صدارتی خطاب میں یقین دہانی کرائی کہ شاہد صدیقی کی تجویز قابلِ عمل ہے اور مشاورت اس پر پوری سنجیدگی سے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم ہی اس ملک کا مستقبل ہے۔ مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے حالات کی سنگینی کو تاریخی تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے ’آئی وٹنس‘ کو ایک گرانقدر دستاویز قرار دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے سماجی و سیاسی شمولیت کے استاد ڈاکٹر شیخ مجیب الرحمٰن نے کتاب کے مندرجات پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو اس کے مطالعے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہندوستان کی سیاست اور سماج کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ انہوں نے اپنے مطالعے کے کچھ نکات بھی شیئر کیے اور کہا کہ بنگلہ دیش کی تخلیق کا سہرا عموماً اندرا گاندھی کے سر باندھا جاتا ہے، مگر اس کے اصل معمار ششانک بنرجی تھے، جنہیں یہ ذمہ داری بہت پہلے پنڈت نہرو نے سونپی تھی۔
مذاکرے کے تعارفی کلمات اور نظامت احمد جاوید (جنرل سکریٹری، مشاورت) نے کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کئی خودنوشتیں منظرِ عام پر آئی ہیں، مگر اپنے مواد، اسلوب اور واقعات کی تعبیر کے اعتبار سے ’آئی وٹنس‘ ان سب پر سبقت لے گئی ہے اور یہ سال کی بیسٹ سیلر اور سب سے زیادہ زیرِ بحث کتاب بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد صدیقی آزادی کے بعد پیدا ہونے والی اس نسل کے نمائندہ ہیں جس نے ملک کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے نئی نسل کی جانب سے یقین دلایا کہ وہ نہ مایوس ہے اور نہ شکست ماننے والی؛ آج بھی کئی نوجوان پامردی سے آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔اس موقع پر مشاورت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ آٹھ فروری کو تاریخ کی اہم شخصیت عظیم مفکر، مدبر مولانا سید سلیمان ندوی پر ایک روزہ سمینار کر رہا ہے، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے اہم علمی شخصیات شرکت کریں گی.پروگرام میں کثیر تعداد میں علمی و ملی فکر کے حامل افراد شریک رہے

0 comments

Leave a Reply