قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی موجودہ صورتحال اور ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کا نئےسال کا پیغام

حیرانی اس بات کی ہے کہ سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد کرنے اور کرانے والے حلقے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

نئی دہلی : ( ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک /اشرف علی بستوی ) آج 31 دسمبر ہے یعنی اس سال کا آخری دن اب سے کچھ دیر میں ہم سب نئے سال کا استقبال کر رہے ہوں گے۔  آج  شام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پُرعزم پیغام شائع کیا: انہوں نے لکھا ہے  "نئے سال کا آغاز نئے خواب کے ساتھ۔" یہ جملہ نہ صرف ان کے عزم اور ارادے کو ظاہر کرتا ہے بلکہ این سی پی یو ایل کے حالیہ چیلنجز اور ان کی قیادت میں ہونے والی پیش رفت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

ان کی اس پوسٹ کو دیکھ کر خیال گزرا کہ کیوں نا اس ادارے کی حالیہ کارکردگی کو جاننے اورسمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ جاننے کے لیے ہم نے قومی کونسل کے فیس بک پیج کی ورق گردانی کرنے کی کوشش کی اور یہ دیکھنا چاہا کہ 19 مارچ 2024 کو جب سے ڈاکٹر شمس اقبال نے ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا ہے ،انہوں نے حاصل اختیارات اور وسائل میں کیا کام کیا ہے ؟

ڈاکٹر شمس اقبال کو این سی پی یو ایل کا چارج سنبھالے تقریباً نو ماہ ہو چکے ہیں۔  آپ سب نے نوٹ کیا ہوگا کہ اس دوران وہ ادارے کی سرگرمیوں کو متحرک رکھنے کے لیے کوششیں کرتے دیکھے گئے ہیں ، یہ کام  انہوں نے حاصل اختیارات اور وسائل میں بنا ایگزیکیٹیو کمیٹی کے انجام دیا ہے۔  اگرحکومت ایگزیکیٹیو کمیٹی تشکیل دے دیتی تو کونسل کی تین برس سے معطل سرگرمیاں بحال ہو سکتی تھیں  اور گرانٹ ان ایڈ کی اسکیمیں زمین پر نافذ کی جا سکتی تھیں۔ معلوم ہوکہ گزشتہ تین سال سے کونسل بغیر وائس چیئرمین اور ایگزیکیٹیو کمیٹی کے چل رہی ہے۔


مندرجہ ذیل کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں جن پر ہماری نظر پڑی


قومی اردو کونسل میں نئے مسودات کی اشاعت اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ بلائی  ۔


جامعات کے شعبہ ہائے اردو کے صدور کے ساتھ میٹنگ کی جس میں اردو کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے بہتر امکانات  پر گفتگو کی ۔


قومی اردو کونسل نے اردو کتب کے محبین کو این سی پی یو ایل کے پتہ پر رابطے اور یو پی آئی کیو آر کوڈ کے ذریعے خریداری کی سہولت فراہم کرنے کی اپیل ۔


قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام بہار میں دانشوروں اور افسران کے ساتھ اردو زبان کی ترقی اور اس کے امکانات پر میٹنگ ۔


قومی کونسل کے زیر اہتمام "اردو ذریعۂ تعلیم اور موجودہ تکنیکی منظرنامہ: این ای پی 2020 کے تناظر میں" پر سیمینار کا انعقاد ۔


قومی اردو کونسل کی فرینکفرٹ کتاب میلے میں شرکت ۔ 


قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں "ہندوستان کے لسانی تنوع میں مادری زبان کی اہمیت" کے عنوان سے مذاکرہ منعقد ۔ 


قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام شہر لکھنو میں مذاکرہ اور مشاعرہ ۔


لکھیم پور کھیری کے کٹوارہ علاقے میں قومی کونسل نے دو روزہ کیلی گرافی ورکشاپ اور کتابوں کی نمائش ۔ 


قومی کونسل کے زیر اہتمام "معاصر اردو ادب کا تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی منظر نامہ" پر ایک سہ روزہ قومی سیمینار ۔


اس کے علاوہ جامعہ اور جے این یو میں سیمینار سمیت دیگر سرگرمیوں کی ایک طویل فہرست ہمیں ملی ہے جسے دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈائریکٹر نے حاصل اختیارات اور وسائل میں کام کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن ان کی یہ کوشش اور فعال ہوسکتی تھی اگر ایگزیکٹیو کمیٹی کی شکل میں ایک طاقت بھی مل جاتی ۔

اردو کے فروغ کی راہ میں بڑھتے چیلنجزاور ان کا حل 

گزشتہ تین برس سے ایگزیکیٹیو کمیٹی اور وائس چیئرمین کی غیر موجودگی این سی پی یو ایل کی کارکردگی کو محدود ہو گئی ہے۔ گرانٹ ان ایڈ اسکیموں کی معطلی کی وجہ سے اردو زبان کے فروغ  کی راہیں دن بدن محدود اور مسدود ہو تی جا رہی ہیں ، جو محبین اردو کے لیے باعث فکر ہونا چاہیے ۔ اردو کے خیر خواہوں کو چاہیے کہ وہ  تیز و تند اخباری بیانات کے بجائے وزیر تعلیم سے ملاقات کی راہ نکالیں اور ان کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائیں  ۔ بدلے ہوئے سیاسی حالات میں پریس میں بیانات دینے سے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں بلکہ سسٹم سے ورکنگ ریلیشن قائم کرنے کے طریقے وضع کیجیے۔ ملک میں درجنوں تنظیمیں اور سیکڑوں افراد ہیں جو اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں ، جامعات میں اردو ڈپارٹمینٹس قائم ہیں ،سبھی حلقے اگر اپنے اپنے طور پر مثبت طرز عمل سے کوشش کریں تو قومی کونسل کی معطل سرگرمیوں کو بحال کرایا جا سکتا ہے ۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد کرنے اور کرانے والے حلقے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں  ۔

 

0 comments

Leave a Reply