حالت اضطرار میں شرعی احکامات میں تبدیلی : میڈیا میں صدقات وزکوٰۃ کی رقم لگانے سے متعلق اس بحث میں حصہ لیں

میڈیا میں صدقات وزکوٰۃ کی رقم لگانے سے متعلق ضمیمہ

 

قمرفلاحی

یہ درست ہے کہ جب بھی کوئی بات پیش کی جائے اس کی پشت پہ دلیل ہونی چاہیے یا تو وہ صریح ہو یا پھر اجتہادی۔
لیکن حالت اضطرار ایسی صورتحال کو کہتے ہیں جس میں کوئ حرام شئ ایک معینہ مدت کیلئے حلال ہوجاتی ہے اور اس کی دلیل بذات خود حالت اضطرار ہی ہوا کرتی ہے۔

جماعت کی فرضیت اور اس کی اہمیت سے کسے انکار ہوسکتاہے مگر کھانا جب سامنے آجائے تو اس وقت ترک جماعت ہی افضل ہے۔پہلے کھانا کھا لینا چاہیے پھر نماز ادا کرنی چاہیے۔

ہندوستان کی فقہی حیثیت سے متعلق اختلاف رائے پایا جاتا ہے کہ یہ دارالامن ہے ،دارالکفر ہے یا کچھ اور،اور ظاہر ہے اسی اعتبار سے یہاں کے شرعی احکامات بھی طے ہوں گے ۔جن کے نزدیک جو ہوگا اسی کے مطابق فتوے دیگا۔

چنانچہ کچھ لوگ ما بین الکافرین سود لینے کو بھی جائز کہتے ہیں۔اور عملا شاید کوئ مسلمان نہیں جس کا سودی کاروبار سے رشتہ نہ ہو۔

انشورنس کی حرمت جگ ظاہر ہے مگر اس کے بغیر چارہ کار بھی نہیں اور بعض حضرات تو ہندوستانی تناظر میں اسے مستحب مانتے ہیں۔

طاغوت سے فیصلے کرانا قرآن مجید کی آیات کا صاف انکار ہے مگر کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے؟

جمعہ کی امامت اور قیام کیلئے خلیفہ کی اجازت شرط ہے مگر آج ہر کوئ اپنی مرضی سے جمعہ قائم کررہا ہے۔

لاک ڈائون میں چار لوگوں پہ بھی جمعہ ہوجارہی ہے جبکہ اس کیلئے مصر جامع کی شرط ہوا کرتی تھی ۔

صفوں کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ جائز ہوگیا جبکہ صفوں کو ملانا اتمام صلاة کا حصہ تھا۔

زکوٰۃ کیلئے بیت المال شرط ہے یا پھر اجتماعیت مگر لوگ اپنی مرضی سے زکوٰۃ کی رقم جہاں چاہتے ہیں لگاتے ہیں۔

جب ان ساری جگہوں پر گنجائش نکل چکی ہے تو کیا ہندوستان جیسے ملک میں جہاں میڈیا پرامن معاشرہ کی اہم ضرورت ہے اس میں زکوٰۃ کی رقم لگانا کیوں جائز نہیں ہے۔

جو لوگ واقعی لکیر کے فقیر ہیں وہ اس اہم کام میں زکوٰۃ نا سہی صدقہ تو کر سکتے ہیں نا ؟

پھر یہ کہ یہ آواز مسجدوں کے ممبروں سے کیوں نہیں اٹھتی؟ شاید اس لئے کہ علماء کو ڈر ہے کہ جس مال پہ ہم نے اپنا پشتینی حق جمالیا ہے کہیں اس کا بٹوارہ نا ہو جائے۔

اگر یہ رقم میڈیا، غریبوں کی شادی بیاہ، بیماروں کے علاج ومعالجہ اور وکلاء کی فیس وغیرہ میں استعمال نہیں ہوسکتی تو تعلیم پہ بھی خرچ نہیں ہوسکتی کیونکہ اھل صفہ بڑے مفلوک الحال تھے مگر ان پہ زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاتی تھی۔

اور جن حیلوں سے مدارس میں زکوٰۃ و صدقات کا استعمال ہوتا ہے انہیں حیلوں سے دیگر مدات میں بھی اس کا استعمال حالت اضطرار تک جائز اور مناسب ہے ۔واللہ اعلم باالصواب
  •  

 

0 comments

Leave a Reply