وبائی مرض کووڈ -19 کی وجہ سے تین دہائیوں میں مسلسل ویکسینیشن میں آئی سب سے زیادہ کمی

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے جس خطرے سے متنبہ کیا تھا، وہ 2021 کے نئے اعداد و شمار سے عالمی ویکسینیشن کوریج میں آرہی مسلسل کمی سے ظاہر ہوتا ہے، 2.5 کروڑ شیر خوار بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسین نہیں لگ پائی ہے ۔

 

 

  جنیوا/نیو یارک، 15 جولائی 2022 – لگ بھگ 30 سالوں میں بچپن کے حفاظتی ٹیکوں میں متواتر سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی اور ان سرکاری اعداد وشمار کو ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے آج جاری کیا ہے ۔ 

 جن بچوں نے ڈپتھیریا، ٹٹنس اور کالی کھانسی کی تینوں خوراکیں لیں - جو کہ اندرون ملک اور دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کے کوریج کا اشاریہ ہے اس کی شرح میں کمی آئی ہے ۔ یہ 5 فیصد پوائنٹ کی گراوٹ 2019 اور 2021 کے درمیان کی ہے اور یہ 81 فیصد رہ گئی ہے ۔

نتیجہ کے طور پر، صرف 2021 میں ہی 25 ملین بچوں نے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی سہولیات کے ذریعہ دی جانے والی ڈی ٹی پی کی ایک یا اس سے زیادہ خوراکوں سے محروم رہے ۔ یہ تعداد 2020 میں محروم رہنے والے بچوں کے مقابلے میں 20 لاکھ اور 2019 کے مقابلے میں 60 لاکھ زیادہ ہے، یہ اعداد ایسے بچوں کی بڑھتی تعداد کو نمایاں کرتے ہیں جن کی زندگی خطرہ میں ہے جبکہ انہیں روک تھام کی جانے والی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے ۔ یہ کمی کئی عوامل کی وجہ سے آئی ہے، جن میں تنازعات اور نازک ماحول میں رہنے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے جہاں حفاظتی ٹیکوں تک رسائی اکثر چیلنج ہوتی ہے، غلط معلومات میں اضافہ اور کووڈ -19 سے متعلقہ مسائل جیسے سروس اور سپلائی چین میں رکاوٹیں، ریسپانس کی کوششوں میں وسائل کا رخ موڑنا، اور کنٹینمنٹ ایسے اقدامات ہیں جو حفاظتی ٹیکوں کی خدمات تک رسائی اور دستیابی کو محدود کرتے ہیں ۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا "یہ بچوں کی صحت کے لیے خطرناک صورتحال ہے ۔ ہم ایک نسل میں بچپن میں دیئے جانے والے حفاظتی ٹیکوں میں سب سے زیادہ مسلسل کمی دیکھ رہے ہیں ۔اس کے نتائج کی پیمائش زندگیوں میں کی جائے گی، جبکہ گزشتہ سال کووڈ -19 کی رکاوٹوں اور لاک ڈاؤن کے دوران وبائی بیماری کے برے نتائج کی توقع کی جا رہی تھی، جیسے کہ ہم اب خود دیکھ رہے ہیں وہ ہے مسلسل گراوٹ ۔ کووڈ -19 کوئی بہانہ نہیں ہے ۔ ہمیں ٹیکہ کاری کیچ اپ یعنی جو لاکھوں بچے حفاظتی ٹیکے لگوانے سے چھوٹ گئے ہیں، ان تک پہنچنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم لامحالہ وباء کے ناگزیر پھیلاؤ، زیادہ بیمار بچوں اور پہلے سے ہی تناؤ کا شکار صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ کا مشاہدہ کریں گے ۔
سال 2021 کے دوران 2.5 کروڑ بچوں میں سے 1.8 کروڑ بچوں کو ڈی ٹی پی کی ایک بھی خوراک نہیں ملی، ان میں سے زیادہ تر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں، بھارت، نائیجیریا، انڈونیشیا، ایتھوپیا اور فلپائن میں ان کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ۔ جہاں سب سے زیادہ بچوں نے 2019 اور 2021 کے درمیان ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں لی، وہ ممالک ہیں میانمار اور موزامبق ۔

 عالمی سطح پر، 2019 میں ہیومن پیپی لوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کی کوریج میں جو کامیابی حاصل کی تھی، اس کی ایک چوتھائی سے زیادہ ضائع ہو گئی ۔ اس کے خواتین اور لڑکیوں کی صحت پر سنگین نتائج پڑیں گے، کیونکہ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کا لائسنس ملے پندرہ سال سے زیادہ کا عرصہ بیت جانے کے باوجود عالمی سطح پر ایچ وی پی کی پہلی خوراک کی کوریج محض 15فیصد ہے ۔ 

امید کی جا رہی تھی کہ 2021 بحالی کا سال ہو گا جس کے دوران حفاظتی ٹیکوں کے تناؤ والے پروگرام دوبارہ شروع ہوں گے اور جو بچے 2020 میں چھوٹ گئے ہیں انہیں ٹیکے لگائے جائیں گے ۔  اس کے بجائے، DTP3 کوریج کی 2008 والی سطح اپنی کم ترین سطح پر واپس پہنچ گیا، ساتھ ہی دیگر بنیادی ٹیکوں کی کوریج میں بھی کمی آئی، دنیا عالمی اہداف کو پورا کرنے والے راستے سے آف ٹریک ہو گئی ۔ جس میں پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے اشارے بھی شامل ہیں ۔ 

حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں تاریخی طور پر پسپائی شدید غذائی قلت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کے پس منظر میں ہو رہی ہے ۔ ایک عدم غذائیت کا شکار بچے کی قوت مدافعت پہلے ہی کمزور ہوتی ہے اور ٹیکے لگوانے کے موقع کو کھونے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بچپن کی عام بیماریاں جلد ہی ان کے لئے جان لیوا ہو سکتی ہیں ۔ امیونائزیشن کے بڑھتے ہوئے فرق کے ساتھ بھوک کے بحران کا اکٹھا ہونا بچوں کی بقا کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے ۔

ویکسین کوریج میں گراوٹ ہر خطے میں آئی ہے، مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے نے DTP3 کوریج میں سب سے تیز الٹ بدلاؤ پایا گیا، صرف دو سالوں میں نو فیصد پوائنٹس کی گراوٹ آئی ۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ادنوم گیبریئس نے کہا، "کووڈ-19 کی منصوبہ بندی اور اس سے نمٹنے کے ساتھ ہی جان لیوا بیماریوں جیسے خسرہ، نمونیا اور ڈائریا کے لئے  ویکسینیشن جاری رہنا چاہئے ۔"  "یہ دونوں میں سے کسی ایک کا سوال نہیں ہے، دونوں کرنا ممکن ہے"۔

کچھ ممالک نے خاص طور پر گراوٹ کو روک دیا ۔ یوگنڈا نے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں میں اعلیٰ سطح کی کوریج کو برقرار رکھا، جب کہ صحت کارکنوں کے ساتھ ترجیحی آبادیوں کے تحفظ کے لیے ہدف شدہ کووڈ-19 ویکسینیشن پروگرام شروع کیا گیا ۔ اسی طرح پاکستان اعلیٰ سطحی حکومتی عزم اور حفاظتی ٹیکوں کی اہم کوششوں کی بدولت وبائی مرض سے پہلے کی کوریج پر واپس آگیا ہے ۔ ایک وبائی مرض کے درمیان اس کو حاصل کرنے کے لیے اس کی تعریف کی جانی چاہئے، جب صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور صحت کارکنان نمایاں دباؤ کا شکار تھے ۔ 

کوریج کے عالمی سطح تک پہنچنے اور وباء کو روکنے کے لیے بڑی کوششوں کی ضرورت ہوگی ۔  ناکافی کوریج کی سطح کے نتیجے میں پہلے سے روکے جانے کے قابل خسرہ و پولیو کے پھیلنے کا خطرہ پچھلے 12 مہینوں میں سامنے آیا ہے، جو بچوں، نوعمروں، بڑوں اور معاشروں کو صحت مند رکھنے میں حفاظتی ٹیکوں کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے ۔
2021 میں خسرہ کی پہلی خوراک کی کوریج 81 فیصد تک گر گئی، جو 2008 کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ 24.7 ملین بچوں نے 2021 میں خسرہ کی

پہلی خوراک نہیں لی، جو 2019 کے مقابلے میں 5.3 ملین زیادہ ہے ۔ مزید برآں 14.7 ملین کو مطلوبہ دوسری خوراک نہیں ملی ۔ اسی طرح 2019 کے مقابلے میں 6.7 ملین سے زیادہ بچوں نے پولیو ویکسین کی تیسری خوراک نہیں لی اور 3.5 ملین کو HPV ویکسین کی پہلی نہیں ملی ۔ جو لڑکیوں کو بعد کی زندگی میں سروائیکل کینسر سے بچاتی ہے ۔
 دو سال کی شدید کمی تقریباً ایک دہائی کی رکی ہوئی ترقی کا ہی تعاقب کرتی ہے، وبائی امراض سے متعلق رکاوٹوں کو حل کرنے کی ضرورت پر زور نہیں دیتی بلکہ ہر بچے اور نوعمر تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے منظم حفاظتی ٹیکوں کے چیلنجرز کو سمجھنے پر بھی زور دیتی ہے ۔ 

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف عالمی امیونائزیشن ایجنڈہ 2030 کے لئے گاوی، ویکسین الائنس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تمام ممالک کے لئے حکمت عملی اور متعلقہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہر ایک کو، ہر جگہ ویکسین فراہم کرنے اور حفاظتی ٹیکوں کے ذریعہ روک تھام کی جانے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ 

گاوی ویکسین الائنس کے سی ای او ڈاکٹر سیٹھ برکلے نے کہا کہ " لگاتار دوسرے سال قابل علاج بیماریوں سے تحفظ سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافہ دل دہلانے والا ہے ۔ الائنس کی ترجیح ممالک کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں کو برقرار رکھنے، بحال کرنے اور مضبوط بنانے کی ہونی چاہئے، اس کے ساتھ ہی کووڈ -19 ویکسینیشن کے بلند منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کرنے کی بھی، یہ صرف ویکسین کے ذریعے ہی نہیں بلکہ صحت کے نظام کے لیے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کے ہم آہنگ ہو جو اس کا انتظام کرے گا،‘‘
آیئے 2030 شراکت دار حکومتوں اور  امر معاملہ کارکنوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ:

معمول کے حفاظتی ٹیکہ کاری میں آئی کمی سے نمٹنے کے لیے کیچ اپ ویکسینیشن کے لیے کوششں تیز ہونی چاہئے، اور محدود وسائل والے علاقوں میں ایسے بچے جو ٹیکوں سے چھوٹ گئے ہیں، ان تک پہنچنے کے لیے آؤٹ ریچ سروسز کو وسعت دیں اور وباء کو روکنے کے لیے مہمات کو نافذ کریں ۔

ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور خاص طور پر کمزور کمیونٹیز میں ویکسین کے استعمال کو بڑھانے کے لیے شواہد پر مبنی، لوگوں پر مبنی اور موزوں حکمت عملیوں کو نافذ کریں ۔

 موجودہ وبائی امراض کی تیاری اور ردعمل کو یقینی بنائیں اور عالمی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنا جو بنیادی صحت کی دیکھ بھال (PHC) خدمات میں سرمایہ کاری کا باعث بنے، ضروری حفاظتی ٹیکوں کو مضبوط اور برقرار رکھنے کے لیے واضح تعاون کے ساتھ؛

 قومی حکومتوں سے سیاسی وابستگی کو یقینی بنائیں اور PHC کے اندر حفاظتی ٹیکوں کو مضبوط اور برقرار رکھنے کے لیے گھریلو وسائل کی تقسیم میں اضافہ کریں ۔
صحت سے متعلق معلومات اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو ترجیح دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اثر ڈالنے والے پروگراموں کے لیے ضروری ڈیٹا اور نگرانی فراہم کی جا سکے ۔  
نئی اور موجودہ ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کی خدمات ڈولپ کرنے کے لئے تحقیق اور بہتر بنانے کے لئے سرمایہ کاری کو بڑھانا اس سے کمیونٹی کی ضروریات پوری ہو سکیں گی اور  کے اہداف کو بھی حاصل کیا جا سکے گا ۔

 

 

0 comments

Leave a Reply