سی جے پی کا جنتر منتر نہ چھوڑنے کا اعلان، پولیس پر پانی نہ پہنچنے دینے کا الزام
"مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جنتر منتر پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور وہاں سے نہیں ہٹیں گے"
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جنتر منتر پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ’’دہلی پولیس احتجاجی مقام تک پانی نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔‘‘
اس سے قبل ہفتہ کے روز احتجاج شروع ہونے کے بعد شام کے وقت سی جے پی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جنتر منتر پر دھرنا جاری رہے گا۔
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی ہفتہ کو دوسری بار دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس سے اپیل کی تھی کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت میں توسیع کی جائے۔ تاہم موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو دھرنا گاہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دلنواز پاشا نے بتایا کہ اس وقت احتجاجی مقام پر تقریباً 150 سے 200 مظاہرین موجود ہیں اور پولیس نے مزید لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا ہے۔
اس سے قبل شام کے وقت دہلی پولیس کے اہلکار ایک پوسٹر لے کر دھرنا گاہ پر موجود تھے، جس میں مظاہرین سے فوری طور پر مقام خالی کرنے کی اپیل کی گئی تھی کیونکہ احتجاج کے لیے دی گئی مقررہ مدت ختم ہو چکی تھی۔
دوسری جانب ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنتر منتر پر موجود ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لیے آ رہی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کو دیکھنے والے ملک بھر کے تمام نوجوان اپنے اپنے اضلاع میں "جیل بھرو تحریک" شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، یہ تحریک رکنی نہیں چاہیے۔
ابھیجیت دیپکے نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ تمام احتجاجی سرگرمیاں پرامن انداز میں انجام دی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق شرائط پر بات چیت کے لیے ان کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولے۔
سی جے پی اِز بیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "دیپکے نے پولیس سے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت میں توسیع کی اپیل کی ہے اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔"
سی جے پی نے ہفتہ کی شام تقریباً 5:30 بجے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "دہلی پولیس ایک پرامن احتجاج کو غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ آخر امن کب سے غیر قانونی ہو گیا، دہلی پولیس؟"
پارٹی نے مزید کہا، "ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک دھرمیندر پردھان کی مبینہ غفلت کے باعث جان گنوانے والوں کو انصاف نہیں مل جاتا۔"
ہفتہ کے روز ایک اور پوسٹ میں سی جے پی نے لکھا، "دہلی، اب گھروں سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم تمام طلبہ، والدین اور باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ آج (ہفتہ) شام 6 بجے جنتر منتر پر جمع ہوں اور ایک واضح مطالبہ کریں: دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔"

0 comments